آزادی مارچ،کسی کو حکومتی رٹ چیلنج نہیں کرنے دینگے ،اجمل وزیر


ڈیرہ اسماعیل خان(ڈسٹرکٹ رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان اور قبائلی اضلاع کیلئے وزیر اعلیٰ کے مشیر اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے مبینہ آزادی مارچ کے حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے اعلان پر ہم قائم ہیں، کسی کو حکومتی رٹ چیلنج نہیں کرنے دینگے ،کوئی خالہ جی کا گھر ہے کہ ملکی ترقی کیلئے کوشاں حکومت کو صرف اپنے اور پاکستان دشمن عناصر کے مفادات کی تکمیل کیلئے چلتا کردیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پرامن احتجاج کے راستے میں کوئی رکاؤٹ نہیں ڈالنے والے مگر جہاں معصوم بچوں کو اپنے مقاصد کیلئے سڑکوں پر لانے، عوام یا حکومتی املاک کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات ہونگی تب سخت ترین ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب عمران خان کو حکومت دی گئی تو ملک ڈیفالٹ کر رہا تھا ، ہم نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا، چوبیس ہزار ارب روپے لوٹنے والوں سے جب چوری شدہ رقم کی وصولی کی بات جاتی ہے کو خطرات مولانا فضل الرحمان کے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا کنٹریکٹ انہیں کس نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ میں پوری دنیا کے سامنے جس انداز سے امت مسلمہ پاکستان اور مظلوم کشمیریوں کا مقدمہ پیش کیا دنیا کی تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے دورہ چین کے موقع پر پروپیگنڈا بریگیڈ کے منفی پروپیگنڈے دم توڑ جائیں گے چین اور پاکستان کے تعلقات اور دوستی لازوال ہے ،مودی کی نواز شریف سے دوستی ہے دھرنا والے نواز شریف کو بچانے کی فکر میں ہیں۔

Ajmal khan wazir Talk with media in D I Khan

آزادی مارچ،کسی کو حکومتی رٹ چیلنج نہیں کرنے دینگے ،اجمل وزیر

Posted by Aitadal News on Tuesday, October 8, 2019

ناموس رسالتۖ کانام لیکر چندہ لیکر حکومت مخالف تحریک ایسے وقت میں چلانا جب ملک کی سرحدوں پر حالات ٹھیک نہیں ہیں ایسی صورت میں دھرنے اور مارچ کرنا پاکستان دوستی قرار نہیں دی جاسکتی ۔ دریں اثنا محسود قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے اجمل خان وزیر نے کہا کہ موجودہ حکومت قبائلی علاقوں کی تیز تر ترقی کیلئے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی محمود خان کے وژن کے مطابق شبانہ روز مصروف عمل ہے جس کا بین ثبوت رواں مالی سال کے دوران ترقیاتی منصوبوں کیلئے مختص کردہ 163ار ب روپے کی خطیر رقم ہے جس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی۔ دریں اثناء نو تشکیل کردہ قبائلی تحصیل شکتوئی کے محسود قومی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے اجمل وزیر نے کہا کہ شکتوئی کو تحصیل کا درجہ دینے کا مطالبہ ایک دیرینہ مطالبہ تھاجسے عملی جامعہ پہنانااللہ تعالی کے کرم سے ہمیں نصیب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ شکتوئی صوبائی کابینہ کی طرف سے تحصیل کا درجہ پانے والی پہلی دو تحصیلوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے بلدیاتی نظام میں چونکہ اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے سلسلے میں تحصیل اور تحصیل ناظم کو محور کی حیثیت حاصل ہو گی لہذا شکتوئی کی عوام اس انقلابی قدم سے فوری طور پر مستفید ہو سکیں
گے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان میں آباد محسود، وزیر، دوتانی اور سلمان خیل قبائل سب برابر ہیں تاہم محسود قبائل کو سینئر پارٹنر ہونے کی بنا پر خصوصی اہمیت حاصل ہے جس کا احترام ہر جگہ اور ہر سطح پر ہو گا۔انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی بھائیوں میں نفاق کا بیج بونے والے ہمارے خیر خواہ نہیں بلکہ ہمیں ترقی کی دوڑ میں پیچھے دھکیلنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی خصوصی توجہ اور قبائل سے ان کی دلی محبت کی وجہ سے موجودہ مالی سال کیلئے 163ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے جس میں سے 152ارب وفاقی حکومت جبکہ 11ارب روپے صوبائی حکومت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انشا اللہ چند سالوں میں قبائلی علاقوں بالخصوص جنوبی وزیرستان اور اس میں بھی خاص کر محسود علاقے کی تقدیر بدل جائیگی کیونکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں محسود قبائل نے جو تکالیف برداشت کیں اور جس جواں مردی اور دلیری سے پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر انہوں نے اس جنگ میں کامیابی حاصل کی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔انہوں نے اس موقع پر بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق قبائلی اضلاع کے تمام خاندانوں کو صحت کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے جو کہ قبائل کیلئے ایک تحفہ ہے جبکہ قبائل کو بلا سود کاروباری قرضے دینے اور دیگر کئی سہولیات کی فراہمی بھی زیر غور ہے۔ وزیر اعلی کے مشیر نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام موجودہ حکومت کا قبائل کے نقطہ نظر سے ایک انقلابی فیصلہ ہے کیونکہ اس سے قبل قبائلی انتظامیہ کا عوام کے ساتھ رویہ غلامانہ دور کا تسلسل تھا جبکہ آج نہ صرف ضلعی انتظامیہ بلکہ اس سے بڑھ کر تمام صوبائی مشینری اور حکومتی نمائندے قبائلیوں کی دہلیز پر جا کر انکی تکالیف اور مشکلات کے ازالے کیلئے موجود ہوتے ہیں۔آخر میں تحصیل شکتوئی کے محسود جرگے نے انہیں اپنے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی قبائلی عوام کی صدیوں پر محیط پسماندگی کا ازالہ ہو گااور وہ بھی مملکت خداداد کے دیگر ترقی یافتہ علاقوں میں میسر بنیادی سہولیات سے مستفید ہو سکیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں