سعودی اصلاحات 52

سعودی اصلاحات

عالمی منڈی میں پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال اور تجارتی تنائو کے باعث آئندہ پانچ سال کے دوران مجموعی طور پرشرح نمو میں کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔غیر ملکی اخبارات اس بات کی پیش گوئی کررہے ہیں کہ سعودی عرب اور پاکستان ان 20 ممالک میں شامل ہیں جو 2024 میں تیزی کے ساتھ معاشی ترقی کا سفر جاری رکھیں گے۔سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اس وقت عملی طور پر بڑے فیصلے کررہے ہیں اب سعودی سماجی تبدیلیاں معاشی روپ میں بھی سامنے آرہی ہیں۔حال ہی میں مختلف عہدوں پر کی گئی تبدیلیاں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ تبصرہ نگاروں نے اس کے مساوی اہمیت کی حامل ادارہ جاتی اصلاحات کو نظرانداز کیا توکہیں ان اقدامات کو مثبت قدم قرار دیا گیا۔وزارتِ صنعت اور قدرتی وسائل کا قیام سعودی عرب میں معدنی وسائل کو ترقی دینے کے ارادے کا مظہر ہے۔پہلے یہ دونوں قلم دان وزارتِ توانائی کے تحت تھے اور اس وزارت میں پٹر ولیم کو زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کمپنی ”آرامکو (ARAMCO) کے حصص بھی فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔اس قسم کی خبریں کافی عرصہ سے زیر گردش تھیں مگر باضابطہ اعلان اب کیا گیا ہے۔

”آرامکو ریاض کے بازار حصص یا سٹاک ایکس چینج کی فہرست میں اپنا اندراج کرائے گی۔ اس کے بعد حصص فروخت ہوں گے۔امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کمپنی حصص کے حساب سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بن کر ابھر سکتی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ ”آرامکو سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی ہے جس میں بڑے سرمایہ کار دلچسپی رکھتے ہیں۔قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ اس وقت ایک یا دو فی صد حصص فروخت کیے جائیں گے جو کمپنی کی موجودہ مالیت کے تناسب سے ہوں گے۔سعودی معیشت کو متنوع بنانے کے لیے حالیہ اقدامات معدنی وسائل کی ممکنہ پیداوار کوبڑھانے کے لیے اٹھائے گئے۔سعودی عرب میں معدنیات کا شعبہ پرکشش امکانات کا حامل ہے جبکہ سعودی عرب تیل کی دولت سے مالا مال ہے ارضیاتی اعتبار سے بھی متنوع وسائل کا حامل ہے۔ ایلمونیم، فاسفیٹس اور سونے سمیت معدنیات کی بھاری مقدار پیدا کرسکتا ہے۔ 2018 میں معدنیات کی آمدن چار ارب ڈالرز سے بڑھ گئی تھی۔یہ بات سعودی عرب کے معدنی وسائل کے حجم اور ان کے تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔2017 کی رپورٹ کے مطابق اس کے فاسفیٹ کے ذخائر 1,400میٹرک ٹن تھے (یہ پوری دنیا کے ذخائر کا ایک فی صد ہیں)۔ سونے کے ذخائر 1,40 میٹرک ٹن تھے(یہ بھی پوری دنیا کے ذخائر کا ایک فی صد ہیں)۔ صنعتی بائیوایکسائٹ کے ذخائر بیس میٹرک ٹن سے زائد تھے۔کالین کے ذخائر تین میٹرک ٹن،میگنزائٹ کے ذخائر تین میٹرک ٹن اور کاپر کے ذخائر چوبیس میٹرک ٹن کے برابر تھے۔

ان تمام کی مالیت کا تخمینہ دس کھرب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔ سعودی عرب کے معدنی وسائل کے شعبے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے فیصلے سے اشیا کی قیمتوں پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔ سعودی عرب سرمایہ کاری کی ایک طویل المیعاد پالیسی کے تحت مختلف معدنیات کی پیداوار اور ان کے ثمرات حاصل کرسکتا ہے۔ اپنی آمدن میں ایک ایسے ملک کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہوگاجس نے چند ایک اشیا ہی پر بھاری سرمایہ کاری کررکھی ہے۔معدنی وسائل کی وزارت کے علاوہتوانائی کی وزارت صرف توانائی کے شعبے کی ترقی پر اپنی توجہ مرکوز کرسکے گی۔شمسی اور ہوا سمیت توانائی کے قابل تجدید ذرائع سعودی عرب کے لیے بہت سے امکانات اور فوائد کے حامل ہیں۔ان سے پائیدار اہداف کے حصول میں مدد لی جاسکتی ہے اور انہیں بھی کاربن کی بنیاد پر صنعتوں کے مقابلے میں ترقی دی جاسکتی ہے۔ وزارت توانائی ان منصوبوں پر توجہ مرکوز کرتی ہے تو اس سے سعودیہ کو گز شتہ دو سال کے دوران میں شمسی توانائی کے جن بڑے منصوبوں پر عمل درآمد میں مشکلات کا سامنا تھا، ان پر قابو پایا جاسکے گا۔ سعودی عرب قابل تجدید اور جوہری توانائی سے حاصل ہونے والی بجلی کو برآمد کرنے کی بھی منصوبہ بندی کررہا ہے۔وہ عراق میں ایران کی جگہ لینا چاہتا ہے اور اس کے مقابلے میں خود عراق کو بجلی مہیا کرنے کا خواہشمند ہے۔اس ضمن میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی انٹر کنیکشن اتھارٹی اس کے گرڈ کو عراق سے جوڑنے کے منصوبے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسی طرح شرق اوسط کے ممالک کے گرڈ سٹیشنوں کو باہم مربوط بنانے پر کام جاری ہے۔اس کا طویل المیعاد مقصد جی سی سی کو یورپی گرڈزکی طرز پربناناہے۔
اس طرح موسمیاتی تغیرات کی بنیاد پر بجلی کا منافع بخش تبادلہ بھی ہو سکے گا کیونکہ خلیج میں بجلی کی کھپت موسم گرما میں زوروں پر ہوتی ہے جبکہ یورپ میں موسم سرما میں بجلی کی زیادہ تر کھپت ہوتی ہے۔اس تمام صورت حال میں خود مختار وزارت توانائی طویل المیعاد تزویراتی اہداف کو حاصل کرسکے گی۔ان اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت کی اعلی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔الگ الگ وزارتوں کے قیام سے ہر شعبے کے انتظام وانصرام کو زیادہ موثر بنایا جاسکتا ہے۔ ایک اور اہم تبدیلی جو سعودی خواتین کے لیے خوش خبری ہے وہ یہ کہ اب وہ کسی کفیل یعنی مرد محرم کے بغیر بھی بیرون ملک سفر کرسکیں گی۔ اس سے قبل کسی سعودی خاتون کواپنی مرضی سے اکیلے بیرون ملک سفر کی اجازت نہیں تھی۔ پے درپے اقدامات اس کوشش کی ایک کڑی معلوم ہوتے ہیں جس میں شہزادہ محمد بن سلمان دنیا کو یہ باور کرا رہے ہیں کہ سعودی عرب کوئی سخت گیر ملک نہیں ہے اور نہ ہی یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جواب دیجئے