پدرم سلطان بود ابو المعظم ترابی

ماضی سے سبق حاصل کر کے حال سدھارا اور مستقبل روشن کیا جا سکتا ہے تاہم آپ ماضی میں رہا اور جیا نہیں جا سکتا ہم اپنے بچوںکو یہ تو زور وشور سے بتا رہے ہیں کہ ہم اس عظیم وعالی مرتبت مقدس وغیرہ ہستی حضرت محمد مصطفی ۖ کے امتی ہیں جنہوں نے جہلاء کو علمائ،خونیوں کو انسان دوست، ظالموں کو رحمدل، جابروںکو حلیم الطبع، وحشیوں کو تہذیب یافتہ، گمراہوں کو ہدایت یافتہ بلکہ بادی ومہدی بنا دیا۔ جنہوں نے آدھی دنیا پر حکومت کی۔ ہم نسل نوکو تحریک آزادی اور قیام پاکستان کے ہیروز کی جرأت وبیباکی، قربانی، قید وبند، آلام ومصاء اور آخر کار تقسیم ہندو وجود پاکستان کی داستانیں تو سناتے اور پڑھاتے ہیں۔ ہم انہیں یہود وہنود اور نصاری کی سازشیوں کے بارے بھی بتاتے اور بھڑکاتے ہیں ہم نئی نسل کو امریکہ ویورپ اور اسرائیل وبھارت کیخلاف تو اکساتے ہیں۔ ہ ماپنی اولادوں کو احمدیوں اور پرویزیوں کی بیخکنی کا درس تو دے رہے ہیں، ہم فقہوں، فرقوں اور مسلکوں کے مابین امتیاز کر کے اپنے بچوں کو ایک دوسرے کا قلع قمع کرنے کا سبق تو دے رہے ہیں۔ مگر یہ نہیں بتا رہے کہ پاکستان زوال کا شکار کیوں معاشرہ تحقیق سے عاری کیوں ہے۔ ہمارے سماج میں تہذیب وتمدن اور ثقافت کا جنازہ کیوں نکل گیا ہے اس لئے نہیں کہ ہم جانتے نہیں، سمجھنے نہیں، شعور وآگہی نہیں رکھتے بلکہ اس لئے کہ چشم پوشی کرتے ہیں۔ یہودی اس سوچ پر مارے گئے کہ وہ اپنے آپ کو اولاد خدا سمجھ کر اس زعم میںمبتلا ہو گئے کہ جب خدا انہی کا ہے تو پھر کیا غم ہے؟ عسائیوں نے سوچا کہ سیدنا یسوع مسیح انسانیت کے گناہوں کا کفارہ ادا کر گئے لہذا انہیں فکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ مسلمان بھی اب سوچے ہوئے ہیں کہ خدا تو ان کا ہے اس لئے کیوں فکر مند ہوں؟ اہلحدیث اور دیوبندی کہتے ہم تو موحد ہیں۔ دنیا بھی ہماری اور آخرت بھی ہماری ہے۔ بریلوی کہتے ہیں کہ ہم تو محبوب خدا ۖ کے عشاق ہیں ہمیں دنیا کی پرواہ نہ آخرت کی۔ پس ان کی شفاعت ہو گی اور ہم ہوں گے۔ شیعہ کہتے ہیں کہ حبیب خدا کے اہلبیت ہمارے ہیں اور ہم ان کے ہیں۔ دنیا وآخرت اور بہشت تو ہماری ہے۔ سنی کہتے ہیں کہ اصحاب رسول ۖ ہمارے ہیں تو ہمیں کسی سے کیا لینا دینا، اور مذکورہ لوگ خود کو راہ حق پر اور باقی سب کو باطل پر خیال کرتے ہیں۔ اپنے کردار وعمل اور ایمان اتقان کو نظر انداز کر کے یہود وہنود اور عیسائیوں کے عیوب پر نگاہ رکھتے ہیں۔ ہم پاکستانی تو ماشاء اللہ ایسے دودھ کے دھلے ہوئے اور آب زم زم سے ہائے ہوئے ہیں کہ ہماری سوسائٹی بھی پاک صاف، ہماری قوم بھی مقدس اور ہمارا ملک بھی پاکیزہ ہے۔ ہم اپنے آپ کو خود کو کوئی نقصان نہیں پہنچا رہے البتہ پوری غیر مسلم دنیا ہمارے درپے ہے۔ یہ ہمارا ولین پختہ خیال ہے حالانکہ ہم اپنے آپ کو، اپنی سوسٹائی کو، اپنی قوم کو اور اپنے ملک کو اپنے کردار وعمل اور قول وفعل سے جتنا نقصان پہنچا رہے ہیں کوئی یہودی، عیسائی، ہندو، قادیانی اور دیگر غیر مسلم نہیں پہنچا رہے۔ پدرم سلطان بود کے علمبردار ہم پاکستانی حضرت محمد ۖ، ان کے اہلبیت، ان کے اصحاب، اولیاء اللہ اور مسلم بادشاہوں سے اپنی نسبت باور کرا کر اپنے روشن ماضی کے تذکرے تو خوب کرتے ہیں مگر اپنا حال درست کرنے کے لئے آمادہ وتیار نہیں۔ غزوہ ہند اور سیدنا امام مہدی کے منتظر ہیں کاش ماضی سے سیکھ کر حل ٹھیک کرتے اور روشن مستقبل کا انتظار کرتے، آج مظلوم خوار نہ ہوتے۔ ہماری بے بسی، بے کسی اور بے حسی تاریخ میں مثال کے طور پر پیش کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں