مولانا کی تنہائی؟ 46

مولانا کی تنہائی؟

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو قومی مسائل نہیں اپنے ذاتی مسائل درپیش ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کو اتنی سمجھ ہے کہ مولانا قومی مسائل کے لئے اپنے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہیں۔ مگر انہیں قومی مسائل حل کرنے توفیق نہیں ہو رہی ۔ مولانا فضل الرحمن ان کی فکر وسوچ کا نکتۂ آغاز ونکتہ اختتام ہے۔ خان صاحب قومی مسائل حل کیجئے لوگوں کو ٹیکس اور مہنگائی نہیں سستے داموں اشیاء خورد ونوش فراہم کیجئے۔ آپ نے تو یوٹیلٹی اسٹورزمیں بھی مہنگائی کی آگ لگا رکھی ہے۔ عوام کو کرپشن کرپشن کے ورد سے سروکار نہیں اس کے خاتمے میں دلچسپی ہے۔ سرکاری اداروں اور محکموں میں آج بھی بدعنوانیاں، بے قاعدگیاں اور بے ضابطگیاں عروج پر ہیں۔ رشوت وسفارش کا بازار آج بھی گرم ہے۔ بجلی چور آج بھی مزے میں اور میٹر نصب کرا کر مقدار ضرورت بجلی استعمال کر کے بروقت بل ادا کرنے والے آج بھی ناجائز جرمانوں کی زد میں ہیں۔ ترقیاتی اسکیموں اور منصوبوں کا معیار آج بھی حسب سابق ہے۔ پینے کا صاف پانی،نکاسی آب اور صفائی کا نظام آج بھی درست نہیں۔ ذخیرہ اندوزوں، ملاوٹ، نمبر دو ادویات اور مصنوعی گرانی آج بھی جوں کے توں ہیں۔ لوگوں کے جان ومال اور آبروئیں آج بھی محفوظ نہیں سرکاری ادارہ ہائے تعلیم وصحت آج بھی پہلے سے بہتر نہیں ہیں۔ غربت وافلاس، بے روزگاری اور لوٹ مار پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ معاشی ناانصافی، سماجی ناہمواری، اعلی وادنی کی تمیز، امیر وغریب کا امتیاز، طاقتور وکمزور کی تفریق آج بھی موجود ہے۔ انصاف حسب سابق مہنگا اور برائے نام ہے۔ ظلم وجبر اور استحصال جاری ہے۔ اگر آپ کو علم ہے کہ مولانا کو اپنے مسائل سے واسطہ ہے تو پھر آپ عوامی مسائل کا حل کر دیجئے۔

آئی ایم ایف کے پنجہ استبداد سے نکال کر عوام کو مولانا فضل الرحمن سمیت تمام سیاسی قائدین سے متنفر کر دیجئے۔ پھر آپ بھی ماؤزے تنگ اور طیب اردگان کی مثل ہیرو بن جاؤ گے۔ مولانا نواز شریف اور آصف زرداری آپ کے آگے کیا بچیں گے؟ تب آپ ہی آپ بنو گے۔ مگر آپ تو صدام حسین معمر قذافی، انور السادات ، حسنی مبارک، بشار الاسد اور شاہ سلمان کے نقش قدم پر چلنے لگے ہو۔ جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ مولانا تنہا رہ گئے ہیں تو وہ ٹھیک ہی ہیں۔ یہ بات تو مولانا کو خوب معلوم ہے۔ پی پی اور ن لیگ حب علی میں نہیں، بغض معاویہ میں ان کے ساتھ یکجہتی کر رہی ہیں۔ مولانا نے ناموس رسالت ریلیاں تنہا نکالیں۔ اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا فیصلہ تنہا کیا۔ دھرنے میں صرف انہی کے کارکنان شامل ہیں۔ موسم میں خنکی کا بھی انہیں پتہ تھا۔ کب تک ٹھہرتا ہے اور آگے کیا کرتا ہے انہیں ہی علم ہے۔ پی پی اور ن لیگ تو معترض ہیں کہ مولانا نے انہیں آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ نہیں کیا۔ گویا مولانا تو اپنی تحریک اپنے زور پر ہی چلا رہے ہیں پس اپوزیشن کو تو ہمراہ لینا علامتی امر ہے۔ مولانا فتح کا حصول بھی تنہا چاہتے ہیں اور شکست بھی تنہا ہی کھانے سے باخر ہیں۔ قومی وصوبائی اسمبلیوں سے ان کے اراکین کے استعفی عبث ہو سکتے ہیں مگر ملک بھر میں تحریک چلایا اور جیلوں بھرنا ان کے مشکل کام نہیں۔

ناموس رسالت ۖ، ختم نبوت اور نفاذ شریعت کے نعروں سے وہ لاتعلق نہیں ہو سکتے اور پی پی ون لیگ اس سلسلے میں ان کے ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ سب کچھ مولانا صاحب سے ڈھکا چھپا نہیں، اس لئے وہ لوگ غلطی پر ہیں جو مولانا کی تنہائی اور بندگلی میں پھنس جانے کا غم کھا رہے ہیں۔ مولانا نے اپنے پتے اپوزیشن کے سامنے نہیں رکھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی تنہائی سے خوفزدہ نہیں بلکہ ان کی حکمت عملی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں