ڈینگی بخار کااگر بروقت اس کا تدارک نہ کیا جائے اور احتیاط سے کام نہ لیا جائے تو یہ ایک وبا کی شکل اختیار کر سکتی ہے ،طبی ماہرین 10

ڈینگی بخار کااگر بروقت تدارک نہ کیا جائے تو یہ ایک وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے ،طبی ماہرین


ڈیرہ اسماعیل خان (غنچہ نیوز) طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈینگی بخارایک عام سی بیماری ہے، لیکن اگر بروقت اس کا تدارک نہ کیا جائے اور احتیاط سے کام نہ لیا جائے تو یہ ایک وبا کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ انہوں

نے کہا کہ یہ وہ بیماری ہے جو یورپ کے علاوہ تقریباً ساری دنیا میں موجود ہے اور ماضی میں ہمارے ہمسایہ ملک بھارت اور سری لنکا میں بھی کافی لوگوں کی جان لے چکی ہے، اس بیماری کا اثر بالغوں کی نسبت

بچوں میں زیادہ شدید ہوتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا میں تقریباً 2 کروڑ کے لگ بھگ لوگ ڈینگی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ اس مرض کی شرح اموات پانچ فیصد سے لے کر30 فیصد تک

ہے۔ یہ بیماری چار مختلف اقسام کے ڈینگی وائرس کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ جسم اور جوڑوں کے شدید درد کی وجہ سے اس بیماری کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے۔ ملیریا کی طرح ڈینگی بخار بھی مچھروں کے کاٹنے کی

وجہ سے ہوتا ہے، لیکن اس میں اینافلیز کی بجائے ایڈیز مچھر شامل ہوتے ہیں جو کہ عام مچھروں کی نسبت زیادہ خطرناک اور بہادر ہوتے ہیں اور دن کے اوقات میں بھی کاٹ سکتے ہیں۔یہ بیماری زیادہ تر بارشوں

کے موسم میں اور ہمارے خطے میں اگست سے اکتوبر تک زیادہ پھیلتی ہے۔ ڈینگی بخار میں مبتلا شخص کے خون میں ڈینگی وائرس موجود ہوتا ہے اورجب ایڈیز مچھر اس کو کاٹ کر کسی تندرست شخص کو کا ٹتاہے تو وہ

وائرس اس میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔عام طور پر ڈینگی بخار کی علامات مچھر کاٹنے کے پانچ سے چھ دن کے بعد ظاہر ہوتی ہیں،تاہم یہ تین سے دس دن تک بھی جا سکتی ہیں۔ ان علامات کا انحصار ڈینگی بخار کی قسم

پر ہوتا ہے اور ڈینگی بخار کی تین اقسام ہوتی ہیں، جن میں کلاسیکل یا سادہ ڈینگی بخار، ڈی ایچ ایف (ڈینگی ہیموریجک فیور) اور ڈی ایس ایس (ڈینگی شاک سنڈروم) شامل ہیں۔ سادہ ڈینگی بخار ایک محدود

مدت کے لئے ہوتا ہے اور موت کا سبب نہیں بنتا، مگر دوسری دو اقسام کی صورت میں اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ بڑا خطرناک ہو سکتا ہے۔اس لئے یہ جاننا بہت ضروری ہوتاہے کہ ڈینگی بخار سادہ ہے یا ڈی

ایچ ایف یا پھر ڈی ایس ایس۔ مندرجہ ذیل علامات اس تشخیص میں مدد دیتی ہیں۔ اچانک بخار کے ساتھ سردی لگنا، شدید سر درد، جوڑوں اور مسلز کے ساتھ آنکھوں میں درد ہونا، بھوک کا نہ لگنا اور شدید کمزوری کا

احساس، منہ کا ذائقہ تبدیل ہو جانا، پیٹ اور گلے میں درد کا احساس، مریض کا خود کو ڈپریس اور بہت بیمار محسوس کرنا، جلد پر گلابی سرخ نشانات کا ظاہر ہونا سادہ ڈینگی بخار کی علامات ہیں۔سادہ ڈینگی بخار کا مکمل

دورانیہ پانچ سے سات دن کا ہوتا ہے اور مریض صحت یاب ہونا شروع ہو جاتاہے۔ڈی ایچ ایف کی صورت میں ان سب علامات کے ساتھ ناک، مسوڑھوں اور قے میں خون کا آنا اور جلد پر گہرے سیاہ

نشانات کا ظاہر ہونا شامل ہے اور اگر ان سب علامات کے ساتھ ساتھ مریض میں شاک کی حالت ظاہر ہونا، اعصاب پر اس کا کنٹرول کم ہونا اور بلڈپریشر کا کم ہو جاناڈی ایس ایس کو ظاہر کرتا ہے۔مادہ ڈینگی

بخار کے مریض کا علاج گھر پر کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ محدود وقتی بخارہے اور اس کا علاج صرف سپورٹواور علامتی ہوتاہے، جیسے پیراسیٹامول کے ساتھ بخار کو کم سطح پر رکھیں، مریض کو اسپرین یا ڈسپرین دینے سے

اجتناب کریں، اگر بخار 102 ڈگری سے زیادہ ہو تو ہائیڈروتھراپی کے ذریعے ٹمپریچر کو کم کریں، مریض کو زیادہ پانی یا شکنجی وغیرہ پلائیں، مریض کو نارمل خوراک دیں، بخار میں درحقیقت جسم کو زیادہ خوراک کی

ضرورت ہوتی ہے اور مریض کو مکمل آرام دیں اور اگر ڈی ایچ ایف یا ڈی ایس ایس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی ہسپتال سے رجوع کریں تاکہ مناسب تشخیص کے بعد ضروری علاج کیا جاسکے، جیسے

پلیٹلیٹس کی منتقلی (بلڈ سیلز کی ایک قسم ہے جو ڈی ایچ ایف اور ڈی ایس ایس میں کم ہو جاتی ہے)۔یاد رکھیں اگر صحیح تشخیص کے ساتھ مناسب علاج کیا جائے تو ڈی ایچ ایف اور ڈی ایس ایس کو بھی کامیابی سے

کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ڈینگی بخار سے بچا کیسے جا سکتا ہے،ہمیں اس کے تدارک کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایڈیز مچھروں کی کی افزائش و نسل کو روکنا اور

ایڈیز مچھروں کے کاٹنے سے بچنا۔مچھروں کی افزائش و نسل صرف کھڑے پانی میں ہوتی ہے، جیسے تالاب، روم ایر کولر، ٹوٹی ہوئی بوتلیں، پرانے ٹائروں اور برتنوں میں کافی دنوں سے کھڑے پانی میں۔اس لئے

اپنے گھروں کے ارد گرد کہیں پانی نہ کھڑا ہونے دیں، واٹر ٹینک اور واٹر کنٹینرز کو ڈھانپ کر رکھیں اور جہاں کہیں مکمل پانی نکالنا ناممکن ہو،وہاں پر 30 ملی لیٹر پیٹرول یا کیروسین آئل ہر 100 لیٹر پانی میں ڈال

دیں اور یہ ہر ہفتہ دہرائیں۔مچھروں کے کاٹنے سے بچنے کے لیے، مچھر بھگانے والے اسپرے، کریم، کوائل اور میٹس وغیرہ استعمال کریں، پورے جسم کو ڈھانپنے والے کپڑے پہنیں، ملیریا اور ڈینگی بخار کے

موسم میں نیکرز اور ٹی شرٹس سے اجتناب کریں، کیڑے مار ادویات کا گھر میں اسپرے کریں اور فوٹو فریم، پردوں،کیلنڈرز اور کونوں میں سپرے کرنا نہ بھولیں۔ اس لئے ہمیں خوفزدہ ہونے کی بجائے احتیاط

کرنے کی ضرورت ہے اور حکومتی اقدامات کا انتظار کئے بغیر جو ہم کرسکتے ہیں وہ کریں، کیونکہ ڈینگی سے بچاو¿ کے لئے عوام کے تعاون کے بغیر اس پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ڈینگی بخار کااگر بروقت تدارک نہ کیا جائے تو یہ ایک وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے ،طبی ماہرین” ایک تبصرہ

جواب دیجئے