پولیس اہلکاروں اور شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے دال چاول

لاہور:(اعتدا آن لائن)
پولیس اہلکاروں اور شہداء کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے دال چاول
۔ وطن عزیز میں قیام امن کے حوالے سے عوام اور فورسز دونوں کی قربانیوں سے انکار ممکن نہیں ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مجموعی طور پر پولیس کے شہداء کی تعداد سب سے ذیادہ بتائی جاتی ہے۔میاں شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر پنجاب حکومت کی جانب سے سیف سیٹیز منصوبہ قائم کیا گیا جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے عوام کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے اس منصوبہ کی سربراہی محکمہ پولیس پنجاب کے ایک ایسے آفیسر کے سپرد کی گئی جو متعدد شعبہ جات میں اپنی مہارت اور خداد صلاحیتوں کا حامل تو تھا مگر ہر گزرتے دن اسکی صلاحیتوں کے جوہر منظر عام پر آنے لگے ۔ حالیہ دنوں ملک بھر میں بالعموم جبکہ پنجاب میں بالخصوص اس پولیس آفیسر اکبر ناصر خان کی صلاحیتوں کو ایک اچھوتے منظر نامے کے تحت سراہا جارہا ہے۔دال چاول ویسے تو ہر شخص کی پسندیدہ خوراک ہے۔ مگر لاہوریوں سے اس ڈش کو خاصی رغبت بھی ہے مگر اکتوبر کے مہینے میں یہی دال چاول کسی دکان ۔ ریڑھی کے بجائے ۔ فلم دال چاول سے نام سے پردہ سکرین پر آرہی ہے جس میں پولیس کی قربانیوں کو زمینی حقائق کے تناظر میں اچھوتے انداز سے پیش کیا گیا ہے
۔ میڈیا رپورٹس کے مطابقتھرل،رومانس اور ایکشن سے بھرپور فلم دال چاول 4اکتوبر کو ریلیز ہوگی جس میں وطن کے لیے جان نچھاور کرنے والے شہید پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ۔ یہ فلم 4 اکتوبر کو ملک بھر کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی تھرل،رومانس اور ایکشن سے بھرپور فلم” دال چاول” 4 اکتوبر کو سینما گھروں کی زینت بنے گی، فلم میں شہدا اور پولیس کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
فلم ”دال چاول” کی کاسٹ میں احمد سفیان، اداکارہ مومنہ اقبال، سلمان شاہد اور شفقت چیمہ مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ فن کلب پروڈکشن کے بینر تلے بنائی جانے والی ’دال چاول‘ کی ہدایات اویس خالد نے دی ہیں ۔ فلم "دال چاول ” میں معروف گلوکار راحت فتح علی خان سمیت جبار عباس اور ماریہ میر نے اپنی آواز کا جادو جگایا ہے ۔ فلم کی شوٹنگ لاہور کے مختلف مقامات پر کی گئی ہے ، خاص طور پر وہ مقامات جہاں ماضی میں دہشت گردی کی سرگرمیاں رونما ہوئیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دال چاول کے پروڈیوسر ڈی آئی جی اکبر ناصر خان ہیں ، جنہوں نے فلم کے اسکرپٹ اور ڈائیلاگ دونوں ہی قلمبند کیے ہیں۔ جبکہ موسیقی بھی انہوں نے ہی ترتیب دی ہے ۔
فلم کی کہانی ایک تعلیم یافتہ نوجوان احمدکی جدوجہد کے گرد گھومتی ہے اس فلم میں ان تمام سماجی مسائل کواُجاگر کیاگیا ہے جومعاشرے میں جرائم کاسبب بنتے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ناصر اکبر خان سیف سٹی پاکستان پلان کے انچارج کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس سے قبل وہ پولیس اور فوج کی خدمات کے بارے میں بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔ اس فلم کا مقصدجہاں پاکستانی فلم انڈسٹری کو فروغ دینا ہے وہیں فلم میں پولیس کو درپیش مشکلات اوران سے نمٹنے کے لیے پولیس کی کوششوں پر بھی بات کی گئی ہے ۔ ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں