آزادی مارچ کےخلاف حکومتی شخصیات کی مہم،جے یو آئی کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

جمعیت علماء اسلام ف کا 27اکتوبر کے آزادی مارچ کیخلاف بعض حکومتی شخصیات کی مہم کا نوٹس لے لیا(فائل فوٹو)

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ )جمعیت علماء اسلام ف کے سیکرٹری جنرل سینیٹرمولانا عبدالغفور حیدری نے پارٹی کے 27اکتوبر کو ہونے والے آزادی مارچ کیخلاف بعض حکومتی شخصیات کی مہم کا نوٹس لیتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردیا ، پاکستان تحریک انصاف کے ایک رکن قومی اسمبلی کو نوٹس بجھواتے ہوئے 15 روز میں غیر مشروط معافی نہ مانگ لیں، ٹوئٹس اور جعلی پوسٹ واپس نہ لینے پر پانچ ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا جائے گا جعلی خط سینیٹرمولانا عبدالغفور حیدری سے منسوب کیا گیا تھا۔ ایک وفاقی وزیر جعلی ہدایت نامے سے متعلق اپنی ٹویٹ سے دستبردار ہوگئے، ایم این اے کو نوٹس سپریم کورٹ بار کے سابق صدر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کی طرف سے بجھوایا گیا ہے جوکہ تین صفحات پر مشتمل ہے آزادی مارچ سے متعلق پارٹی و اسلام آباد انتظامیہ کے جھوٹے خط و نوٹیفیکشن پوسٹ کیے جانے کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔گزشتہ روز جاری اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ آزادی مارچ کو بدنام کرنے کیلئے اس مہم کے نتیجے میں پارٹی قیادت ، کارکنوں اور حامیوں کی دل آزاری ہوئی ہے،

مزید پڑھیںعلی امین گنڈہ پور کامولانا فضل الرحمان پر50 ارب روپے ہرجانہ کا لیگل نوٹس ارسال

غیر مشروط معافی مانگی جائے۔ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری کی طرف سے سپریم کورٹ کے سابق صدر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ کی طرف سے بجھوائے گئے اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ میں سینیٹر عبدالغفور حیدری جمعیت علماء اسلام ف کا سیکرٹری جنرل اور سینیٹ آف پاکستان میں پارٹی کا پارلیمانی لیڈر ہوں، جمعیت علماء اسلام (ف) آئین کی شقوں16 اور 17 کے تحت اپنی جمہوری حق کو استعمال کرتے ہوئے 27اکتوبر کو پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کیخلاف آزادی مارچ کررہی ہے۔ یہ نوٹس رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کو بجھوایا گیا ہے جو ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سرکردہ رہنما رہ چکے ہیں اور اب تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ آزادی مارچ کو ناکام بنانے کیلئے چار اکتوبر کو میرے نام سے منسوب ایک جعلی خط جاری کیا گیا جس کی جمعیت علماء اسلام ف کی طرف سے باقاعدہ طورپر تردید کی گئی۔ یہ جعلی خط تسلسل کے ساتھ اصل لیٹر سمجھتے ہوئے شیئر کیا جارہا ہے۔ یہ جعلی خط جس ٹوئٹر اکائونٹ سے جاری کیا گیا اس کی تصدیق کروائی گئی اور یہ ٹوئٹر ہینڈل@AamirLiaquat سے جاری کیا گیا اور اس جعلی خط کو متذکرہ ایم این اے کی طرف سے متعدد لوگوں کو ٹوئٹ کیا گیا۔

 مزید پڑھیں:سوشل میڈیا پر جے یو آئی کے نام سے دھرنے کا جعلی ہدایت نامہ وائرل

سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے کہاکہ نہ صرف ٹویٹ کیا گیا بلکہ سینکڑوں بار یہ ری ٹوئٹ بھی ہورہا ہے۔ ٹوئٹس کے ذریعے جعلی خط پوسٹ کرنے کے نتیجے میں جمعیت علماء اسلام ف کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے اس کے رہنمائوں، قیادت، کارکنوں اور حامیوں کی دل آزاری کی گئی ہے۔ نوٹس میں اسلام آباد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ایک جعلی نوٹیفکیشن کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جسے تسلسل سے ٹویٹ کیا جاتا رہا۔ سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے اپنے وکیل کے ذریعے عامر لیاقت حسین سے 15روز میں غیر مشروط معافی مانگنے ، ٹوئٹس واپس لینے کا کہا ہے۔ نوٹس میں انتباہ کیا گیا ہے کہ ایسا نہ ہونے پر پانچ ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا جائے گا۔ نوٹس عامر لیاقت حسین کو ان کے کراچی کے پتے ہائوس نمبر 12 پرائم ویو اپارٹمنٹس ایف201 اسکیم کلفٹن بلاک کراچی 8اکتوبر کو ارسال کیا گیا جبکہ ترجمان سے جب اس قسم کے جعلی خط کو ایک وفاقی وزیر کی طرف سے بھی ٹویٹ کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس وفاقی وزیر کی ٹوئٹ سے دستبرداری کے بارے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کی ویڈیو بھیج دی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں