”بیٹھک ”پر ادبی نشست ارشاد حسین

مظفرمروت صاحب ، باقی با اللہ اور سعد عبد اللہ نے ڈیرہ شہر میں ادبی ٹھکانوں اور سماجی مراکز کی کمی کو پورا کرنے کی خاطر، ڈیرہ شہر کے بارونق اور مرکزی شاہراہ بازار توپانوالہ والا میں ” بیٹھک ” کے نام سے ایک ہوٹل اس ترتیب و شان سے سجا رکھاہے کہ ادب، آرٹ سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے یہ جگہ لاہور کے معروف ادبی مرکز پاک ٹی ہاؤس سے کسی طرح بھی کم نہیں۔ کتابوں سے سجی ، الماریاں ، ادیبوں و شعرائے کرام کی تصویریں اور اشعار ، ہینڈی کرافٹس کے نادر نمونے اور دانشوروں کے اقوال جا بہ جا کند ہ ہیں۔ جن کی وجہ سے ” بیٹھک” کا ماحول بڑا رومانٹک اور آرٹسٹک ہو جاتا ہے۔ جو علم و ادب اور فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے کسی گوشہ عافیت سے کم نہیں ۔ اس پر مستزاد ، مظفرمروت ، باقی با اللہ اور سعد عبد اللہ کی مہان نوازی اور خدمت گزاری کا انداز سونے پر سہاگے کی مثال ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں مسرتوں سے ہمکنار کرے۔اتوار کو عموماً وہاں کوئی نا کوئی ادبی نشست ، مصوری کی کلاس یا احباب علم و دانش کی میل ملاقات رہتی ہے۔ ہمارے سالار قافلہ ، ثناء اللہ شمیم صاحب بہت ہی پیارے ادب پرور اور حقیقی معنوں میں لفظ ”محبت ” پالنے والے دوست ہیں فن و فنکار سے ان کا تعلق اس طرح سے ہے جیسے مچھلی اور پانی کا۔ چند نجی وجوہات کی وجہ سے اس بار، ان سے ملاقات کا درمیانی وقفہ کچھ زیادہ ہی طویل ہو گیا تھا۔ اور یہ سچ ہے کہ ان کے ساتھ نہ مل پانے کا عرصہ کچھ زیادہ طول پکڑ لے تو ہماری طبیعت میں بھی عجب سی بے قراری پیدا ہو جاتی ہے۔ کسی بیش قیمت اثاثے کے کھو جانے کااحساس ہوتا ہے۔ آج کل ثناء اللہ شمیم کے ساتھ رابطوں کی کُنجی خوشحال ناظر کے ہاتھ میں ہے۔ اور وہی چاہنے والوں کا میلاپ کراتے ہیںاور رابطوں کے پُل باندھتے ہیں کہ خود ہی انجینئر بھی ہیں اور شاعر بھی۔ گزشتہ اتوار کو میرا ارادہ تھا کہ بازار میں دو ایک کام بھُگت کر اپنے قدیم ادبی ٹھکانے اور پناہ گاہ یونائیٹڈبک سنٹر پر جا کر نشست کروں گا۔ پہلی ملاقات سر بازار خلیل احمد سے ان کی منیاری کی دوکان پر ہوئی۔ استاد محترم غلام سرور صاحب کے فرزند ان ، خبر اخبار سے بڑی دلچسپی رکھتے ہیں۔ عرصہ دراز سے میری ان کے ساتھ خیر خواہی کا تعلق ہے۔ خلیل کے ساتھ کھڑے پاؤں حال احوال کیا اور من میں آئی کہ آج پرانی یادوں کو دہراتے ہوئے محلہ حیات اللہ سے چھوٹا بازار سے ہوتا ہوا نکل جاؤںگا۔ یہاں بھی ماضی کی یادوں کے بڑے دفینے پوشیدہ ہیں۔ محمد اقبال ، افضل ریڈیو والے میرے دفتر کے پرانے ساتھی اور ہمدرد دوست ہیں۔ ان کی محبت اور اخلاص کا چراغ بھی میرے دل کے نہاں خانوں میں روشن رہتا ہے۔ افضل بھائی سے مل کر اقبال کا معلوم کیا تو وہ مل گئے۔ وہیں نشست کر لی۔ آگے ارادہ ایک اور دیرینہ رفیق اختر حسین محمد ی سے بھی ملنے کا تھا۔ اختر حسین محمدی باڑہ مارکیٹ میں مینا کمپیوٹر و موبائل شاپ کے پروپرائٹر ہیں۔ اہل حدیث کے صدر ہیں ۔ ان کے ساتھ میری دوستی تعلق داری بھی بہت پرانی ہے۔ بڑے شیریں کلام ہیں۔ اس لحاظ سے گزشتہ اتوار6اکتوبر 2019کا دن میرے لئے بڑا سعد تھا۔ کہ اس افراتفری اور قحط الرجال کے دور میں بھی ، ہماری کچھ دیرینہ محبتوں کے امین دوستوں سے ملاقاتیں ہوتی گئیں۔ ہم جیسے لوگ اب اس دور انحطاط میں مخلص و بے لوث دوستوں سے ملاقات کو ” زیارت” کا نام دیتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ دھڑکتے بے تاب دلوں کے ساتھ ” زِندوں ” کی قدر نہ ہوتو مزاروں پر چراغ جلانے سے وہ کمی تو پوری نہیں کی جا سکتی۔ چھوٹا بازار میں زمانہ قدیم کی محل ماڑیوں کو دیکھتے ہوئے ، میں اقبال کے ساتھ چائے پی رہا تھا، کہ ثناء اللہ شمیم کا وہیں فون آگیا،انہوں نے بھی آج ملاقات کی ٹھان رکھی تھی۔ میں نے اختر حسین محمدی سے ملنے کا ارادہ ترک کر کے شمیم صاحب کو دس پندرہ منٹ میں یونائیٹڈ بک سنٹر پر پہنچنے کی اطلاع کر دی۔ میں شتاب وہاں پہنچا ۔ کافی دنوں کے بعد ہم دوستوں کی نشست بک شاپ پر ہو رہی تھی۔ خوشحال ناظر بھی آگئے۔ میں نے کہا کہ کوئی نہ کوئی دن بڑا مبارک ہوتا ہے۔ ہم باہمی دلچسپی کے حال احوال میں مگن تھے لطیف کے لنگر سے چائے کا دور جاری تھا کہ پروفیسر فدا محمد مروت صاحب لکی مروت والے ہماری خوبی قسمت سے رونق محفل آن ہوئے۔ فدا محمد مروت صاحب بذات خود اردو ادب کے بڑے شائق محقق اور اُستاد ہیں۔ ان کی باتوں سے بھی پھول جھڑتے ہیں۔ جنوبی اضلاع اور صوبہ بھر کے لکھاریوں ، ادیبوں، شاعروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ انہوں نے وہیں بتایا کہ ساتھ ” بیٹھک نامی ہوٹل ” میں بھی ایک ادبی نشست و حید مروت پشتو زبان کے شاعر کی ایک پشتو غزل پر تنقیدی نشست ہو رہی ہے۔ کیوں نا وہاں بھی حوصلہ افزائی کی خاطر کچھ دیر شرکت کر لی جائے۔ انہوں نے صلاح دی۔ بیٹھک میں تو ایک اچھی خاصی ادبی محفل جمی ہوئی تھی۔ شرکاء میں شاعر شہاب الدین طوفان (پیزو) سے ، فرحان مے نوش ٹانک ، مظفر مروت ، پروفیسر طاہر جاوید صاحب اور ہم میں خوشحال ، شمیم صاحب ، خاکسار ، فدا محمد مروت شامل تھے۔ وحید مروت اردو پشتو کے بہت اچھے شاعر ہیں۔ بات چیت کے ساتھ شعرائے کرام نے اردو پشتو میں اپنا اپنا کلام بھی پیش کیا۔ یہ ادبی نشست بہت دلچسپ اور یادگار رہی۔ اس کے ساتھ یہ امر بھی خوش آئند اور حوصلہ افزاء ٹھہرا کہ بیٹھک کے نام سے معروف یہ نشست گاہ، ادبی ، علمی و سماجی سرگرمیوں کیلئے بڑی مناسب جگہ ہے۔ جو اپنے پُر سکون و شائستہ ماحول کی وجہ سے بڑی شہرت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ گزشتہ اتوار کی دوستانہ ملاقاتوں میں گلزار احمد صاحب اور وجاہت عمرانی کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہوتی رہی۔ خیر یار زندہ صحبت باقی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں