معلی امین گنڈا پور کا چیلنج قبول 242

علی امین گنڈا پور کا چیلنج قبول ، ڈیرہ و ٹانک میں دوبارہ الیکشن ہوگا؟

اسلام آباد (محمداکرم عابد )وفاقی وزیر برائے کشمیر امور اور گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کو ایک بار پھر الیکشن کا چیلنج دیا تھا، جسے ان کے صاحبزادے نے قبول کر لیاہے۔

مطابق قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں ایک بار پھر اس وقت گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب علی امین گنڈا پور نے جمعیت علمائے اسلام(ف)کے امیر مولانا فضل الرحمان کو الیکشن کا چیلنج دیدیا۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو عوام نے مسترد کر دیا، وہ کیمرے لگوا کر دوبارہ الیکشن کرا لیں۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسد نے رہنما پی ٹی آئی کا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا کہ اسمبلی سے استعفیٰ دے کر عوام میں جائیں گے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کے دوران مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود اور وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور آمنے سامنے آ گئے۔ اسعد محمود نے چیلنج کیا کہ ابھی ابھی استعفیٰ دو میں بھی استعفیٰ دیتا ہوں حلقے میں جا کر انتخاب میں حصہ لیتے ہیں۔

میرا چیلنج برقرار ہے سپیکر آپ ان کے اعلان کے مطابق ان سے استعفیٰ دلوائیں جلدی کرو استعفیٰ دو۔ دونوں رہنماؤں میں شدیدجھڑپ ہوئی ۔ اسعدمحمود اورعلی امین ایک دوسرے کو للکارتے رہے وزیرامورکمشیر مستعفی نہ ہوئے اسعد محمود نے کہا کہ علی امین اپنے دعوے پر پورا کیوں نہیں اتر رہے۔ آؤ نہ انتخاب لڑتے ہیں۔ یہ استعفیٰ دیں، ابھی دیں میں بھی دیتا ہوں، دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہو جائے گا الیکشن کمیشن ڈیرہ میں شیڈول کا اعلان کرے۔یاد رہے کہ علی امین گنڈہ پور نے چند روز قبل علی امین گنڈہ پور نے مولانا عطا ء الرحمان کو بھی یہی چیلنج دیا تھا اور انہوں نے بھی قبول کیا تھا

قبل ازیں علی امین گنڈہ پور نے پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کنڈی کو بھی الیکشن لڑنے کا چیلنج دیا تھا جو فیصل کنڈی نے قبول کیا تھا ۔مولانا عطا الرحمان سینٹ جبکہ فیصل کنڈی رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں ان کو چیلنج دیکر الیکشن سے راہ فرار تو کسی حد تک قابل قبول ہے لیکن مولانا اسعد محمود جوکہ خود رکن قومی اسمبلی ہیں نے علی امین گنڈہ پور کا چیلنج قبول کر کے ان کے لئے مسائل پیدا کر دئیے ہیں

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا علی امین گنڈہ پور مستعفی ہو تے ہیں یا پھر پہلے کی طرح اعلان کرکے مکر جاتے ہیں ۔سیاسی ماہرین کے کہنا ہے کہ علی امین گنڈہ پور کے پاس اب استعفیٰ بیچنے کے علاوہ کوئی سیاسی ایشو نہیں ہے۔ایوان میں علی امین کی مسلم لیگ(ن) کے ارکان سے بھی تلخ کلامی ہوگئی ۔علی امین نے کہا کہ خواجہ آصف مولانا کے خلاف بیانات کا جواب دیں ۔ لیگی ایم این اے افتخارشاہ سخت الفاظ میں وزیرامورکشمیر کو مخاطب ہوتے رہے باہر ایک دوسرے کو دیکھنے کی نوبت آگئی تھی استعفی استعفی کے نعرے بھی لگ گئے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں