مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں سے متعلق بھارتی وفاقی حکومت کے پاس کوئی معلومات نہیں

نئی دہلی(ساؤتھ ایشین وائر):بھارتی وزارت داخلہ کے پاس اگست میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعدجموں و کشمیر میں ٹیلی مواصلات اور انٹرنیٹ پر پابندیوں، ریڈیو اور سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کی سہولیات کی معطلی، سیاحوں کی بے دخلی اور سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لینے کے کسی بھی احکامات کے بارے میں معلومات نہیں ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اسے حراست میں لیے گئے افراد کے ناموں اور ان کے مقامات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے ۔
ساؤتھ ایشین وائرکے مطابق ایک شہری وینکٹیش نائک کی طرف سے معلومات کے حصول کے حق ( آر ٹی آئی )کے تحت ایک دائر کی گئی درخواست کے جواب میں ، وزارت داخلہ کے جموں و کشمیر ڈویژن کے دو مرکزی انفارمیشن افسروں نے کہا کہ ان کے پاس کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
وزارت نے کہا ، "یہ معلومات ریاست جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت کے پاس دستیاب ہوسکتی ہے۔”
تاہم ، آر ٹی آئی کی درخواست جموں وکشمیر حکومت کو نہیں ارسال کی جاسکی کیونکہ ریاست میں آر ٹی آئی ایکٹ ، 2005 لاگو نہیں ہے۔جس کے مطابق یہ اختیار صرف ریاست کے مکینوں کے لئے دستیاب ہے۔
جموں و کشمیر حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے ساؤتھ ایشین وائرکو بتایا کہ آر ٹی آئی ایکٹ ، 2005 سمیت مرکزی قوانین تب ہی جموں و کشمیر میں نافذ العمل ہوں گے جب وہ 31 اکتوبر کو مرکزکے تحت آجائے گا۔
آر ٹی آئی درخواست داخل کرنے والے ایک شہری وینکٹیش نائک نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ ریاست جموں و کشمیر19 دسمبر ، 2018 سے براہ راست مرکز کے تحت چل رہی ہے اور یہ کیسے ممکن تھا کہ وزارت داخلہ کے پاس سفر اور ٹیلی کام پر پابندی عائد کرنے کے احکامات کے بارے میں معلومات موجود نہ ہوں۔
انہوں نے ساؤتھ ایشین وائر کو بتایا کہ گورنر اور ریاستی مقننہ کے تمام اختیارات صدر جمہوریہ کو منتقل کردیئے گئے ہیں اورریاست کے گورنر کے ذریعہ مرکزی حکومت کی رہنمائی میں ریاستی حکومت کا کام انجام دیا جارہا ہے۔ ”
ان کا کہنا تھا کہ سفر اور ٹیلی مواصلات پر کسی قسم کی پابندی عائد کرنے کے کسی بھی آرڈر کی کاپی کم ازکم مرکزی وزارت داخلہ کو کی جاتی ہے۔
ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق وینکٹیش نائک نے بھارتی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 370 میں ترمیم کے بارے میں 30 اگست کو اپنی آر ٹی آئی درخواست دائر کی۔ متعلقہ احکامات کی کاپیوں کے علاوہ انہوں نے سیاسی رہنماؤں کے نام بھی طلب کیے اور حراست یا زیر حراست کارکنان ، ان کے پتے جہاں وہ رکھے جارہے ہیں ، اور وہ قانون جس کے تحت انہیں حراست میں لیا گیا تھا، کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنے کی درخواست کی۔
پہلے تو سنٹرل پبلک انفارمیشن آفیسر( CPIO )ٹی سری کانت نے کہا کہ ان کے پاس کوئی معلومات دستیاب نہیں ہے ، اور استفسار پر دوسرے سی پی آئی او کو بھیج دیا گیا۔ اس نے جواب دیا کہ "آپ کی طلب کردہ معلوماتCPIO کے پاس دستیاب نہیں ہے۔”
اس سے قبل ایک آر ٹی آئی کارکن نوتن ٹھاکر کی جانب سے آرٹیکل 370 میں ترمیم کے فیصلے کی فائل کی کاپی کے لئے کی گئی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں