روزیل نامی پودے کی کاشت اور پھول کے فوائد کے حوالے سے چشم کشا رپورٹ:تحریر:  احمد فراز مغل 126

روزیل نامی پودے کی کاشت اور پھول کے فوائد کے حوالے سے چشم کشا رپورٹ:تحریر: احمد فراز مغل

گومل یونیورسٹی کو دور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور چوہدری کی کاوشوں نے رنگ دیکھانا شروع کر دیا ہے وائس چانسلر نے ڈیرہ اسماعیل خان کی اس مادرے علمی پاکستان ہی نہیں دنیا بھر کو یونیورسٹی میں بلند مقام دلانے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور چوہدری کی یہ کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ اس وقت بھی گومل یونیورسٹی میں 12پراجیکٹ پر این آر پی یو تحت کام ہورہا ہے ان میں سے دو پراجیکٹ پر کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ دس پراجیکٹ پر کام ہور رہا ہے یہ ان پراجیکٹ کے لیے 44180091 کی رقم خرچ کی جاری ہے جبکہ دو پراجیکٹ جو مکمل ہوچکے ہیں جن پر 8116088پر رقم لگ چکی ہے ان 12پراجیکٹ پر 52266179کا تخمینہ ہے گومل یونیورسٹی کے پراجیکٹ کے لئے اس خطیر رقم کا سہر ا وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور چوہدری کے سر ہے گومل یونیورسٹی میں اس وقت روزیل کا اردو میں نام گل لال امبری پر تحقیق کی جارہی ہے۔ اور بیالوجی کی زبان میں اس کانام ہبیسکس سب ڈریفا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں اس کی کاشت کی جاتی ہے۔ پہلی بار شعبہ ہا رٹیکلچر زرعی فیکلٹی گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں اس پر تحقیق ہو رہی ہےجو کہ بہت کامیاب ہے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرورچوہدری تعاون سے ایم ایس سی (آنرز) کے طالب علم صدام حسین جو کہ پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمن کی زیر سرپرستی تحقیق کا کام کر رہے ہیں۔

ان کا عزم ہے کہ وہ اسکو عام زمیندار حضرات تک پہنچائیں گے اوراس کے فوائد سے ہر عام و خاص کو آگاہ کریں گے ۔ اس پودے کے تخم کو سوڈان سے پروفیسر ڈاکٹر عبدالمتین خٹک زرعی یونیورسٹی پشاور کے تعاون سے منگوایا گیا ہے ۔ اس کے بے حد فوائد ہیں جن میں سے چند ایک کا تذکرہ کیا جارہا ہے۔یہ کولیسٹرول کی سطح کو جسم میں کم کرتا ہے۔ ہائی بلڈپریشر میں زبردست کمی لاتا ہے ۔ وزن کو گھٹاتاہے نظام ہاضم میں مدد کرتاہے ۔ اس کے علاوہ مسوڑھے اور دانتوں کو مضبوط کرتا ہے ذہنی اور اعصابی دبائو میں مفید ہے ۔

زکام ، کھانسی اور نزلہ وغیرہ میں زبردست مفید ہے۔اس کے علاوہ دیگر فوائد بھی رکھتا ہے مثلااس میں وٹامن سی، میلیک ایسڈ، اینتھوسیانین اور منرلزوغیرہ بھی کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔اس پودے کے مختلف اجزا کے استعمال کے حوالے سے بات کریں گیاس کے پتوں کو سلاد کی طرح کھایا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ پتوں کو پالک کے پتوں کی طرح پکایا بھی جاسکتاہے۔اس کے پھول کے کیلسیزسے چائے بھی بنا سکتے ہیں اس چائے کو “Roselle Tea”یعنی “روزلی چائے” بھی کہا جاتا ہے جو دنیابھر میں فائدے کے لحاظ سے کافی مشہور ہے ۔

یہ چائے پینے سے جسم سے زائد چربی پگھل جاتی ہے۔ جسم کے تمام اعضا سکون محسوس کرتے ہیں اور تھکاوٹ جتنی بھی ہو یکسر ختم ہوجاتی ہے۔ہمارے ملک پاکستان میں انڈیا سے اس چائے کے پتے منگوائے جاتے ہیں جو اس وقت اسلام آباد اور کراچی میں دستیاب ہیں اور ان کے 200گرام کاپیکٹ 800روپے قیمت رکھتاہے۔اس کے علاوہ پھول کے کیلسیزسے جیم ، جیلی اور ڈرنک بھی تیار کئے جاتے ہیںاس کی جڑیں بھوک آور(Appetizer)اور ٹانک کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔فوائد کے اعتبار سے یہ تمام چیزیں بے حد مقبول ہوتی ہیں ۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ اس کے تنے کو بھی ضائع نہیں کیاجاتا بلکہ اس سے پٹ سن کی طرح رسی بنائی جاتی ہے۔مختصر یہ کہ کثیر الفوائد اس روزیل کے پودے کو پاکستان میں متعارف کرانے اور اس کے فوائد کو عام کرنے کیلئے اس پر مزید ریسرچ جاری ہے جسمیں ایم ایس سی (آنرز) کے سٹوڈنٹ صدام حسین کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ صدام حسین کے مطابق پاکستان میں اسکی کاشت کی کامیابی کے بعد یہاں کی عوام نہ صرف اس سے خاطر خواہ فوائد حاصل کریں گے بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی میں بھی ان کا اہم کردار ہو گا۔ تحقیق جاری ہے انشا اللہ عنقریب کسان اس کو اپنی اراضی میں کاشت کر یں گے اس سلسلے میں کسانوں کو مزید آگاہی مہم کے ذریعے اسکی کاشت اور حفاظت کے حوالے سے بھی روشناس کرائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں