کلیان سنگھ  کا  ننکانہ 22

کلیان سنگھ کا ننکانہ

انڈیا اور پاکستان میں کرتار پور راہداری کے افتتاح کے بڑے چرچے ہیں ۔ ایک روز بعد سکھ مذہب کے بانی گرونانک دیو جی کا 550 واں جنم دن بھی منایا جا رہے ۔ پوری دنیا کے سکھ خوشی سے نہال ہیں کہ انہیں اپنے روحانی پیشواء کی سمادھی تک رسائی مل رہی ہے۔ سکھوں نے تین کلومیٹر کی اس مسافت کو تقریباً پون صدی میں طے کیا ہے۔ دنیا بھر میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کی محبت کی پتنگ اُونچی اُڑانیں بھرنے میں مصروف ہے ۔ بھارت میں انتہاء پسند ہندو دل گرفتہ ہیں۔ پاکستان میں بھی مولانا فضل الرحمن اور بلاول بھٹو نے کرتار پور منصوبے پر ” بوکاٹا ، بوکاٹا ” کرنے کی کوشش کی لیکن انسانیت سے محبت کی ڈوری میں” بندھی ” پتنگ کاٹی نہ جا سکی ۔ دنیا بھر کے سکھ” ترنگا” کی بجائے سبز ہلالی پرچم کو سیلوٹ کررہے ہیں ۔۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ بھارت کے بعض علاقوں کی فضاؤں میں بھی ہمارا پرچم لہراتا دیکھا گیا ۔ایسا کیوں نہ ہو کہ
یہ پرچموں میں عظیم پرچم
عطائے ربِ کریم پرچم
نانک دیو جی کی پیدائش ننکانہ صاحب شہر میں 15 اپریل، 1469ء کو ہوئی اور وفات 22 ستمبر، 1539ء کو شہر کرتار پور میں ہوئی۔ نانک دیو جی کا جنم دن گرپورب کے طور پر دنیا بھر میں کاتک کے مہینے (اکتوبر–نومبر) میں پورے چاند کے دن، یعنی کارتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے۔۔۔ اس لحاظ سے اس سال یہ 9 ، نومبر کا دن بنتا ہے ۔ بابا گورونانک کے 550 ویں جنم دن کی تقریبات میں دنیا بھر سے سکھ یاتریوں کی پاکستان آمد کی تیاریاں ایک سال پہلے سے جاری ہیں ۔ اس بڑے ایونٹ کے حوالے سے گذشتہ ایک سال میں کئی مرتبہ ننکانہ صاحب جانے کا سوچا مگر مصروفیات آڑے رہیں ۔۔۔ خواہش من کی تھی اِسے من پر ہی کھُلنا تھا لہذاس سے پہلے کہ ہماری یہ خواہش حسرت بنتی پنجابی زبان کے نامور لکھاری اور معروف کہانی نگار ملک مہرعلی سے ملاقات ہو گئی ۔ملک مہر علی پنجابی ادب کی بلند قامت شخصیت ہیں، ان کا ادبی حوالہ جُفرافیائی سرحدوں سے ماورا ہو چُکا ہے اور وہ پانچ دریاؤں کی اس سرزمین سے محبت کا استعارہ ہیں ۔۔۔ ساہیوال کے علاقے ہڑپہ کے رہنے والے ہیں اپنی مٹی اور دھرتی کو برکتوں کی کہشکشاںقرار دیتے ہیں ۔۔۔لاہور میں تھے تو خود ہی کہنے لگے کہ چلیں ننکانہ صاحب چلتے ہیں ۔ ملک صاحب کی قیادت میں منصور آفاق ، پنجابی ادب کے معتبر ادیب مدثر بشیر ، شاعر اور پبلشر اعظم ملک کے ہمراہ ہم ننکانہ صاحب پہنچے تو محمد حسن رائے ہمارے منتظر تھے ۔ تاریخ کے اُستاد ہیں مقامی کالج میں پڑھاتے ہیں اور پنجابی کے شاندار شاعر اور خوبصورت انشان رائے محمد خان ناصر کے فرزند ہیں ۔ سب اکٹھے ہوئے تو ہمارے میزبان پروفیسر کلیان سنگھ تھے ۔ پروفیسر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہورمیں پنجابی کے اُستاد ہیں ۔ پنجابی ادب اور تاریخ ان کے مطالعے کے خاص موضوعات ہیں ۔

گوردوارہ جنم استہان 26ایکڑوں پر پھیلی ہوئی سکھوں کی مقدس عبادت گاہ ہے۔ ۔۔ داخلے کے وقت ہر شخص کا ننگے پاؤں ہونا ضروری ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ جُرابیں تک بھی اُتار دی جاتی ہیں۔ مرکزی دروازے میں داخل ہونے سے پہلے بہتے پانی میں پاؤں دھوئے جاتے ہیں سر کو ڈھانپا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ منصور آفاق اپنے برطانیا میں قیام کے دوران سکھ کیمیونٹی کے حوالے سے ایک ڈرامہ بھی تحریر کر چُکے تھے ان کی جانب سے بھی ہمیں وقتاً فوقتا معلومات فراہم کی جاتی رہیں ۔ داخلی دروازے کے بائیں جانب ایک کنواں تھا جس میں اب امریکن فلٹر پلانٹ لگا ہوا ہے ۔ بتایا گیا کہ یہ کنواں گورونانک دیو جی کی ہمشیرہ ” بی بی تانکی ” نے تعمیر کروایا تھا اور اس کے پانی کو سکھ مت میں مقدس گردانا جاتا ہے ۔ قریبی برآمدے میں پروفیسر کلیان سنگھ کی والدہ پرشادتیار کرنے میں مصروف تھیں ۔ سب نے انہیں سلام کیا انہوں نے بڑی شفقت سے دعائیں دیں ۔ کلیان سنگھ نے بتایا کہ ہر گوردوارہ میں ” گرنتھ صاحب ” کے ساتھ ساتھ رہائش اور لنگر کا بندوبست ہونا ضروری ہے۔ د ُورسے آنے والوں کی نشاندہی کے لیئے لوہے کے ایک بُلند پول پر دودھاری تلوار جسے پنجانی میں کھنڈا کہا جاتا ہے نصب تھی ۔ اس پول کو ” نشان صاحب ” بھی کہا جاتا ہے ۔ گوردوارہ کے عین درمیان میں مرکزی کمرہ ہے جس میں گرنتھ صاحب( مقدس کتاب ) رکھی ہوئی ہے ۔ یہاں پر ایک گیانی ہمہ وقت ”گروگرنتھ ” کے مطالعے میں مصروف رہتا ہے۔ اس کتاب کو زندہ گرو بھی مانا جاتا ہے اسی لیئے سکھ اس کی زیارت کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔ یہ کمرہ گورونانک کے پوتے نے تعمیر کروایا تھا جبکہ گوردوارے کی باقی عمارت مہاراجہ رنجیت سنکھ کی تعمیر کردہ ہے ۔ اس وقت اس عمارت میں 384 سے زائد کمرے ہیں اور وقتاً فوقتاً تعمیرات جاری رہتی ہیں ۔ یہاں ایک مقد س درخت ” جنڈ شہید صاحب ” کے نام سے بھی موجود ہے ۔ جس کے قریب کھڑے ہوکر سکھ مناجات کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اُن شہیدوں کو خراجِ عقیدت بھی پیش کرتے ہیں ۔ جنہیں اس گوردوارے پر قابض ہندوؤں نے اس درخت کے ساتھ اُلٹا لٹکا کر جلا دیا تھا ۔ اس عمارت کے وسط میں مشرقی پنجاب ( انڈیا )کے ایک سابق وزیر اعلیٰ کی طرف سے گفٹ کی گئی سونے سے بنی ہوئی پالکی بھی موجود ہے ۔یہاں سکھ شادی کی رسومات ادا کرتے ہیں ۔

عمارت میں ایک مقدس تالاب بھی ہے جہاں مردوں اور عورتوں کے نہانے کے لیئے علیحدہ علیحدہ انتظام ہے ۔ برِ صغیر کے سماج میں بسنت کی اپنی ہی ایک اہمیت ہے۔ سکھ بھی بسنت کے تمام تہوار اہتمام کے ساتھ مناتے ہیں ۔ کلیان سنگھ کا کہنا تھا کہ بسنت میں یہاں خصوصی پرشاد تیار کیا جاتا ہے جو میری والدہ ایسے چھوٹے بچوں کے منہ میں ڈالتی ہیں جن کی زندگی میں بسنت پہلی بار آئی ہو ۔۔ سکھ مت میں صوفی شعراء کا بہت احترام ہے۔ گوروگرنتھ صاحب میں بہت سے مسلمان صوفیاء کا کلام شامل ہے۔ گروارجن دیوجی کی مسلمان صوفیا سے کافی قربت رہی ۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے گرو گرنتھ صاحب کی تدوین سے پہلے امرتسر کا تالاب مکمل کروایا تھا جو ان کے والد گرو رام داس جی نے شروع کیا تھا۔ امرتسر کے تالاب گولڈن ٹیمپل کی بنیاد رکھنے سے پہلے وہ لاہور آئے اور مسلمان صوفی میاں میر (1635ـ1550) سے درخواست کی کہ وہ اس کی بنیاد اپنے ہاتھوں سے رکھیں۔ مشہور سکھ تاریخ دان گیانی گیان سنگھ اور مسلمان مؤرخ غلام محی الدین المعروف بھٹے شاہ بھی اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ گرو ارجن جی نے اس موقع پر بہت سے صوفیا کو مدعو کیا اور میاں میر صاحب نے چار اینٹوں سے اس کی بنیاد رکھی۔ سکھ مسلم تعلقات میں قیامِ پاکستان کے موقع پر ہونے والے فسادات کی اذیت اپنی جگہ لیکن اب ان دونوں کے درمیان روابط بحال ہو رہے ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہندو کی تنگ نظری ہے۔ کرتار پور راہداری بھارت کے روایتی ہندو سماج پر پاکستان کی ایک بڑی سفارتی فتح ہے۔ جس پر پاکستان کی حکومت مبارکباد کی مستحق ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کو مبارکباد دینے کے ساتھ ساتھ ہم پروفیسر کلیان سنگھ کے بھی مشکور ہیں جن کی میزبانی میں ہم گوردوارہ جنم استہان کا مطالعاتی دورہ کر پائے ۔۔کلیان سنگھ کے ننکانہ صاحب میں یہ مختصر قیام ہمیں ہمیشہ یاد رہے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جواب دیجئے