گل صحرائی ریشماں کو بچھڑے 6 بر س بیت گئے 43

گل صحرائی ریشماں کو بچھڑے 6 بر س بیت گئے

لاہور: (اعتدال نیوز) ستارہ امتیاز حاصل کرنے والی پاکستان کی لیجنڈ گلوکارہ ریشماں کو بچھڑے 6 برس بیت گئے۔ ان کی لمبی جدائی چاہنے والوں کو اب بھی جوڑے ہوئے ہے۔

اس گیت سے سر اور آواز کی دنیا میں قدم رکھنے والی راجھستانی خانہ بدوش لڑکی ریشماں نے پھر مڑ کر نہ دیکھا۔ شہباز قلندر کے مزار پر گائے اس گیت نے ریشماں کے لیے ریڈیو پاکستان کے دروازے کھول دئیے، پھر فضائیں ریشماں کی مدھر آوازسے گونجنے لگیں۔

دیکھتے ہی دیکھتے ریشماں پاکستان کی مقبول ترین لوک گلوکارہ بن گئیں۔ 1960ء کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن کے آغاز پر ہی ریشماں نے اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑھ دئیے۔

ریڈیو اور ٹی وی کے ساتھ ساتھ ریشماں کی آواز فلموں کی بھی زینت بنی۔

صحرائے بلبل کے گیت زبان زد عام بن گئے۔ کتھے نین نہ جوڑٰیں ، سُن چرخے دی مِٹھی مِٹھی کُوک۔ اکھیاں نوں رین دے اکھیاں دے کول کول اور ہائے او ربا نیئوں لگدا دل میرا تو شہریت کی بلندیوں کو چھونے لگے۔

ریشماں کو گائیکی میں شاندار خدمات کے بدولت متعدد ایوارڈز کے علاوہ ستارہ امتیاز اور لیجنڈز آف پاکستان کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

نامور گلوکارہ گلے کے سرطان کے باعث طویل عرصہ تک علیل رہنے کے بعد 66 برس کی عمر میں 3 نومبر 2013ء کو اپنے چاہنے والوں کو لمبی جدائی کا داغ دے گئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں