عشق حقیقی اور عشق مجازی 12

عشق حقیقی اور عشق مجازی

سامنے سے جب وہ شوخ دلربا آجائے
تھامتا ہوں دل کو پر ہاتھوں سے نکلا جائے
عشق حقیقی سے مراد اللہ تعالی کا عشق اور عشق مجازی سے مراد نفسانی خواہشات کی وجہ سے مخلوق سے عشق ہے۔ گویا عشق حقیقی، عشق رب کائنات ہے اور عشق مجازی عشق مخلوقات ہے، عشق حقیقی کو اصطلاحا عشق مولی بھی کہتے ہیں اورعشق مجازی وعشق لیلی بھی کہتے ہیں۔ عشق مولی میں احوال دل کی باتیں ہوتی ہیں۔ عشق مجازی میں آب وگل کی باتیں ہوتی ہیں۔ دل میں عشق رکھنے والے کو عاشق صادق کہتے ہیں۔ جبکہ دل میں عشق مجازی رکھنے والے کو عاشق نامراد کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں مزید تفصیل درج ذیل ہے۔ عشق مجازی،عشق مجازی میں سی مرد یا عورت کے سراپالی دلکشی کو حسن کہتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ حسن کی سحر طرازیاں جوانی کے جنون کو ہوا دیتی ہے۔ حسن کی سادگی حسن کو چار چاند لگا دیتی ہے اور دنیا میں حسن سے برا کوئی سفارش نامہ نہیں جب حسن بولتا ہے تو بڑے بڑے دانشور گونگے ہو جاتے ہیں۔
سامنے سے جب وہ شوخ دلربا آجائے
تھامتا ہوں دل کو پر ہاتھوں سے نکلا جائے
جب کوئی صورت دل میں بس جائے تو تھر انسان کی بس ہو جاتی ہے شیطان اس صورت کو سا طرح مزین کر کے پیش کرتا ہے کہ ٹکراؤ نظر میں جاذبیت زیادہ ہو جاتی ہے۔ ایک فارسی کے شعر کے معنی ہیں۔ تیرے لئے اس کے حسن میںاضافہ کرتا ہے جتنا توں اس کی طرف زیادہ نظر کرتا ہے حسن ظاہر کا سانپ جب ڈس لیتا ہے تو انسانی روحانی موت مر جانا ہے آنکھیں ہوتی ہیں۔ مگر محبوب کے عیوب کو بھی پسندیدہ نظر سے دیکھتی ہے۔
نہ شوخی چل سکی باد صبا کی
بگڑنے میں بھی زلف اس کی بنا کی
حسن ظاہر ڈھلتی چاؤں کی مانند ہوتا ہے اس لئے جس محبت کا تعلق حسن ظاہر سے ہو زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی
دولت حسن جوانی عارف چلتی پھرتی چھاؤں ہے
ہم نے خود بھی یہ دیکھا تاریخ بھی یہ بتلاتی ہے
نفس انسانی لذات کا خوگر ہے۔ وہ انجا مسے بے خوف وخطر خواہشات کو پورا کرنے کے درپے ہے۔
کان نے ہوش کو بجھایا ہے افسانوں میں
آنکھ نے دل کو پھنسا رکھا ہے ارمانوں میں
عاشق نامراد کو بعد کی (مجبوری) ہو تو پھر فقط نظر بازی تک اکتفا کرتا ہے۔ اور دل کو تسلی دیتا ہے
شیوہ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرنا
اگر عاشق مجازکو قرب کا موقعہ حاصل ہو تو اس کا نفس جسمانی ملاپ کا متمنی ہوتا ہے ظاہر میں سچی محبت کا نعرہ لگانے والا اپنے فریب کا کچھ یوں اظہار کرتا ہے۔
نہ تو خدا ہے میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انسان ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
یہ تو حقیقت ہے کہ عشق جب حسن کو ہوس پرستی اور خود غرضی کے بستر پر لے آتا ہے تو اس کی انسانیت کا جنازہ نکل جاتا ہے سچی بات تو یہ ہے کہ کوئی چہرہ اتنا حسین نہیں ہوتا۔ جتنا دور سے نظر آتا ہے کوئی آواز اتنی دلکش نہیں ہوتی جتنی دور سے محسوس ہوتی ہے تو پھر پھر حسن یک حقیقت فاصلہ ہے اگر یہ سچ ہے تو پھر حسن ظاہر دور رہنے میں ہی بھلائی ہے۔ یہ ایک عقلی دلیل ہے ورنہ عشق مجازی میں بھی عاشق اتنا قرب چاہتا ہے کہ جسمانی وصل سے طبیعت سیر نہیں ہوتی ہے یہ جو فنا فی الحسن، فنا فی العشق لوگ ہیں ان سے پوچھیں۔ دو جسموں کے قرب کے باوجود ابھی ایک نامعلوم سی تشنگی باقی رہتی ہے۔ اور پکارا اٹھتا ہے۔
یہ محبت کا تقاضا ہے کہ احساس کی موت
تو ملا پر نہ تیرے ملنے کا ارمان گیا
اس تڑپ کو ایک پنجابی شاعر نے ماہئے میں یوں بیان کیا ہے۔ ترجمہ: میری جان سولی پر لٹکتی رہتی ہے۔ خدا کی قسم آپ میرے چاند تجھے مل کر بھی پیاس نہیں بجھتی۔ اور آخر اس مخفی شدید تشنگی کے باعث عشق پکارا اٹھتا ہے۔ رب کائنات نے مرد اور عورت کی فطرت میں ایک دوسرے کی کشش رکھ دی ہے۔ مگر ان کے ملاپ کے لئے حدود وقیود کا یقین بھی کر دیا ہے۔ اگر ان حدود کے اندر رہ کر ملاپ ہو تو ثواب ہے اور اگر حد پھلانگ کر ملاپ ہو تو عذاب ہے۔ نفس کا تزکیہ حاصل نہ ہو تو مرد کے دماغ میں ہر وقت عورت کا خیال رہتا ہے یعنی لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ہم مخلوق کے حسن کو دیکھ کر اللہ کی قدرت کا نظارہ کرتے ہیں۔
حسن فانی کی سجاوٹ پر نہ جا
یہ منقش سانپ ہے ڈس جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں