آزادی مارچ کے خلاف حکومت نے بیک ڈور ڈپلومیسی شروع کر دی


لاہور .جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی جانب سے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے جے یو آئی کا آزادی مارچ رکوانے کے لئے بیک ڈور ڈپلومیسی کا آغاز کردیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے سپیکر قومی اسمبلی سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنمائوں کو ذمہ داریاں سونپ دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومتی شخصیات کی جانب سے بیک ڈور ڈپلومیسی کے تحت اب تک کئے گئے رابطوں میں وفاقی حکومت کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

جس کے پیش نظر پنجاب حکومت نے آزادی مارچ رکوانے کے لئے آپشن نمبر 2 پر غور شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کی قیادت میں اجلاس طلب کرلیا ہے۔

جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ 27 اکتوبر کے آزادی مارچ کو کس طریقے سے روکا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے صوبائی وزیر قانون کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں جمعیت علمائے اسلام ف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے متحرک کارکنوں کی فہرستوں کی تیاری کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔
جنہیں 27 اکتوبر سے قبل گرفتار کئے جانے کا امکان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں