سیاست کسی کی ختم نہیں ہوتی

یہ خوش فہمی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کوہ ہمالیہ کی چوٹیاں چھو رہی ہے، پی پی پی، مسلم لیگ (ن) او رجمیعت علماء اسلام کی سیاست کاخاتمہ ہو چکا ہے۔ سیاسی تاریخ ایسی نشیب وفراز آتے رہتے ہیں۔ جب پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دمقابل ہیں تب جماعت اسلایم کے دھرنوں کے نتیجے میں ان کی حکومتیں گر جایا کرتی ہیں۔ مگر حقیقت کل بھی کچھ اور فن اور آج بھی ہی ہے۔ محترم قاضی حسین احمد صاحب مرحوم اپنی وفات سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان آخر ی بار تشریف لائے تھے۔ بندہ نے ان سیسوال کیاتھا کہ آپ حکومتوںکیخلاف دھرنے دیا کرتے تھے۔ پی پی پی کی حکومت ہے اور پہلے سے زیادہ بہتر صورتحال ہے دیگر مگر آپ دھرنا نہیں دیرہے قاضی صاحب نے فرمایا: کوئی فائدہ نہیں، ہم دھرنے حکومت گر جاتی تھی۔ لیکن الیکشن کے نتیجے میں ہم نہیں کوئی اور برسراقتدار آجاتا تھا یا پھر مارشل لا لگ جاتا تھا۔ قاضی صاحب کو احساس ہو گیا تھا کہ اقتدار جماعت اسلامی کو لیتے ہیں۔ پھر جن پی پی پی یا مسلم لیگ (ن) کے ہاتھ آجاتا ہے اور واقعتا ایسا ہی تھا۔ 1988 میں پ پی پی کی حکومت قائم ہوئی۔ 1990 میں انتخابات منعقد ہوئے تو اسلامی جمہوری اتحاد جیت گیا۔ میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ مذکورہ اتحاد میں جماعت اسلامی پیش پیش تھی۔ مگر اختلافات ہوئے اور 1993 ء میں دھرنا دیا گیا۔ میاں صاحب کی حکومت بھی گر گئی تاہم وہ تی پی تی جیسے 1990 میں وفاق پھر اس کے ہاتھ میں آگیا۔ 1996 میں پی پی پی کی حکومت دھرنے کے بعد گری تو 1997 میں مسلم لیگ (ن) دوبارہ اکثریت حاصل کر کے وفاقی حکومت میں گئی۔ 1998 میں فوج نے اس کا دھڑن تختہ کیا تو پی پی پی ومسلم لیگ (ن)، دونوں اقتدار سے باہر بلکہ اس کی قیادتوں کو وطن آنے کی اجازت نہ ملی۔ البتہ اقتدار سے پھر باہر نہیں مذہبی جماعتوں کے خلاف شدت پسندی، انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دینے کیالزامات کے باوجود انہیں ووٹ ملتے اور وہ امید پر میں آتی رہتی ہیںبالخصوص جمیعت علماء اسلام اور جماعت اسلامی آجکل پی ٹی آئی کا دور اور ریاستی اداروںکی سرپرستی حاصل ہے۔ مگر یہ غلط فہمی ہے کہ اب اسیکی مقبولیت ہے۔ پی پی او مسلم لیگ (ن) کی چتا جل چکی اور اس کی راکھ دریا میں بہہ چکی ہے یا ہواؤں میں اڑ چکی ہے۔ جب بٹی الیکشن ہوا اور صاف شفاف ہو گا تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے جب عوام کا سیلاب امڈتا ہے تو فوج بھی پسپائی اختیار کر لیتی ے کیونکہ اس کا فرض کسی سیاسی جماعت یاحکومت کا تحفظ نہیں بلکہ ملک وقوم کی حفاظت ہے۔ سرحدوں کا دفاع اور ملک دشمنوں سے جنگ کرنا ہے۔ پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتیں اس خوش فہمی یا غلط فہمی نہ رہیں کہ وقت انہی کا رہے گا۔ کبھی زوال نہیں آئے گا۔ اور ہماان کے سر پر ہی بیٹھتا رہے گا۔ پی پی اور ن لیگ بھی ایس ہی تصور کرتی رہی۔ بالآخر ان کی سمجھ میں یہ بات آگئی کہ یہ سوچ درست نہیں پی ٹی آئی بھی یہ جان لے کہ اپوزیشن اور پھر الیکشن میں اس کی مقبولیت تھی جو برسراقتدار آکر کم ہوتی چل یجا رہی ہے اور اب یہ صورتحال ہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے دھرنے کی تائید وحمایت پر وہ شخص کر رہا ہے جو ٹیکسوں اور گرانی سے تنگ آچکا ہے۔ جس کی امیدوں اور توقعات پر پانی پھر چکا ہے جس نے پی ٹی آئی حکومت اور عمران خان وزارت عظمی بھی آزما لی ہے۔ جس نے پی ٹی آئی کا ایجنڈا، وژن کی حقیقت سے آگاہی بھی حاصل کرنی ہے ایک کروڑ نوکریوں کی بجائے بے روزگاری کا بڑھتا سونامی دیکھ لیا ہے۔ پچاس لاکھ مکانات کی بجائے مکانات پر بلڈوزر چلتے دیکھ لئے ہیں۔ ریاست مدینہ کی بجائے اس سونامی کی تباہی وبربادی دیکھ لی ہے جس کے ستر باغ دکھائے گئے تھے۔ نظام نہیں چہرے بدلے اور چہروں کہ تبدیل ہونے سے پہلے انقلاب آیا نہ اب آیا ہے عقلمند تو عقلمند ہیں بیوقوف بھی سمجھ گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں