حکومت کو جانا ہوگا، اپوزیشن

حکومتی استعفے کے بعد فی الفور منصفانہ اور صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی،اسفند یار ولی خان اور بلاول کی ملاقات میں فیصلہ[/caption]

ممکنہ سیاسی بحران سے بچنے کیلئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا گیا
،پیپلزپا رٹی اے این پی نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کا ساتھ دینے کا اعلان بھی کردیا
سربراہ جمعیت علماء اسلام ف سے حکومت مخالف تحریک کے طریقہ کارپر مشاورت کیلئے کل جماعتی کانفرنس یا رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست
حکومتی استعفے کے بعد فی الفور منصفانہ اور صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی،
انتخابات فوج کی نگرانی کے بغیر کرائے جائیں، فرحت اللہ بابر، میاں افتخار حسین کی میڈیا سے بات چیت
دونوں جماعتوں کی تمام اپوزیشن سے درخواست کہ حکومت اپوزیشن میں دراڑ کی منتظر ہے، حکومت کو کوئی ایسا موقع نہ دیا جائے جس کا وہ فائدہ اٹھائے
اسلام آباد(محمد اکرم عابد ) اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے ایک بار پھر ممکنہ سیاسی بحران سے بچنے کیلئے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا، مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کا ساتھ دینے کا اعلان بھی کیاگیا ہے اور سربراہ جمعیت علماء اسلام ف سے درخواست کی گئی ہے کہ حکومت مخالف تحریک کے طریقہ کارپر مشاورت کیلئے کل جماعتی کانفرنس یا رہبر کمیٹی کا اجلاس طلب کیاجائے ، پیپلزپارٹی اور اے این پی نے 27اکتوبر کے آزادی مارچ کی مدد اور لائحہ عمل کیلئے مشاورتی اجلاس طلب کرلیے چارٹر آف ڈیمانڈ میں کہاگیا ہے کہ حکومتی استعفے کے بعد فی الفور منصفانہ اور صاف شفاف انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے مشترکہ جدوجہد کی جائے گی، انتخابات فوج کی نگرانی کے بغیر کرائے جائیں، اپوزیشن کی تمام جماعتوں سے درخواست ہے کہ حکومت اپوزیشن میں دراڑ کی منتظر ہے، حکومت کو کوئی ایسا موقع نہ دیا جائے جس کا وہ فائدہ اٹھائے۔ تفصیلات کے مطابق اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے قائدین کے درمیان اتوار کو اسلام آباد میں اہم ملاقات ہوئی۔پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی سے اسلام آباد میں ملاقات کی ۔ فرحت اللہ بابر، نیر بخاری اور مصطفی نواز کھوکھر بھی ملاقات میں شری تھے ۔ میاں افتخار حسین، امیر حیدر خان ہوتی، شاہی سید اور زاہد خان نے اپنی جماعت کے سربراہ کی معاونت کی ۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورت حال اور حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک پر بات چیت کی گئی۔

مزید پڑھیں:بلاول بھٹو اور شہبازشریف کی ملاقات؛ آزادی مارچ پر تبادلہ خیال

دونوں جماعتوں نے ملک میں ممکنہ سیاسی بحران کے پیش نظرحکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے ۔ ملاقات ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہی۔ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہاکہ اپوزیشن متحد ہے،ساری اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ موجودہ سیٹ اپ قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ احتجاجی تحریک کے طریقہ کار پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے۔ اصولی طورپر سب نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے اعلان کی حمایت کی ہے اور اس کا خیر مقدم کیا تاہم احتجاجی تحریک کے طریقہ کار پر مزید بات چیت ہونی چاہیے اس کیلئے کل جماعتی کانفرنس بھی طلب کی جاسکتی ہے اور رہبر کمیٹی کے اجلاس میں بھی غور کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں حکومت کیخلاف احتجاجی تحریک کے طریقہ کار پر مشاورت کی جائے گی۔موجودہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے اپوزیشن متحدہے اور متحد رہے گی ۔ اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ اس حکومت کو جانا ہوگا، معیشت تباہ ہوچکی ہے، دونوں جماعتیں اپنا اپنا اجلاس بھی طلب کررہی ہیں، کور کمیٹی کے اجلاس میں 27اکتوبر کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیاجائے گا،اپوزیشن مل کر آگے بڑھے۔کورکمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ احتجاجی تحریک کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔

 مزید پڑھیں:حکومت کی مشکلات میں مزید اضافہ ، کے پی کے ڈاکٹرز نے آزادی مارچ کی حمایت کا اعلان کردیا

ہمارا مشترکہ واضح مطالبہ ہے کہ صاف شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے کہاکہ ساری اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں، خواہش ہے کہ متحدہوکر آگے بڑھیں مولانا فضل الرحمن نے 27اکتوبر کو آزادی مارچ کا اعلان کیا ہے ساری اپوزیشن جماعتوں کی خواہش اور کوشش ہوگی کہ 27 تاریخ اپوزیشن کی تاریخ بن جائے۔ مولانا فضل الرحمن کوتجویز دی ہے کہ آل پارٹیز میں مزید مشورہ کرلیں ، رہبر کمیٹی بھی موجود ہے ، مشترکہ لائحہ عمل سے حکومت گرانے کے امکانات زیادہ روشن ہوں گے ۔ ہم اپوزیشن میں اتحاد چاہتے ہیں اور یقیناً مولانا فضل الرحمن بھی یہی چاہتے ہوں گے موجودہ سیٹ اپ کسی اپوزیشن جماعت کو قابل قبول نہیںہے۔ صاف شفاف انتخابات کا اعلان کیا جائے اور یہ انتخابات فوج کی نگرانی کے بغیرہوں۔2018 کے بعد جتنے بھی ضمنی اور قبائلی اضلاع کے انتخابات ہوئے اپوزیشن نے متفقہ طورپر مطالبہ کیا کہ عام انتخابات صاف شفاف نہیں تھے نئے عبوری انتخابات فوج کی نگرانی کے بغیر ہوں اور یہ انتخابات اداروں کی مداخلت کے بغیر ہوں۔ رابطوں پر اتفاق کیا گیا ہے پیپلزپارٹی اورعوامی نیشنل پارٹی بھی رابطے میں رہیں گی انہوں نے کہاکہ حکومت اس بات کیلئے کوشاںہے کہ اپوزیشن میں دراڑ پڑے اور وہ اس کا فائدہ اٹھائے۔ مولانا فضل الرحمن سے توقع ہے کہ تمام ساتھیوں کو مزید اعتماد میں لیںگے اور اس بات کا مل کر تعین کیاجائے گا احتجاجی تحریک کیلئے کہاں تک جاسکتے ہیں، ہم نے آزادی مارچ کا مدد فیصلہ کیا ہے اور ابھی اس مدد اورتعاون کے سلسلے میں طریقہ کار کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن یہ بیڑہ اٹھا رکھا ہے۔ مزیدمشاورت کریں۔ سب ساتھ دیں گے ، ہم ایک ہیں ایک رہیں گے ، حکومت کو اس بات کا موقع نہیں دیں گے کہ وہ اپوزیشن کے حوالے سے کسی چیز کافائدہ اٹھائے۔ حکومت پاکستان کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہے ۔

 ضرور پڑھیں:فضل الرحمان کی کتنی مدد کر سکتے ہیں، مشاورتی اجلاس بلایا ہے: بلاول بھٹو

اپنا تبصرہ بھیجیں