متاعِ گم گشتہ: کپاس کا پینجنڑ اور پنجارہ 90

متاعِ گم گشتہ: کپاس کا پینجنڑ اور پنجارہ

کبھی سوچا ہم سب ماضی میں دلچسپی کیوں لیتے ہیں؟ شاید اس لیے کہ ہم ماضی کو بھلانا نہیں چاہتے۔ جیسے جیسے گذرے وقت پر برسوں کی ریت جمع ہوتی جاتی ہے اس کے اسرار و رموز اور رنگین ہوتے جاتے ہیں اور ان رنگوں میں جو ایک کشش پنہاں ہوتی ہے وہ ہمیں اپنی طرف بلاتی رہتی ہے۔ ماضی کی طرح اب ہمارے باورچی خانوں میں تانبے، پیتل اور جست کے برتن نظر نہیں آتے، گلی محلوں میں برتن قلعی کرا لو کی صدا بلند نہیں ہوتی۔ پیڑی منجھو، پیڑی ٹھوک کی صدا تو کب کی فوت ہو چکی ہے۔ ہماری نئی نسل کی اکثریت تو منج کے وانڑ (بان) کی چارپائیوں بلکہ صبح صبح کنیرانوالے گیٹ اور گھاس منڈی کے اندر وانڑ وٹنے والوں کی قطاریں اور وانڑ وٹنے کے دلکش مناظر سے نا بلد اور محروم ہے۔ سرکنڈوں سے بنے ہوئے موڑھے، بید کی بنی ہوئی کرسیاں، مٹی کے تیل کے سٹوو، لکڑی یا بورے (برادے) سے جلنے والی انگیٹھیوں کو وقت کی بے ہنگم رفتار نے کچل کے رکھ دیا۔

ڈبل بیڈ پہ بچھے نرم و سخت فوم پے چائنہ کے کمبل میں سونے والے کیا جانیں کہ نیواڑی پلنگ یا چارپائی پے بچھے کپاس کے گدیلے اور کپاس کی رضائی میں پر سکون نیند کا کیا مزا تھا؟ ماضی کی سردیوں میں جو مزہ چارپائی، چٹائی اور رضائی میں تھا وہ آج ہمیں مہنگے فوم، ڈبل بیڈ اور کمبل میں نظر نہیں آتا۔ کبھی سردیوں کی آمد کا باقاعدہ اعلان ہر گھر میں ہاتھ سے بنی سوئیٹروں، مفلروں اور گرم کپڑوں کی پیٹی کھول کر کیا جاتا، خواتین ان کو دھونے کے بعد دھوپ بھرے صحنوں اور آنگنوں یا چھتوں پر سوکھنے کے لیئے ڈال دیتے۔ چھتوں پر انکو لٹکے دیکھ کر پاس پڑوس والے بھی گرم کپڑوں کی پیٹی کھول لیتے کہ سردیاں آنے والی ہیں۔ رضائیوں، توشک (گدیلا) سرہانوں، تکیوں کو دھنوانے یعنی کپاس پنجوائی کا کام شروع ہو جاتا۔ ہر گھر میں پرانی رضائیوں اور گدیلوں کا پہلے استر اتارا جاتا، کپاس کی ایک گنڈھڑی بنا کر دھنوانے (پنجائی) کے لیئے شہر کی مختلف جگہوں پر موجود پنجاروں کی دکانوں پر بھیج دی جاتی تھی۔ ویسے تو 1955 کے بعد کپاس کی دھنائی کرنے والے پنجاروں جیسے مسلم بازار میں گلی قریشیانوالی کی نکڑ پر، رحیم بازار میں جیوایا پنجارہ، گھاس منڈی میں اللہ ڈتہ اورغلام رسول پنجارہ، محلہ قصابان کے نزدیک حافظ اللہ وسایا پنجارہ، کچی پائند خان میں غلام صدیق پنجارہ، محلہ جوگیانوالا میں بھولا بالمیکی پنجارہ کی مشہور و معروف دکانیں تھیں۔

ٹانک اڈے پر ایک مسافر سرائے میں قاسم، ولی جان، دل نواز اور حسو گھڑے بھن پنجارے کا کام کرتے تھے۔ لیکن وقت کی ستم ظریفی کہیں، تیز رفتاری کا اثر کہیں، مشینوں کی آمد کہیں یا ہمارے بدلتے مزاجوں اور ضرورتوں کی وجہ سے یہ باہنر پنجارے اپنا فن اور پیشہ چھوڑتے گئے اور آخر کار کپاس پنجائی کی ان عظیم دکانوں پر تالے پڑ گئے اور یہ عظیم باہنر لوگ اپنے فن کے ساتھ ہی زمین میں دفن ہو گئے۔ صرف رحیم بازار میں آج تک جیوایا پنجارہ کی دکان مشہور بھی ہے اور مقبول حسین اس کاروبار کو چلا رہے ہیں۔ لیکن ہاتھ والے پینجنڑ یا کتنڑ کے سہارے نہیں بلکہ بجلی سے چلنے والی مشین کے ساتھ۔ لیکن پورے ڈیرہ اسماعیل خان میں کپاس کی خریدو فرخت، اسکی پنجائی اور کپاس سے منسلک چیزیں بنانے کا سب سے بڑا مرکز محلہ سوہاراپینساری تھا۔ جہاں پر اس کی پنجائی، دھنوائی اور رضائیاں و دیگر سامان بنانے اور ہاتھ والے پینجنڑ اور کتنڑ کی کئی مشہور و معروف دکانیں تھیں۔ اسی وجہ سے یہ محلہ سوہارا پنساری گلی کپاس والی کے نام سے مشہور ہو گیا۔ گلی کپاس والی میں کپاس کی آمد تو بزرگوں کے بقول 1890کے عشرے سے ہی شروع ہوگئی جب سیٹھ محمد اشرف کے توسط اور مدد سے غلام رسول المعروف شولا نائی (محلہ کنیرانوالا کا رہائشی) چوک پر کرائے کی دکان میں درزی کا کام کرتا تھا۔

اس نے باقاعدہ پنجی پنجائی (دھنی ہوئی کپاس) دکان پر رکھی جو کہ خاص منکیرہ سے منگواتا تھا۔ استر سینے کے ساتھ ساتھ رضائیاں اور دوسرا سامان بھی تیار کرنے لگا، چند سال بعد اس نے دوسری دکان میں باقاعدہ پہلی دفعہ ہاتھ سے چلانے والا ملتانی طرز کا پینجنڑ اور کتنڑ بنوا کے لگایا اور ایک کاریگر یعنی پنجارہ دیہاڑی پر رکھا۔لوگوں کی ضروریات اور پسند کی وجہ سے یہ کاروبار پھیلتا گیا تو آہستہ آہستہ دوسرے لوگ بھی اس کاروبار کے ساتھ منسلک ہوتے گئے اور دکانیں کھولتے گئے۔ 1920کی دہائی میں غلام رسول کی وفات کے بعد اسکی اولاد نرینہ نہ ہونے اور دوسروں کی دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے اسکے کاروبار کا اختتام ہو گیا۔ اسوقت تک اسی محلے کے کئی مشہور خاندان اس کپاس اور پینجنڑ کے کام کے ساتھ منسلک ہو چکے تھے۔چند مشہور و معروف شخصیات کا زکر ضرور کروں گا جنہوں نے اس کپاس کے کاروبار میں خاص نام کمایا اور اس گلی کو گلی کپاس والی کے نام سے مشہور کرانے میں ان شخصیات کی محنت، صداقت اور ایمانداری شامل تھی۔ مولوی الہی بخش سلیمانی مرحوم اس حوالے سے ایک معتبر اور معروف شخصیت تھے، انکی وفات کے ساتھ ہی کاروبار بھی ختم ہو گیا۔ اللہ بخش خیسوری مرحوم اور انکے بیٹے محمد رمضان خیسوری (غلبی والے) کی وفات کے بعد انکا کاروبار آگے نہ چل سکا۔ غلام سرور مرحوم المعروف ملک برچھا ایک نامی گرامی اور کپاس کے حوالے سے ایک معتبر شخصیت تھیں، انکی وفات کے بعد انکے بیٹوں ملک احمد حسین مرحوم اور حاجی ثقلین نے اس موروثی کاروبار کو مذید وسعت دی اور یہ خاندان آج بھی اسی کاروبار کے ساتھ منسلک ہے۔ خدا بخش و عبداللہ مرحوم انکی وفات کے بعد انکے نواسے مشتاق حسین نے آج تک یہ کاروبار سنبھالا ہوا ہے۔ محمد رمضان سلیمانی مرحوم ایک ایماندار کاروباری شخصیت کے حوالے سے آج تک یاد کئے جاتے ہیں۔

ان کی وفات کے بعد انکے موروثی کاروبار کو محمد رفیق سلیمانی نے اپنی لگن اور محنت سے بام عروج پر پہنچایا اور آج تک اپنے بیٹے آصف حسین کے ساتھ پورے ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک مشہور کپاس ڈیلر کے حوالے سے متعارف ہیں۔ انکے علاوہ اور بھی شخصیات اس کپاس اور پنجائی کے ساتھ اپنی زندگی تک ہی منسلک رہیں اور انکی وفات کے بعد اور حالات کی ستم ظریفی کی وجہ سے کاروبار بھی ختم ۔ مشینوں کی آمد سے پہلے جو ہاتھ کے پنجنڑ اور کتنڑ چلانے کے مشہور ماہر پنجارے تھے ان میں اللہ بخش، عالم شیر، قادر بخش اور اللہ ڈتہ کافی مشہور تھے، مشینوں کی آمد اور لوگوں کی ترجیحات کی تبدیلی اور روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ان ماہر پنجاروں کے گھر کے چولہوں کے ساتھ ان کی زندگی بھی ٹھنڈی ہو گئی۔ ویسے تو کپاس کا کاروبار سارا سال چلتا رہتا، لوگ شادی بیاہ اور جہیز کے لیئے ریشمی مخمل کی بڑی بڑی رضائیاں، گا تکیے، چائے کی ٹکوزیاں، کرسیوں کی گدیاں خصوصی آرڈر پر بنواتے تھے۔ بلکہ بازاروں، محلوں اور ہسپتال کے ساتھ باقاعدہ رضائیاں، سرہانے اور گدیلے کرائے پر حاصل کرنے کی دکانیں عام تھیں جہاں سے لوگ شادی، خوشی اور غمی کے موقعوں پر مہمانوں کے لیئے انہی دکانوں سے کرائے پر حاصل کرتے۔ بازار کلاں میں دو بڑی دکانیں ایک چاچا شیخ کی اور دوسرے غلام صدیق کی تھیں جہاں سے اعلی قسم کی اور عام رضائیاں اور دوسرا سامان تھوڑے سے کرائے پر مل جاتا۔ بہرحال سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی کپاس اور خاص کر رضائیوں کے کاروبار سے منسلک افراد کے دن بھی پھر جاتے اور اس پیشے سے منسلک مرد و خواتین کے گھروں کے چولہے جل جاتے۔کپاس لانے والا ٹرک، اتارنے والے مزدور، کپاس بیچنے والا دکاندار،، پنجائی والا پنجارہ، رضائی کا کپڑا بیچنے والا دکاندار، استر اور لحاف سینے والا درزی، رضائی کو ٹانکے اور سینے والی گھریلو خواتین۔ رضائی پہنچانے اور لانے والا رکشہ پولر ان سب کا رزق اسی کپاس اور رضائیوں کے ساتھ منسلک ہوتا تھا۔ میں نے بچپن میں کئی بیواں کو انہی رضائیوں کو سیتے ہوئے اور اسی ہی آمدن سے اپنے گھر اور بچوں کو پالتے دیکھا، کئی نوجوان لڑکیوں نے یہی رضائیاں سی سی کر اپنا جہیز خود بنایا۔

کبھی اس محلے کی دکانوں پر گاہکوں کا اتنا رش ہوتا کہ تل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی تھی، کوئی کپاس پنجوا رہا ہوتا، کوئی رضائی سائیکل اور کاندھے پر اٹھائے، کوئی تکیوں کا کپڑا اٹھائے اپنی اپنی خوشیوں میں محو نظر آتا۔ انہی دکانوں اور گاہکوں کی رش کی وجہ سے گلی کپاس والی میں راجہ ریاض مرحوم اور چاچا جمعہ خان مرحوم کے چائے کی دکانوں اور چاچا غلام سرور کے کھانے کے ہوٹل پر لوگ لائن میں ٹھہر کر چائے اور کھانا لے رہے ہوتے۔ لیکن وقت بدلا انداز بدلے ہاتھ سے بنی گرم رضائیوں کا دور ہوا پرانا اور مشین سے بنے کمبل اور بنی بنائی پولیسٹر رضائیوں نے ماضی کی روائیتی رضائیوں، گدیلوں کے ساتھ ساتھ روائتی کاروبار، ثقافت اور اس سے منسلک مرد و خواتین کے روزگار کو بھی ختم کر ڈالا اور سرد رتوں کے کاریگر بھی سرد ہو کے گرم زمین میں دفن ہو گئے۔ اب ہاتھ والے پینجنڑ اور کتنڑ کی مد بھری آواز کی جگہ اب ایک دو مشینوں کی غر غر سنائی دیتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جواب دیجئے