یہ منہ اور مسور کی دال 85

یہ منہ اور مسور کی دال

مشہور کالم نگار اور تجزیہ کار جناب ابن آدم نے روزنامہ اعتدال کے زریعے گیدڑ اور اس کا سایہ کے عنوان سے ایک دلچسپ کہاوت بمعہ اس کی تفصیل اور اپنا تجزیہ پیش کیا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں سوچا میں بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لوں کیونکہ آج کل ہر کسی کی اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ ہے۔ ویسے بھی آج کل کی عوام کی خاموشی گھوڑے بیچ کے سونا کے مترادف ہے۔ جناب گلزار احمد خان ہمیشہ مجھے کہتے ہیں کہ بات کا بتنگڑ بنانا تو کوئی آپ سے سیکھے، بس جلدی جلدی بات کیا کرو اور بس، یہ کیا کہ سیاستدانوں کی طرح اِدھر ادھر کی باتیں کر کے اصل بات نہیں کرتے۔ میں بھی جوابا کہتا ہوں کہ یہ تو آپ جیسے لکھاریوں کی صحبت کا اثر ہے اور کبھی بھی تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی کیونکہ سب جانتے ہیں ایک اکیلا دو گیارہ ہوتے ہیں۔ تحریر کی طوالت کو کون دیکھتا ہے کیونکہ یہاں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے اور ہر کوئی یہاں ہتھیلی پہ سرسوں جمانا کا مصداق نظر آتا ہے۔ تو قارئین آپ ہی بتائیں ایسے ماحول میں بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے جب بلی سے دودھ کی رکھوالی کروائیں گے تو یہی حآل ہو گا اور جو بولے گا تو آبیل مجھے مار والی بات ہو گی۔

بہر حال کہاوتیںکسی معاشرے کی تہذیب، تمدن، ثقافت، جغرافیے، مذہب اور نظریات وغیرہ میں رچی ہوئی نہایت دانشمندانہ اور حکیمانہ نکات پر مشتمل ہوتی ہیں اور اکثر ان کے معانی اور دلالتیں اس تمدن کے مخصوص تناظر ہی میں پوری طرح روشن ہوتے ہیں۔ عام طور پر کسی قوم کے استعمال میں آنی والی کہاوتوں سے اس کے رویوں، لوک دانش اور رہن سہن کے بارے میں خاصی معلومات اخذ کی جا سکتی ہیں۔ کہاوتوں اور محاوروں میں ہمیں تہذیب و تمدن کے رجحانات، سماج کے عقیدے ، مختلف مسائل ، اور رسم و رواج کی تصویریں نظر آتی ہیں۔ کہاوتیں اور محا ورے اجتماعی زندگی کے بہترین مرقع ہوتے ہیں ان میں معاشرے کی پوری ذہنیت اور شخصیت رچتی بستی ہے بلکہ یہ اجتماعی تجربے کا ذریعہ اظہار ہیں۔ عوام میں روزمرہ استعمال ہونے والے محارے اور کہاوتیں فرد کی انفرادیت ختم کر کے اس کو اجتماعیت کا احساس دلاتے ہیں, یہ دیکھنے میں جز معلوم ہو تے ہیں لیکن اس جز میں کل پنہاں ہو تا ہے، اس میں ارتقائے تمدن کی کہا نی پو شیدہ ہوتی ہے۔ کہاوتوں اور محاوروں کا معدن عوام ہے۔ یہ کلی طور پر عوام کی پیدا وار ہے۔ اس کو بنا نے کے لیے کوئی مہم نہیں چلا ئی جا تی اور نہ ہی اس کے لیے ادبی اصطلاح وضع کر نے کی طرح کسی قسم کی کمیٹی تشکیل دی جا تی ہے ضرب المثل محاورہ یا کہاوت گھڑی نہیں جاتی بلکہ یہ عوام کے ہزاروں سال کے تجربات و مشاہدات اور واقعات و حادثات کے حقائق کی بنیاد پر استعمال کیے ہو ئے جملے ہو تے ہیں۔

مگر مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ اردو کی کہاوتیں اور محاورے اپنے اندر جو حکایات، علامتیں اور نام لیے ہوئے ہیں ان کی حقیقت اور پس منظر سے ہماری آج کی نسل ناواقف ہے۔ نسلِ نو کو بتانا چاہتا ہوں کہ کہاوت کسی واقعے یا بات میں چھپی ہوئی سچائی یا عقل کی بات کو سمجھانے کے لیے بولی جاتی ہے۔ کہاوتیں بڑی دلچسپ اور مزیدار ہوتی ہیں۔ ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی بھی ہوتی ہے۔ جیسا کہ عام استعمال ہونے والی کہاوت یہ منہ اور مسور کی دال اس کہاوت کا مطلب ہے کہ یہ منہ اس کام یا ذمہ داری کے قابل نہیں اور اسی منہ سے کہتے ہو کہ ہم یہ کریں گے، ہم وہ کریں گے۔ یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کسی سے یہ کہنا ہو کہ تم نالائق ہو اور فلاں کام نہیں کر سکتے۔ اس کا قصہ بھی سنیے۔ کہتے ہیں کہ کسی بادشاہ کا باورچی ایک نواب کے ہاں نوکر ہوگیا، نواب نے اس سے پوچھا تم کیا چیز سب سے اچھی پکاتے ہو؟، وہ بولا مسور کی دال ایسی مزیدار پکاتا ہوں کہ جو کھاتا ہے انگلیاں چاٹتا رہ جاتا ہے، نواب نے کہا اچھا کل ہمارے ہاں دعوت ہے کل ہی مسور کی دال پکا کر دکھا تو جانیں۔ باورچی نے حامی بھر لی، اگلے روز شامیانہ بندھا، مہمان آئے، باورچی نے مسور کی دال طشتری میں نکال کر پیش کی۔ پورا شامیانہ مہک اٹھا نواب صاحب آئے دال چکھی واقعی ایسی ذائقے دار اور مزیدار دال کبھی نہ کھائی تھی، اش اش کر اٹھے، لیکن تھے آخر کو کنجوس، خرچ کا خیال آگیا۔ بادشاہ ہوتے تو خرچ کی فکر نہ کرتے، لیکن باورچی بادشاہ کے محل میں کام کر چکا تھا، دل کھول کر خرچ کرنے کا عادی تھا۔ اس لیے جب نواب صاحب نے پوچھا کہ دال تو بہت مزے کی ہے، مگر خرچ کتنا اٹھا۔ باورچی کو بہت برا لگا، ضبط کر کے بولا دو آنے کی دال ہے، بتیس روپے کا مسالا ہے۔ سستا زمانہ تھا نواب صاحب اتنی مہنگی دال کا سن کر چیخ پڑے کیا کہا! بتیس روپے دو آنے کی مسور کی دال؟ باورچی تو بھرا بیٹھا تھا طیش میں آکر جیب سے بتیس روپے دو آنے نکال کر رکھ دیے اور دال کا برتن زمین پر پٹخ دیا اور کہا اونھ ! یہ منہ اور مسور کی دال یہ کہہ کر چلا گیا۔ کہتے ہیں کہ دال شامیانے کے جس بانس پر گری تھی وہ کچھ روز بعد مسالے کے اثر سے سر سبز ہوگیا اور اس طرح یہ کہاوت مشہور ہوگئی۔ بیشتراوقات ہم سنتے اور کہتے ہیں دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی اس کہاوت کا مطلب ہے انصاف ہونا اور یہ ایسے موقع پر بولی جاتی ہے جب سچ اور جھوٹ الگ ہوجائیں اور کسی کو اس کے اچھے یا برے کام کا بدلا ملے۔

اس کا قصہ یوں ہے کہ ایک گوالا بڑا بے ایمان تھا اور دودھ میں پانی ملا کر بیچا کرتا تھا۔ بہت جلد اس نے اچھے خاصے پیسے جمع کر لئے۔ ایک روز اس نے ساری رقم ایک تھیلی میں ڈالی اور اپنے گاوں کی طرف چلا، گرمی کا موسم تھا پسینہ چوٹی سے ایڑی تک بہہ رہا تھا، گوالے کے راستے میں ایک دریا پڑتا تھا، اس نے سوچا چلو نہا لیتے ہیں۔ روپوں کی تھیلی اس نے ایک درخت کے نیچے رکھی ، تھیلی پر کپڑے ڈال دئیے اور لنگوٹ کس کر پانی میں کود پڑا۔ اس علاقے میں بندر بہت پائے جاتے تھے، اتفاق کی بات ایک بندر درخت پر چڑھا یہ ماجرا دیکھ رہا تھا۔ گوالے کے پانی میں اترتے ہی بندر درخت سے اترا اور روپوں کی تھیلی لے کر درخت کی ایک اونچی شاخ پر جا بیٹھا۔ گوالا پانی سے نکلا اور بندر کو ڈرانے لگا، لیکن بندر نے تھیلی کھولی اور روپے ایک ایک کر کے ہوا میں اڑانے لگا۔ درخت دریا کے کنارے سے بہت قریب تھا اور روپے اڑ اڑ کر پانی میں گرنے لگے۔ گوالے نے روپوں کو پکڑنے کی بہت کوشش کی، لیکن پھر بھی آدھے روپے پانی میں جا گرے۔ راستہ چلتے لوگ جو گوالے کی بے ایمانی سے واقف تھے اور یہ تماشہ دیکھنے جمع ہوگئے تھے گوالے کی چیخ و پکار سن کر کہنے لگے، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں