حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کا  پلان بنالیا گیا ہے ۔ متحدہ اپوزیشن کا اعلان 10

حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج کا پلان بنالیا گیا ہے ۔ متحدہ اپوزیشن کا اعلان

فائل فوٹو

اسلام آباد (محمداکرم عابد )اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کے ارکان نے اعلان کیا ہے کہ ملک گیر احتجاج کے پلان کو کامیاب بنانے کے حوالے سے امور طے کر لئے گئے ہیں۔ صرف پیپلز پارٹی، جے یو آئی () بلکہ ن لیگ سمیت تمام جماعتیں شامل ہونگی ، ہم نے اس قوم کو اس حکومت سے آزاد کرانا ہے، آزادی مارچ کا نام اپوزیشن کے اتفاق سے دیا گیا۔منگل کواسلام آباد میں پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ہدایت پرجے یو آئی (ف) کے وفد نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نیئر بخاری اور ہمایوں خان سے ملاقات کی ۔ جاری بیان کے مطابق اکرم درانی نے اعلان کیا کہ رہبر کمیٹی کے تمام ممبران آزادی مارچ کے سٹیج پر ہونگے ۔تمام اپوزیشن یک جان ہے۔ اپوزیشن کو آگے لے کر جائیں گے۔ ہم نے مشترکہ مطالبہ کیا ہے کہ آرمی کا کوئی رول الیکشن کے اندر اور باہر نہ ہو۔ سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی نیئر بخاری نے کہا کہ 17 کو لاڑکانہ کی ایک نشست پر ضمنی انتخابات ہیں۔ وہاں پر فوج کو اختیارات دیئے گیے ہیں۔ فوج کی الیکشن میں تعیناتی پیپلز پارٹی کو قابل قبول نہیں ہے۔، چیف الیکشن کمشنر یہ اختیار واپس لیں۔ 26 جون کو اسلام آباد میں ملٹی پارٹی کانفرنس ہوئی جس میں 9 جماعتوں نے شرکت کی تھی اس وقت ایک ڈیکلریشن طے کیا تھا کہ عوام کی موجودہ حکمرانوں سے نجات چاہتے ہیں۔، یہ متفقہ فیصلہ تھا ہم سب کا مقصد ایک تھا البتہ نکتہ نظر مختلف تھا۔، البتہ تمام جماعتیں آزادی مارچ کے حوالے سے متفق ہیں۔ ملک گیر احتجاج کے حوالے سے کچھ تجاویز پر غور کرنا تھا اور اس پلان کو کامیاب بنانے کے حوالے سے امور طے کئے۔ اس میں صرف پیپلز پارٹی، جے یو آئی ایف نہیں بلکہ ن لیگ سمیت تمام جماعتیں ہونگی اور آپس میں نچلی سطح تک رابطے کرینگے ۔حکومت کہتی ہے کہ کرنٹ اکانٹ خسارہ کم ہوگیا ہے، بتایا جائے کیسے کم ہوگیا ۔حکومت تو سب کچھ ادھار پر کررہی ہے۔ ایسے میں کیسے کرنٹ خسارہ کم کیا ہے ۔اس وقت دوست ممالک سمیت آئی ایم ایف سے قرض لے کر قرض واپس کررہے ہیں تو حکومت کا کیا کمال ہے۔ ہر انڈسٹری اس وقت بحران کا شکار ہے اور نوکریاں دینے کے اب تک 25 لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ ہمارا مقصد ذاتی نہیں عوامی ہے کیونکہ اس وقت عوام پس چکے ہیں۔اکرم درانی نے کہا کہ گھوٹکی کے الیکشن میں پیپلز پارٹی نے ہم سے تعاون مانگا تو ہم نے صرف ساتھ نہیں دیا بلکہ پولنگ ایجنٹ تک اپنے کارکن بھجوائے۔ لاڑکانہ کے ضمنی انتخاب میں ہم سے ضلع یا صوبہ کی سطح تک ہم سے تعاون نہیں مانگا گیا۔ ہم کوشش کریں گے چھوٹی چیزوں میں نہ الجھیں۔، بڑے مقصد کے لئے چھوٹی چیزوں کو مسئلہ نہ بنائیں۔ ہم ایک سیٹ کیا خیبرپختونخوا کی اپوزیشن لیڈر شپ بھی دے سکتے ہیں۔اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ اپوزیشن میںدراڑیں ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ مگر رہبر کمیٹی میں ایسے سنجیدہ افراد تھے جنہوں نے مشکل کام کو بھی آسان کردیا ۔اس وقت اپوزیشن ایک سمت کی جانب گامزن ہے۔28 اور 29 کو تمام تاجران ہڑتال پر ہیں۔، ڈاکٹرز بھی ہڑتال پر ہیں۔اپوزیشن کے مطالبے پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کو ڈاکٹرز نے کھولا ہے۔ وزیراعظم ملک سے باہر جائے تو بھی ملک کی بدنامی کا باعث بنا ہے۔ ایسا شخص سامنے آیا ہے جو ملک کی بے عزتی کے علاوہ کوئی کام نہیں کررہا۔ یہ ملک فقیر نہیں بلکہ یہ ملک ایک ایٹمی قوت ہے،۔ افسوس اس ملک کا وزیراعظم دوسروں کا جہاز استعمال کرتا ہے۔ تقریر کے بعد اس سے جہاز تک واپس لیا جاتا ہے۔، اس شخص نے اداروں سمیت ملکی وقار کو تباہ کردیا ہے ۔اس وقت صحافی بھی ملک چھوڑنے کو تیار ہیں۔، کوئی صنعت ایسی نہیں جو بحران کا شکار نہ ہو۔پیمرا کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کی پریس کانفرنس تک بند کردی گئیں، زبان تک تالہ بندی کردی گئی۔ ہم نے اس قوم کو اس حکومت سے آزاد کرانا ہے، آزادی مارچ کا نام اپوزیشن کے اتفاق سے دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جواب دیجئے