اوراق ادب کا تازہ شمارہ موسیٰ کلیم دوتانی

ادبی رسائل و جرائد کسی بھی زبان کی ترقی و ترویج اور ادب کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اردو زبان و ادب کے ارتقا میں تہذیب الاخلاق، مخزن، نقوش، ادبی دنیا، اوراق اور فنون جیسے جرائد کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ بڑے شہروں، سرکاری سرپرستی اور وافر وسائل کی موجودگی میں تو یہ کام آسان لگتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ ادبی پودے تناور درخت کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ جن کے سائے میں علم و ادب اپنی سرسبزی و شادابی پر شاداں و فرحاں چار سو سایہ فگن رہتا ہے۔ خوشگوار حیرت اس وقت ہوتی ہے جب مضافاتی علاقوں میں وسائل سے محروم اور صلے و ستائش کی تمنا سے بے نیاز چند درویش صفت اور ادب دوست افراد یہ سلسلہ جاری کرتے ہیں۔ سنگلاخ زمینوں اور دشت بے آب میں نمو کے مراحل طے کرنا کتنا مشکل امر ہے، یہ تو ان درختوں سے جا کر پوچھنے سے معلوم ہوتا ہے جو یہ سارے کٹھن مراحل خود اعتمادی سے طے کرتے ہیں۔ بقول مقبول عامر
دشت بے آب سے پوچھو کہ وہاں کے اشجار
کن مراحل سے گزرتے ہیں نمو پانے تک
ڈیرہ غازی خان سے شائع ہونے والا ادبی جریدہ اوراق ادب ایک ایسا ہی جریدہ ہے جو محض اپنی مدد آپ اور ادب کی بے لوث خدمت کے جزبے سے سرشار باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔ یہ ایک معیاری اور خالصتا ادبی رسالہ ہے۔ اب تک اس کے آٹھ شمارے پوری آب و تاب کے ساتھ اشاعت پزیر ہو چکے ہیں۔ اوراق ادب کے مدیر اعلی ڈاکٹر محبوب عالم پیشے کے لحاظ سے سینئر ڈینٹل سرجن ہیں۔ جو خود ایک اعلی پائے کے ادیب، محقق اور نقاد ہیں۔ ان کی کتب "سخنوران پاکستان” اور ڈیرہ غازی میں نعت نگاری اپنے قارئین سے داد و تحسین وصول کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ اوراق ادب میں مضامین عالم سے بھی ان کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کا پتہ چلتا ہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے صلے انھیں فروغ ادب ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ اس کار خیر میں ان کی شریک حیات (ایم۔فل اردو۔ماہر تعلیم، محقق و نقاد) رابعہ خالد بطور مدیرہ اور پروفیسر عمران میر (شاعر ادیب نقاد اور صدر شعبہ سرائیکی، ڈی۔جی۔خان) بطور اعزازی مدیر ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ اوراق ادب کی بنیادی خصوصیت جنوبی پنجاب کے شعر و ادب، تحقیق و تدوین اور تنقید کے میدان میں ہونے والی پیشرفت کو نمایاں کرنا ہے اور جنوبی پنجاب کے تخلیق کاروں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے، جہاں ان کی تخلیقات کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ وسیبی تخلیق کاروں کو خودی، خودداری اور اعتماد کے ساتھ ملکی منظرنامے میں شریک کیا جاتا ہے۔ تخت لہور کے قیدیوں میں جوہر قابل تلاش کر کے انھیں ملکی دھارے میں "مفت” داخل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محبوب عالم روہی تھل دامان کے بکھرے موتی چن چن کر بزبان حال کہتے ہیں ع صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں ایسے سچے کھرے اور مخلص مدیراعلی کو جنہوں نے اردو زبان ادب کے فروغ و ترقی کے لیے اور مضافاتی ادب کی ترویج کے لیے اپنا قیمتی وقت اور سرمایہ صرف کیا اور صحیح معنوں میں ادب اور ادیبوں کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔ انھیں نہ شہرت کی تمنا ہے نہ کسی اعزاز کا طمع، نہ کسی سرکاری عہدے کی حسرت اور نہ کسی سے صلے کی پرواہ۔ بغیر کسی لالچ کے مٹی کا قرض ادا کر رہے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ کہ سرکار و دربار سے وابستہ نام نہاد "بڑوں” کی قصیدہ خوانی کے بجائے اپنے وسیب کے پیلہوں پکھیاں چنتے رہتے ہیں۔ اوراق ادب کا زیر نظر شمارہ 8 ، جنوبی پنجاب کے تینوں ڈیرہ غازی خان، ملتان، بہاولپور ڈویزن اور ان سے ملحقہ اضلاع، تحصیلوں اور دیہاتوں کے تخلیقی رنگوں سے مزین ایک قوس قزح ہے۔ جس میں شامل ہر رنگ پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے۔ چونکہ اس شمارے میں زیادہ تر نسائی ادب کے نمایاں خدوخال اجاگر کیے گئے ہیں اس بنا پر اسے نسائی ادب نمبر کہنا زیادہ مناسب ہے۔ اگر اور بھی بہت کچھ ہے۔ 352 صفحات پر مشتمل یہ شمارہ ایک مکمل کتاب کی صورت نثری و شعری تخلیقات سے مزین ہے۔ جن میں ادب کی متنوع اصناف غزل، نظم، افسانہ،انشائیہ، تعارف تجزیے تنقید اور تحقیق کے گل ہائے رنگ رنگ سے اس گلستان ادب کو سجایا گیا ہے۔اس کے علاوہ مختلف ادبی تقریبات اور مشاعروں کی روداد بھی تازہ ترین ادبی صورتحال سے آگاہی فراہم کرتی ہے۔ وفیات مشاہیر ادب اور موصولہ کتب کی فہرست بھی شامل کی گء ہے۔ اس شمارے کو تین خصوصی گوشوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔معروف محقق اور نقاد ڈاکٹر مختار ظفر کا وقیع اداریہ "نسائی طرز احساس کی نقش گری” کے عنوان سے جریدے کا پہلا اداریہ، پروفیسر عمران میر کا دوسرا اداریہ اور رابعہ خالد کے عزم کا اظہار اپنی جگہ پھرپور تحریریں ہیں مگر مدیر اعلی ڈاکٹر محبوب عالم کا کھرا سچ اور ان کی تلخ و شیریں باتیں زیادہ پسند آئیں۔ میں خود کچھ عرصہ تک ایک ادبی رسالے "ادب رنگ” کی ادارت کے تجربے سے گزر چکا ہوں۔ شعرا اور ادبا سے ان کی تحریریں وصول کرنا، ان کے شکستوں کو درست کرنا، رسالے میں مناسب جگہ دینا اور پھر رسالہ اشاعت کے بعد ان کی دہلیز تک کے جاں گسل مراحل "کچھ میں ہی جانتا ہوں جو مجھ پر گزر گئ۔ دنیا تو لطف لے گی میرے واقعات سے” کے مصداق لفظوں میں بیان نہیں کیے جا سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں