مساجد اللہ کی رضا کا زریعہ ہیں 44

مساجد اللہ کی رضا کا زریعہ ہیں

حضرت ابو ہریرہ سے یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ نبی اکرام ۖ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جب مسجد میں داخل ہوتو اسے بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نفل نماز تحت مسجد کی نیت کرکے پڑھ لینی چاہیے فقہیہ فرماتے ہیں کہ یہ اس وقت ہے جب نفل پڑھنے کا وقت ہو لیکن اگر عصر یا فجر کی نماز پڑھنے کے بعد داخل ہوا ہو تو پھر نہ پڑھے یہ اس نفل ممنوع ہیں ان وقتوں میں نفل پڑھنا منع ہیں البتہ بیٹھ کر سبحان اللہ ۔ لا الا الہ اللہ کی تسبیح کرتا ہے یا پھر درود شریف پڑھتا رہے اس سے بھی وہی فضلیت حاصل ہوگی اور مسجد کا حق بھی ادا ہوجائے گاحضرت ابو ردہ کو یہ پتا چلا کہ حضرت سلیمان فارسی نے ایک خادم خریدا تو اس پر ایک عتاب آمیز خط انکی طرف لکھا جس میں یہ بھی لکھا میرے بھائی عبادت کے لیے فراغت حاصل کرو اس سے پہلے کہ تجھ پر ایسی بلا اور مصیبت آجائے کہ جس میں تجھے عبادت کی ہمت نہ رہے اور کسی مصیبت زدہ مومن کی دعا کو غنیمت سمجھ اور یتیم پر رحم کھا یا کر اور اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر اپنے کھانے سے اسے کھانا کھلا تیرا دل نرم ہوجائے گا تیری حاجتیں پوری ہونگی۔

میرے بھائی مسجد تیرا گھر ہونا چاہیے یں مں نے نبی اکرام ۖ سے سنا کہ مسجد میں متقی لوگوں کے گھر ہیں اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لیے پل صراط پر راحت آرام سے گزرنے اور دوزخ سے نجات پاکر مقام رضا تک پہنچے کے ضامن ہیں حضرت حکیم بن عمیر کا قول ہے کہ دنیا مین مہمانوں کی طرح رہو مسجدوں کو اپنے ٹھکانے بناؤ اپنے دلوں کو وقت کا عادی بناؤ اور رونے کی کثرت رکھو اس خواہشات نفسانیہ مخلوب ہونگی حضرت قتاوہ فرماتے ہیں کہ مومن کے لئے نہیں کہ تین چیزوں کے سوا کسی اور کی طرف نظر لگائے مسجد جسے وہ آباد رکھتا ہے وہ گھر جس میں وہ سر چھپاتا ہے اور حاجت ضرور یہ کی چیز کہ اس میں کوئی حرج نہیں حضرت نزال بن سُہرہ فرماتے ہیں کہ منافق مسجد میں یوں ہوتا ہے ۔ جیسے پرندہ پنجرہ میں ۔ خلف ان ایوب مسجد میں بیٹھے تھئے کہ ان غلام کچھ پوچھنے کیلئے آیا آپ مسجد سے اٹھ کر باہر گئے اور اس کی بات کا جواب دیا کسی نے ان سے باہر نکلنے کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگے میں انے اتنے سالوں میں کبھی کوئی بات دنیا کی نہیں کی اس لئے آج بھی یہ گوارا نہ ہو کہ مسجد میں ایسی باتو ں کروں اس سے تو سبق ملتا ہے کہ مسجد میں دنیاوی باتیں نہ کریں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر صرف اور صرف اللہ کی عبادت کے لیے فقہہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی بندے مرتبہ اسی وقت ہوتقا ہے جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعظٰم کرتا ہے۔

اس کے گھروں اوربندوں کا احترام کرتا ہے اور مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں لہذا مومن کو انکی تعظیم کرنی چاہیے ۔ کہ اس میں اللہ تعالیٰ ہی کی تعظیم ہے کسی زاہد کا بیان ہے کہ مسجد میں کبھی کسی شے سے ٹیک نہیں لگائی اور نہ ہی کبھی پاؤں پھیلائے اور نہ ہی کبھی دنیا کی مسجد میں بات کرے یہ بات اس لیے بتائی گئی کہ لوگ اسے اپنا نے کی کوشش کریں رسول اللہ ۖ اور آپ کے ساتھی پانچ چیزوں کی پابندی کا اہتمام کرتے تھے امام اوزاعی فرماتے ہیں کہ یہ پانچ چیزیں باجماعت نماز کا اہتمام۔ اتباع سنت، مسجد کی آبادی، قرآن پاک کی تلاوت،جہاد فی سبیل اللہ حضرت حسن بن علی فرماتے ہیں کہ تین شخص اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہوتے ہیں وہ شخص جو مسجد میں محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے داخل ہو یا باہر نکلنے تک اللہ کا مہمان ہوتا ہے وہ شخص جو اپنے مسلمان بھائی کی ملاقات کیلئے جاتا ہے ۔ اور مقصد اللہ کی راضی کرنا ہے جب تک واپس نہیں لوٹتا اللہ کی زیارت کرنے والا سمجھا جاتا ہے ۔

تیسرا وہ جو حج یا عمرپہ کے لیے گھر سے نکلتا ہے محض اللہ کی رضا کے لیے یہ اللہ کے دربار کا وفد ہے جب تک گھر واپس نہ آجائے مومن کے تین قلعے ہیں مسجد،ذکر اللہ ، تلاوت قرآن مجید، جب تک مومن ان میں سے کسی ایک مشعول رہنا ہے تو وہ شیطان سے محفوظ اور قلعہ میں رہتا ہے ۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ مسجد کو روشن رکھتے ہیں عرش والے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں نماز پڑھنے والا اللہ کی زیار ت کرنے والا ہے مسجدیں زمین پر اللہ کے گھر ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نمازیوں کا احترام کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جواب دیجئے