اپوزیشن جماعتوں نے چار نکات پر مشتمل پر چارٹر آف ڈیمانڈ کا اعلان کردیا


اسلام آباد(محمداکرم عابد) اپوزیشن جماعتوں نے چار نکات پر مشتمل پر چارٹر آف ڈیمانڈ کا اعلان کردیا، وزیراعظم استعفیٰ دیں اور حکومت ختم کی جائے۔ نئے صاف شفاف انتخابات کا اعلان کیا جائے اور فوج کا ان انتخابات میں کسی مرحلے پر عمل دخل نہ ہو، اسلامی آئینی و قانونی دفعات کا تحفظ کیاجائے گا، اپوزیشن جماعتوں نے سی پیک سے متعلق اتھارٹی بارے صدارتی آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے معاشرے کو فوجی معاشرہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اس سے قبل سابقہ فاٹا کے چیف ایگزیکٹو آفسر کیلئے بھی فوجی افسر کو بھی تعینات کرنے کا قانون جاری کیا گیا تھا، موجودہ حکومت کو مزید وقت دیا گیا تو خطرہ اور خدشہ ہے کہ یہ سارے پاکستان کوبیچ دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینئر اکرم خان درانی، مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال، پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افتخار حسین اور دیگر نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اکرم خان درانی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو ایک مرتبہ پھر آزادی مارچ کی تفصیلات کے بارے میں اعتماد میں لیا ہے ، ساری اپوزیشن جماعتیں حکومت مخالف تحریک پر متفق ہیں، سب نے آزادی مارچ کی حمایت کی ہے ، حکومت کی طرف سے اپوزیشن میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی،

،، فوج کا ان انتخابات میں کسی مرحلے پر عمل دخل نہ ہو، اسلامی آئینی و قانونی دفعات کا تحفظ کیاجائے گا،،

مولانا فضل الرحمن کو مذہبی کارڈ استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، آئین میں اسلامی دفعات اور اسلامی قوانین موجود ہیں اور ہمارے قائد آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہ کر بات کررہے ہیں اسلامی دفعات کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ آزادی مارچ آئین و قانون کے دائرہ کار میں ہوگا اور ہماری جدوجہد بھی آئینی ہے اور مطالبات بھی جائز ہیں۔ انہوں نے بتایا چارٹر آف ڈیمانڈ کے حوالے سے ساری اپوزیشن کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حکومت کو مزید وقت نہیںدینا اس کوچلتے کرنا ہے حکومت کو مزید وقت دینا پاکستان میں مزید تباہی لانے کے مترادف ہوگا، اس حکومت کا خاتمہ کرنا ہے۔ آزاد اور منصفانہ انتخابات کا اعلان کیاجائے جو فوج کے عمل دخل کے بغیر ہوں اور پولنگ اسٹیشنوں کے باہر اور اندر کہیں فوج کی مداخلت نہ ہو۔ اسلامی دفعات کا تحفظ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ اس حکومت نے معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ ملک کو بھکاری بنا دیا ہے اس حکومت نے لوگوں کو بیروزگار کیا اور کارخانے بند ہیںمزدور طبقے کو روزگار نہیں مل رہاکے پی کے کے تمام ڈاکٹرز 12 روز سے ہڑتال پر ہیں۔ 22 ہزار اساتذہ احتجاج پر ہیں۔میڈیا پر قدغن لگائی جا رہی ہیں۔اسٹیل مل اور پی آئی اے کی نجکاری کا کہہ رہے ہیں۔ یہ کشمیر کے بعد ملک کو بھی بیچ رہے ہیں۔تمام اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں۔ اس حکومت کا فوری خاتمہ اور وزیراعظم کا مستعفی ہونے کا مطالبہ ہے۔ فوری طور پر نئے انتخابات کرانے اور فوج کی کسی قسم کی مداخلت نہ ہونے کا بھی مطالبہ ہے۔احتجاج ہمارا آئینی حق ہے پہلے بھی بہت احتجاج کیے۔جتنے مارچ جے یو آئی نے کیے کوئی شیشہ نہ ٹوٹا۔ پہلے سرکاری ٹی وی پر حملہ کیا گیا۔ہم پرآمن لوگ ہیں اور امن سے آنا چاہتے ہیں۔

ایک وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ بیٹھے تو ان کو اٹھنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے وزیراعلی کے پی کے جسے بولنا بھی نہیں آتا اور لکھ کربیان دیا جاتا ہے وہ بھی جے یو آئی کو روکنے کی دھمکی دے رہا ہے ،ہر اسمبلی کے باہر آئے روز کوئی نہ کوئی احتجاج ہورہا ہوتا ہے، واپڈا نے بھی نجکاری کیخلاف ملک بھر کی بجلی بند کرنے کی دھمکی دیدی ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار میڈیا پر انتہائی سخت قدغن لگائی جارہی ہے ، ملک میں زبان بندی کی وجہ سے لوگ بیرون ملک جاکر اپنا اظہار رائے کی آزادی کو استعمال رہے ہیں۔ ملک میں جو بھی بات کرتا ہے اسے دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ جس طرح کشمیر کو بیچا سارے پاکستان کو بیچنا چاہتے ہیں، منافع بخش اداروں کی نجکاری پر تلے ہوئے ہیںاور پاکستان کے قیمتی اثاثوں کو اونے پونے دام نیلام کرنا چاہتے ہیں۔ اب تو زمینوں کے علاوہ لوگوں کو اپنے گھر کے حوالے سے بھی خوف آرہا ہے۔ خطرہ ہے کہ یہ پاکستان کو ہی نہ بیچ دیں۔متذکرہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر سب متفق ہیں احسن اقبال نے کہاکہ سب جماعتوں نے آزادی مارچ کا خیرمقدم اور حمایت کی ہے اور انہوں نے سی پیک اتھارٹی کے بارے میںصدارتی آرڈیننس پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہاکہ حکومت کی طرف سے سی پیک کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پارلیمنٹ اس اتھارٹی کے بارے میں آگاہ نہیں ہے جبکہ یہ پارلیمنٹ کا حق اور اختیار ہے کہ وہ قانون سازی کرے ، میاں افتخار حسین نے کہاکہ معاملات کو الجھایا جارہا ہے ساری اپوزیشن متحد ہے اور متحد رہے گی۔ فرحت اللہ بابر نے کہاکہ سی پیک اتھارٹی کے آرڈیننس پر سب کے تحفظات ہیں ۔واضح کردیناچاہتے ہیں کہ اپوزیشن اکٹھی تھی، اکٹھی ہے اور اکٹھی رہے گی۔ صدارتی آرڈیننس پر اس لئے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں کہ خدشہ ہے کہ سی پیک کو فوج کے حوالے نہ کردیا جائے کیونکہ اس سے قبل بھی ہم نے سابقہ فاٹا کا سی ای او فوجی افسر کو لگانے کی پارلیمنٹ سے کوشش کو ناکام بنایا تھا۔ ایک بار پھر پارلیمنٹ سے اس کی قسم کی کوششوں کوناکام بنا دیا جائے گا جس کے تحت معاشرے کو فوجی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ رہبر کمیٹی کے اجلاس میں متذکرہ جماعتوں کے علاوہ نیشنل پارٹی اور دیگر قوم پرست اور دینی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں