ایران سعودی عرب کشیدگی ختم کرانے کا مشن ، وزیراعظم سعودی عرب روانہ 18

ایران سعودی عرب کشیدگی ختم کرانے کا مشن ، وزیراعظم سعودی عرب روانہ

ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لئے سعودی عرب پہنچے ہیں:فائل فوٹو

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کےلئے روانہ ہوگئے ، جہاں وہ سعودی قیادت کو دورہ ایران میں پیش رفت پراعتماد میں لیں گے ، عمران خان کا دورہ خطے میں امن و سلامتی کے اقدام کا حصہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان خصوصی طیارے سے سعودی عرب روانہ ہوگئے ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، معاون خصوصی زلفی بخاری ،سیکرٹری خارجہ اور دیگر حکام بھی ان کے ہمراہ ہیں۔

وزیراعظم عمران خان دورے کے دوران سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقاتیں کریں گے اور دورہ ایران میں پیش رفت پراعتماد میں لیں گے جبکہ دوطرفہ تعلقات اورعلاقائی امور پر بات ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان کادورہ خطے میں امن و سلامتی کے اقدام کا حصہ ہے۔

یاد رہے اتوار کو وزیراعظم عمران خان نے خلیج میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ایران کا دورہ کیا تھام جس کے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر حسن روحانی کے ساتھ ملاقات ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور ایران کا خطے کے مسائل مذاکرات سے حل کرنے پر اتفاق

ملاقات میں وزیراعظم نے دونوں ملکوں میں تاریخی اورثقافتی تعلقات کو اجاگر کیا اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ کا عزم دہرایا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں مضبوطی پاکستان کی ترجیح ہے، مسئلہ کشمیر پر ایران کی جانب سے حمایت پر شکرگزار ہیں، دونوں رہنماؤں کے درمیان علاقائی سیکیورٹی امور پر بھی گفتگو ہوئی جبکہ وزیراعظم نے خلیجی ملکوں کو کسی جنگی تنازع سے بچانے پر زور دیا۔

وزیراعظم نے کہا تھا کہ خلیج کی موجودہ صورتحال پر تنازعات سے بچنے کی ضرورت ہے، فریقین بات چیت سے مسائل حل کریں، سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سہولت کاری کرسکتے ہیں، مذاکرات سے مسائل حل کرنے میں سہولت کاری کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:سعودیہ، ایران کشیدگی: وزیراعظم عمران خان مصالحت کیلئے تہران پہنچ گئے

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایران پڑوسی اور دوست ملک جب کہ سعودی عرب ہمارے بہت قریب ہے، دونوں ممالک کے تنازع کی وجہ سے خطے اور دنیا کو نقصان ہوگا کیوں کہ تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور پھر دیگر ممالک پیسے کو لوگوں پر خرچ کرنے کی بجائے تیل خریدنے پر لگائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں