قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس، حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں گرما گرمی 53

قومی اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس، حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں گرما گرمی

اسلام آباد: (اعتدال نیوز) قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان میں گرما گرمی اور تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، اپوزیشن ارکان کی تقریر کے دوران حکومتی ارکان نے بھی شور شرابہ کیا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پرویز خٹک کے خطاب دوران اپوزیشن نے خوب شور شرابہ کیا، دونوں جانب سے تلخ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا، سپیکر اسد قیصر کی بھی ایک نہ چلی۔ وفاقی وزیر پروخٹک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا سیاست میں کئی سال ہوگئے، کسی سے نہیں ڈرتا، اگر اپوزیشن حکومتی کمیٹی کے ساتھ ٹائم پاس کر رہی تو وہ بھی ٹائم پاس کر رہے ہیں۔

پرویز خٹک نے کہا جمہوریت کی بات کرتے ہیں، تماشہ دیکھ رہا ہوں، پیدا سیاست میں ہوا ہوں، دھرنے پر بیٹھے رہو مگر ملک کو نقصان نہیں پہنچانا، مولانا کہتے ہیں یہ جرگہ ٹائم پاس کرنے کیلئے ہے، حکومتی مذاکراتی کمیٹی کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے، آپ پاکستان میں ایماندار قیادت برداشت نہیں کرسکتے، صبر کریں آپ کو بہت کچھ دیکھنا پڑے گا، علی امین گنڈا پور پر فخر ہے انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو چیلنج کیا۔

لیگی رہنما خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ایوان کیلئے کل کوئی اچھا شگون نہیں تھا، جیسے قانون سازی ہوئی، سارا ایوان شرمسار ہوا، جمہوریت کے بغیر وفاق قائم نہیں رہ سکتا، جو اقتدار میں ہوتا ہے سب سے زیادہ کم علم ہوتا ہے، ان کو نہیں پتا ، جب ان کے سر پر چھت گرے گی تو پتا چلے گا، آپ لوگ الیکشن کا مطالبہ کرتے تھے، ہم کر رہے ہیں تو مسئلہ ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا میرے قائد کو عہدے سے ہٹایا گیا، میرا قائد ضمانت پر ہے، آج ان کا قائد پکڑا گیا، انہوں نے ہندوستانیوں سے پیسے لیے، ان کو احساس نہیں، ایسے جمہوریت کا بیڑا غرق ہوگا، 12 آرڈیننس بغیر بحث ایوان سے منظور ہوئے، آپ نے بیج خود بویا ہے، کنٹینر پر ڈانس کیا کرتے تھے، آپ ہی نے کنٹینر کی روایت ڈالی، یہ لوگ نیازی صاحب کو گالیاں پڑواتے ہیں، یہ لوگ نیازی صاحب کے دوست نہیں، دشمن ہیں۔

وفاقی وزیر مراد سعید نے کہا قاسم سوری کے ووٹوں سے متعلق غلط بیانی کی گئی، خواجہ آصف اقامے پر بیرون ملک نوکری کرتے تھے، آپ بیرون ملک کیا خدمات سرانجام دیتے تھے ؟ آپ نے پاکستان کا حلف لیا لیکن نوکری بیرون ملک کر رہے تھے، خود کو لبرل کہنے والے آج فضل الرحمان کا ساتھ دیتے ہیں، جب یہ وزیر خارجہ تھے تو خود کو لبرل کہتے تھے، قاسم سوری نے 25 ہزار ووٹ لیے، خواجہ آصف نے 65 ہزار کا الزام لگایا۔

مراد سعید کا کہنا تھا وزیراعظم نے دنیا کی نظروں میں نظریں ڈال کر بات کی، خواجہ آصف کی نوکری کی حاضری لگتی تھی، جواب تو دینا ہوگا، قانون سازی سے پہلے 2 تقاریر ہوتی ہیں، انہیں تقریر کاموقع دیا جاتا ہے تو پروڈکشن آرڈر کی بات کرتے ہیں، تقریر کا موقع دیا گیا، بل پر بات ہی نہیں کی۔

اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی میں چیئرمین سینیٹ اور قومی و پنجاب اسمبلی کے سپیکرز کی موجودگی پر اعتراض اٹھا دیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ ان کی موجودگی فریق کی حیثیت کا تاثر پیدا کر چکی ہے جب کہ سپیکر قومی اسمبلی فادر آف دی ہاؤس ہوتے ہیں۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نے واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن کا اگر یہی رویہ ہے تو ہم بھی مولانا صاحب کے ساتھ وقت گزاری کر رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے نیچے سے زمین سرکنے والی ہے ہمیں پتہ ہے جلد انتخابات ہونے والے ہیں۔ تحریک انصاف کے نوزائیدہ ارکان عمران خان کو گالیاں پڑوا رہے ہیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی ہنگامہ خیز رہی۔ سپیکر اسد قیصر نے اجلاس کی صدارت کی۔ سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے نقطہ اعتراض پر کہا کہ آرڈینینسز پر کوئی بحث ہوئی نہ اپوزیشن کو بولنے کا موقع دیا گیا۔

دنیا کی کسی پارلیمان میں آج تک ایسا نہیں ہوا۔ پارلیمنٹ کی بے توقیری کی گئی ہے۔ جمہوریت کو ان کے ہاتھوں خطرہ لاحق ہو رہا ہے اور ان کو اس کا ادراک بھی نہیں ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اگر قائمہ کمیٹیوں میں بلز کو زیربحث نہیں لانا تو ان کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے۔ ہم عوام کے ووٹ لے کر آئے ہیں کل آدھے پاکستان کو ایوان میں بولنے کی اجازت نہیں ملی۔ ایسے حکومتی رویے کی وجہ سے لاکھوں لوگ اسلام آباد میں دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ اسی طرز عمل کی وجہ سے عوام سڑکوں پر ہیں۔ عمران خان خود مارے مارے پھر رہے ہیں۔ سپیکر کے کندھے پر سوار ہو رہے ہیں۔ یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ جو کچھ بھی بوئیں کل ان کو کاٹنا پڑے گا۔ پارلیمنٹ کی خودمختاری پر سوالیہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ کون ہوتے ہیں جیل مینوئل میں ترمیم کرنے والے، یہ تو صوبائی معاملہ ہے۔ یہ کیسے صوبے کو ڈکٹیشن دے سکتے ہیں۔ یہ صوبائی حکومتوں کا اختیار ہے کہ جیلوں میں قیدیوں کو کس طرح رکھنا ہے۔ حکومتی جماعت کے چیف وہیپ عامر ڈوگر نے کہا کہ قانون سازی کے حوالے سے آئین و قانون کے مطابق کارروائی ہوئی ہے۔ ریکارڈ قانون سازی ہو گئی۔ مبارکباد دیتا ہوں۔ راجہ پرویز اشرف نے واضح کیا کہ کیا بحث ہوئی؟ کس کو بولنے دیا؟ سپیکر آپ محافظ ہیں فادر آف دی ہاؤس ہیں ایوان کو متنازعے نہ بنائیں۔

حکومت کی طرف سے اسے ایوان کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے اور کس کے اشاروں پر ایسا ہو رہا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے واضح کہا کہ مذاکرات میں میرا کام سہولت کاری ہے۔ مجھے کوئی حکم نہیں دے سکتا۔ ایم ایم اے کے رہنما اسعد محمود نے کہا کہ آپ بائیس کروڑ عوام کے حقوق کے محافظ ہیں مگر مذاکراتی کمیٹی میں حکومتی پوزیشن کیلئے بیٹھ کر خود کو متنازعے بنا رہے ہیں آپ کو فریق نہیں بننا چاہئے۔ راجہ پرویز اشرف نے مطالبہ کیا کہ آصف علی زرداری کی صحت کے لئے میڈیکل بورڈ بنایا جائے۔ تاخیر کی وجہ سے نوازشریف کی صحت بھی بگڑ گئی۔ ان معاملات سے پارلیمنٹ اور سیاست کو کوئی عزت نہیں ملتی۔ وزیر دفاع اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ اپوزیشن سننے کی طاقت پیدا کرے۔ میں مذاکراتی کمیٹی کا سربراہ ہوں۔ وزیراعظم نے مکمل اختیار دیا ہے اپنے اختیار کے تحت چیئرمین سینیٹ، سپیکرز قومی و پنجاب اسمبلی کو کمیٹی میں شامل کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک اپوزیشن کا ہے کسی اور کا نہیں ہے۔ چیئرمین سینیٹ اور سپیکرز کی نمائندگی کا مقصد سہولت کاری کا حصول تھا کیونکہ ان کے تمام ارکان سے رابطے ہوتے ہیں ہم کم درجے کے سیاسی رہنما شامل کرتے تو یہ اعتراض کر دیتے۔ یہ ہمیں آئین و قانون نہ سکھائیں۔ ان کی شکلیں دیکھ کر عوام پریشان ہوتے ہیں۔ اسی لئے میں نے پیپلزپارٹی میں پیپلزپارٹی کی وزارت چھوڑ کر عمران خان کا ساتھ دیا یہ جو ملک چھوڑ کر گئے ہیں حساب کتاب تو دینا ہو گا۔ عوام نے ان کو مسترد کر دیا ہے اگر ترقی دی ہوتی تو عوام ان کے ساتھ کھڑے ہوتے۔

اس دوران وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور اور ایم ایم اے کے پارلیمانی رہنما مولانا اسعد محمود کے درمیان جھڑپ ہو گئی اسعد نے کہا کہ سپیکر ان سے استعفی دلوائیں مستعفی ہونے کا اعلان کروائیں۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ مولانا کو چیلنج کیا ہے آؤ مقابلہ کر کے دکھاؤ۔ اسعد نے کہا کہ ابھی ابھی استعفی دو آؤ حلقے میں مقابلہ کرتے ہیں۔ علی امین نے کہا کہ بار بار کہہ رہا مولانا فضل الرحمان تم دھاندلی کی بات کرتے ہو آؤ کیمرے لگا کر دوبارہ مقابلہ کرتے ہیں دھرنا ختم کرو قوم سے معافی مانگو میں مقابلہ کے لئے تیار ہوں اسعد محمود نے کہا کہ میں یہی تو کہہ رہا ہوں یہ بھی استعفی دے میں بھی استعفی دیتا ہوں میدان میں مقابلہ کریں وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ پہلے یہ علی امین کا تو جواب دیں ۔ علی امین گنڈا پور نے مولانا اسعد محمود کو زور زور سے للکارنا شروع کر دیا۔ اسعد محمود نے پھر کہا کہ میں چیلنج کرتا ہوں یہ بھی مستعفی ہوں میں بھی مستعفی ہوتا ہوں آؤ انتخابات میں جاتے ہیں۔ اب پیچھے نہ ہٹو۔ اب انتخاب ہو کر رہے گا۔ ابھی استعفیٰ دو کل انتخابات ہوں۔ کہاں جا رہے ہو؟ اس دوران علی امین گنڈا پور کی تلخ کلامی پر اپوزیشن ارکان نے استعفے استعفے کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ آؤ مقابلہ کرتے ہیں۔ اسعد محمود نے کہا کہ میں تو کہہ رہا ہوں آؤ انتخاب لڑتے ہیں۔ پرویز خٹک نے کہا کہ یہ کیوں سارے انتخابات کا مطالبہ کیوں کرتے ہیں کیا پاکستان میں ان کا راج ہے۔

پاکستان ہمارا بھی ہے۔ صبر کریں اپوزیشن ہنگامہ آرائی کیوں کر رہی ہے۔ اس طرح معاملات نہیں چل سکتے۔ یہ تماشا نہیں چلے گا۔ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی جائیں۔ مولانا کو منائیں اور پھر ہم سے بات کریں اگر ملک کو چلانا چاہتے ہو تو میز پر بات کرو۔ اسعد محمود نے اعلان کیا کہ دھرنے میں بیٹھے رہیں گے جب تک ان کو نکال نہیں دیتے۔ پرویز خٹک نے پرجوش انداز میں کہا کہ بیٹھے رہو ہم عدالت اور کمیشن گئے جب کسی نے ہماری بات نہیں سنی تو ہم نے دھرنا دیا۔ ان کی طرف سے کہا جا رہا ہے کہ جرگہ ٹائم پاس کے لئے ہے۔ مولانا کا بھی بیان آیا ہے۔ میں بھی کہتا ہوں کہ ہم بھی مولانا کے ساتھ وقت گزاری کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ایک بار پھر علی امین گنڈاپور اور اسعد محمود میں جھڑپ ہو گئی۔ مسلم لیگ (ن) کے رکن افتخار شاہ نے وزیر امور کشمیر کو کھری کھری سنا دیں۔ ایک دوسرے کو دھمکیاں دی گئیں کہ باہر نکلو۔ اسعد محمود نے کہا کہ علی امین اپنے دعوے پر پورا کیوں نہیں اتر رہے۔ آؤ نہ انتخاب لڑتے ہیں۔ یہ استعفیٰ دیں، ابھی دیں میں بھی دیتا ہوں، دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔ وزیر امور کشمیر خاموشی سے اپنی نشست میں بیٹھ گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا کہ کل ایوان کا سیاہ ترین دن تھا۔ بولنے کی اجازت نہ دے کر جمہوریت کی تضحیک کی گئی۔ اس سے جمہوریت کا بیڑہ غرق کرنے کی کوشش کی گئی۔ پرویز خٹک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بیج ان کے بوئے ہوئے ہیں کنٹینر پر چڑھ کر ڈانس کرتے تھے مجھے پتہ نہیں تھا کہ انہیں یہ کام بھی آتا ہے انہوں نے جو ٹھمکا لگایا ہم وہ نہیں لگا سکتے۔ مذاکراتی کمیٹی نے اسپیکر، چیئرمین کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے اگر یہ کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو جمہوریت کے لئے کردار ادا کریں۔

ایک پارٹی کے وکیل نہ بنیں۔ یہ ان کے مناسب کے شایان شان نہیں ہے بلکہ یہ عام انتخابات کی وکالت کریں۔ جمہوریت کے وکیل بنیں، پارلیمنٹ کی وکالت کریں، سپیکر پنجاب اسمبلی کا بیان آیا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی نے نیازی کو اپوزیشن کے مطالبات سے آگاہ ہی نہیں کیا۔ میں نے بتائے ہیں۔ مذاکراتی کمیٹی اصل بات نیازی کو بتاتی ہی نہیں ہے کیونکہ نیازی ان سے ناراض ہو جاتا ہے اور کئی کئی ماہ ان سے بات ہی نہیں کرتا۔ علی امین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ نوزائیدہ ہے میں ان کی بات کا برا نہیں مانتا۔ میں ان کو جواب نہیں دے سکتا ہوں۔ اس دوران علی امین نے کہا کہ انہوں نے مولانا کو ڈیزل کہا اس کا جواب دیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ میں نے تو ان کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا کیا اب وہ بھی بتا دوں ایسے ہی لوگ نیازی کو گالیاں پڑوا رہے ہیں۔ یہ اندر سے نیازی کے دشمن ہیں ان کا بھیجہ خالی ہے۔ان کے چراغ تلے اندھیرا ہے ان جب چھت گرے گی تب پتہ چلے گا جمہوریت ہی وفاق کو قائم رکھ سکتی ہے

دوصوبوں میں شرگوشیاں ہو رہی ہیں ان کو سنیں پڑوسی دشمن ملک اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے مقتدر اداروں بشمول ان اداروں کو وارننگ دے رہا ہوں آنے والے وقتوں کی حقیقی جمہوریت قائم ہونے دیں، آئین سے روگردانی نہ کریں ادارے آئین کا احترام کریں، ہماری تو تلاشی لی گئی تھی اب ان کی تلاشی کی بات آئی تو فارن فنڈنگ کیس میں جواب ہی نہیں دے رہے۔ کل ان کے قائد ہمیں کہہ رہے تھے کہ ان کی شلواریں گیلی ہوگئی ہیں اب ان کی شلواریں گیلی ہوگئی ہیں۔ ہمارے قائد کو جیل میں ڈالا گیا اب ضمانت پر ہیں آج جب یہ چورپکڑے جارہے ہیں ان کے گلے پر ہاتھ پڑ رہے ہیں تو پکڑائی دینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بغیر کسی عمل کے 12 آرڈیننس منظورکروا لئے گئے آج وہ شخص دیوار کے پیچھے چھپاہواہے ، نیازی دفتر میںبیٹھ کر دیکھتارہا کہ بچے جمہوری کیا کررہے ہیں،سارا ایوان پشیمان ہے یہ جمہوریت کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔ وارننگ دیتاہوں کہ ایسے رویوں سے سارا نظام لپیٹا جاسکتاہے۔ ان کو وہ کچھ پتہ نہیںہے جو میںجانتاہوں انتخابات کا اعلان ہونے والاہے۔ کل ایوان میں جو کرسی پر بیٹھا تھا وہ بھی گالیاں دلوا رہا ہے۔ پارلیمانی روایات کو مسخ کر دیا گیا ہے۔ اس دوران سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے واضح کیا کہ میں اس کرسی پر آئین، قانون اور قواعد و ضوابط کے مطابق بیٹھا ہوں جمہوریت اور پاکستان کے لئے کردار ادا کر رہا ہوں۔ اب بھی کردار ادا کرتا رہوں گا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ حلف کا بھی یہی تقاضا ہے کہ اس کی پاسداری کی جائے۔ فریق نہ بنیں۔ آج ان کی فارن فنڈنگ پکڑی گئی ہے۔ ہندوستانیوں سے پیسے لئے۔ شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ تقریر تو دور کی بات ہے اب تو قانونی سازی پر بحث کا وقت بھی نہیں دے ایک شخص ایوان میں طوطے کی طرح کارروائی کو پڑھتا رہا۔ ہماری ترامیم، آرڈیننس کو مسترد کرنے کی قراردادیں نظرانداز کر دی گئیں۔ ایسا تو ہوتا ہے جب 65 ہزار جعلی ووٹ والا نشست پر بیٹھے گا۔ جمہوری عمل سے آیا ہوتا تو اسے پتہ ہوتا کہ بیلٹ بکس کا کیا تقدس ہوتا ہے۔ ہم عوام کے ووٹ سے آئے ہیں۔ سارا عوام شرمسار ہے۔ آئین کو پامال کیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے معاملے پر بھی صدارتی اعلامیہ آئین سے انحراف تھا۔

اداروں اور اس میں موجود لوگوں کو آئین کی خلاف ورزی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہمارا یہ حق ہے کہ صدر کا مواخذہ کریں۔ یہ آرٹیکل 6 کی بات کر رہے تھے خود آرٹیکل 6 کی زد میں آ رہے ہیں کیونکہ آئین کو سبوتاژ کیا گیا ہے۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ ہمیں انصاف نہ ملا تو ساتھ والی بلڈنگ میں جانے پر مجبور ہیں۔ سپریم کورٹ سے آئین کی تشریح مانگیں گے کہ گزشتہ روز کی کارروائی آئینی تھی یا غیرآئینی تھی۔ پتہ نہیں یہ کس کی انگلی کی بات کرتے تھے ہم تو سپریم کورٹ کی انگلی کی بات کر رہے ہیں۔ ہم ان کی انگلی اٹھنے کا انتظار کرینگے۔ ڈپٹی سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائیں گے۔ وزیر مواصلات مراد سعید ایوان میں دفاعی پوزیشن میں نظر آئے اور کہا کہ ڈپٹی سپیکر کے ووٹ پچیس ہزار تھے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ 65 ہزار جعلی نکل آئے۔ جب ان کی کابینہ تھی کوئی باہر ملک چوکیدار تھا۔ کوئی ویلڈر، کوئی مستری بن گیا۔ چار دن بعد وہاں جا کر حاضریاں لگاتے تھے وہاں ڈیوٹیاں دیتے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے وزیر خارجہ نے امریکہ کو خوش کرنے کے لئے امریکہ جا کر کہا ہم سے بڑا لبرل کوئی نہیں ہے۔ عمران خان اسلام پسند ہے اب یہاں آ کر دینی بن جاتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے دور میں سپیکر ہاؤس میں سیاسی جماعتوں کے اجلاس ہوتے تھے۔ اس دوران سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دوٹوک انداز میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ ناموس رسالتۖ ایکٹ میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی ہمارے ہوتے ہوئے ایسا کام نہیں ہو سکتا ناموس رسالتۖ کے لئے ہم اپنی جانیں قربان کر دینگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں