علی امین گنڈہ پور کامولانا فضل الرحمان پر50 ارب روپے ہرجانہ کا لیگل نوٹس ارسال

اسلام آباد (محمداکرم عابد) وفاقی وزیر امور کشمیرو گلگت بلتستان علی امین گنڈہ پور نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان پر پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہچانے کا سنگین الزام عائد کردیا،خارجہ و اہم معاملات پر مولانا کے بیانات کو متنازعہ قراردیتے ہوئے پندرہ دنوں میں معذرت نہ کرنے کی صورت میں پچاس ارب روپے کے ہرجانہ کا دعوی دائر کرنے کا اعلان کردیا لیگل نوٹس ارسال کردیا گیا،مولانا الیکشن میں عبرتناک شکست کا بدلہ پاکستانی عوام سے نہیں لے سکتے اور نہ آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا آئیڈیا فلوٹ کریں،ہمیں معلوم ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ کے لئے کہاں سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔ وقت آنے پر ثبوت منظر عام پر لائیں گے، بھارت کے خلاف یوم سیاہ کے موقع پر مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کر کے کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں ان خیالا ت کا اظہارمولانا کے انتخابی حلقہ میں ان کے سیاسی حریف علی امین گنڈہ پور نے پیر کویہاں پی آئی ڈی کے میڈیا سنٹرمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کو ان کے آبائی گھر عبدالخیل، تحصیل پہاڑپور ڈی آئی خان کے پتے پر لیگل نوٹس ارسال کیا گیا ہے۔ علی امین گنڈہ پور نے کہا کہ مولانا نے ایک مذموم ایجنڈے کے تحت پاکستان کی ریاست کو متنازعہ اور نفرت کا نشانہ بنانے کے لئے ایسے وقت میں بے بنیاد مہم شروع کی۔ جب ریاست، حکومت اور عوام بھارتی مقبوضہ کشمیر پر قابض بھارتی فوج کے ظلم و ستم کے خلاف یکسو ہیں۔ان کی موجودہ مہم صرف مودی کو ریلیف دینے کے کام آ رہی ہے۔اسی طرح مسئلہ قادیانیت پر مسلسل دروغ گوئی کی جا رہی ہے۔ حالانکہ اس مسئلے کو آئین میں طے کر دیا گیا ہے اور پاکستان کی کوئی بھی حکومت اس سے روگردانی کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔جبکہ موجودہ وزیراعظم عمران خان سچے عاشق رسولۖ ، مدینے کی ریاست کے داعی اور امت مسلمہ کے حق میں اسلاموفوبیا کے خلاف سب سے بڑی عالمی آواز ہیں۔ یہ کہ پاکستان 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی پناہ گاہ اور ایک ارب 40 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز ہے۔علی امین گنڈہ پورنے کہا کہ پاکستان کے ووٹرز نے مولانا کو پچھلے الیکشن میں نہ ہونے کے برابر ووٹ دیئے۔ مولانا الیکشن میں عبرتناک شکست کا بدلہ پاکستانی عوام سے نہیں لے سکتے اور نہ آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا آئیڈیا فلوٹ کریں۔وفاقی وزیرامورکشمیر نے واضح کیا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے حقوق کا غاصب ہے۔ قبلہ اول پر اس کا ناجائز قبضہ ہے اور فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی ان کا پیدائشی اور تاریخی تسلیم شدہ جائزحق ہے۔ مولانا کی اسرائیل تسلیم کرنے کے بارے میں گمراہ کن تقریر سخت گرفت کے قابل ہے۔ نوٹس میں مزیدکیا گیا ہے کہ مذکورہ سیاسی تقریر کا ایک اور انتہائی قابل اعتراض حصہ سابقہ فاٹاکے بارے میں ہے جو تخلیق پاکستان اور پھر 12th اکتوبر 1973ء سے آئین پاکستان کے Article-1 میں پاکستان کا وفاقی یونٹ ہے۔ اس حوالے سے مولانا نے فاٹا انضمام اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے قبضے کا موازنہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ سال ہا سال کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے۔ کیا آپ درج ذیل کھلی سچائیوں سے ناواقف تھے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آپ کو کسی نے نہیں بتایا کہ بانی پاکستان بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح نے بابائے قوم کی حیثیت سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر میں متنازعہ علاقہ ہے۔

 ضرور پڑھیں:علی امین گنڈہ پورکا مولانا فضل الرحمان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

مولانا کو کسی نے نہیں بتایا کہ اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل نے اہلیان کشمیر کی آزادی کے حق میں 12 قراردادیں پاس کر رکھی ہیں؟ کیا آپ نے کبھی نہیں سنا کشمیر کی آزادی میں ایک لاکھ سے زائد کشمیری عوام نے جام شہادت نوٹس کیا اور پورے خطہ جموں و کشمیر میں شہداء کے جدید قبرستانوں کی بستیاں آباد ہوئیں۔ کیا مولانا انکار کر سکتے ہیں یہ سارا ظلم تب ہوا جب آپ کے پاس کشمیر کمیٹی کی گاڑیاں، کشمیر کمیٹی کا بنگلہ، کشمیر کمیٹی کا سرکاری دفتر تھا اور قومی خزانے سے بھاری بجٹ بھی آپ کے پاس تھا۔ کیا آپ کو پتہ نہیں چلا، کشمیر میں 11 ہزار سے زائد عفت مآب ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمت دری ہوئی۔ کیا آپ کو کسی نے نہیں بتایا کہ ایک طرف آپ مذہبی کارڈ بیچ کر پرچی سیاست کر رہے ہیں اور دوسری جانب 13 ہزار مظلوم لڑکے اور لڑکیاں اٹھا کر قابض بھارتی فوج نے غائب کر دیئے ہیں۔ حریت اور مسلمانوں کی ساری قیادت کو کشمیر سے اٹھا کر باہر لے جا کر قی دتنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔ کیا مولانا نے ننھے کشمیری بچوں، جوان لڑکیوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں کے لاشے نہیں دیکھے۔ کیا اسرائیل سے امپورٹڈ پیلیٹ گن( Pellet Guns) سے زخم خوردہ پھول نما چہرے آپ کی نظر سے کبھی نہیں گزرے۔ فاٹا اضلاع کے باشعور عوام جانتے ہیں کہ انضام نے انہیں پاکستان کی ترقی کی اگلی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ فاٹا اندھیروں میں تھا تومولانا خاموش تھے۔ آپ کی یہ مہم سخت مواخذے کی زد میں اتی ہے۔ آپ نے ہمارے مذہبی، قومی اور ذاتی جذبات کی سخت توہین کی۔ لہٰذا آپ کو قانونی تقاضے پورے کرنے کو کہا جاتا ہے۔ آپ نوٹس جاری ہونے کے پندرہ دن کے اندر اندر قومی سطح پر غیرمشروط معافی مانگیں۔ آپ کا یہ جھوٹا پراپیگنڈا جہاں جہاں نشر، پرنٹ اور وائرل ہوا وہاں اور ایسی ہی سب جگہوں پر معافی مانگیں۔ یا بصورت دیگر ہمارے موکل کو 50 ارب روپے بطور ہر جانہ ادا کریں۔ اگر آپ نے اوپر مذکور قانونی تقاضے مقررہ مدت میں پورے نہ کئے تو آپ کے خلاف مجاز عدالتوں قانونی چارہ جوئی ہو گی جس کا حرجہ و خرچہ آپ کے ذمہ واجب الادا ہو گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ کے لئے کہاں سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔ وقت آنے پر ثبوت منظر عام پر لائیں گے۔ مولانا فضل الرحمن کو غیرملکی فنڈنگ بھی ہو رہی ہے۔ مارچ کو کون فنڈنگ کر رہی ہے سب کچھ قوم کو بتائیں گے اور ذمہ داران کو جواب دہ بنائیں گے۔ بھارت کے خلاف یوم سیاہ کے موقع پر مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کر کے کس کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ ثبوت سے قوم کو آگاہ کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں