بزدلانہ موقف 41

بزدلانہ موقف

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سالانہ سربراہی اجلاس میںخطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے عالمی برادری کومتنبہ کیاکہ تنازعہ کشمیر کا حل نہ نکالا گیا تو جوہری جنگ ہو گی۔ قبل ازیں وہ بارہا اسی بیباکانہ موقف کااظہار کرتے سنائی دیئے۔ جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر کی واہ واہ ہوئی۔ ان کی جرات مندی، نڈرپن، دلیرانہ انداز، بیباکانہ لہجے اور بہادرانہ طرز عمل کو خراج تحسین پیش کیا۔ اپنے پرائیوں نے تعریف وتوضیف کی۔ قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے خوب سراہا، مگر 27 اکتوبر یوم سیاہ کے موقع پر موصوف نے اپنے اس انداز فکر، طرز عمل، جرات وجسارت، دلیری وبہادری اور نڈرپن کی قطعی نفی کر دی۔ فرمایا کہ جو لوگ جہاد کی بات کر رہے ہیں وہ غلط کر رہے ہیں۔ گویا ان کی ریاست مدینہ میں جہاد کا تصور ہی نہیں اور اگر ہے تو صرف خیالی ہے اسے عملی جامہ پہنانا درست نہیں، حالانکہ قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا ہے کہ (کتب علیکم القتال) ”تم پر قتال فرض کیا گیا ہے”۔

قتال قتل سے اور عام مسلمان بھی سمجھتا اور چاہتا ہے کہ قتال سے کیا مراد ہے؟ قتال کے لئے صرف کسی کی جارحیت اروحملے کو کو نہیں بلکہ مسلمانوں پر ظلم وجبر بھی دیکھا جاتا ہے۔ قرآن مجید واحادیث مبارکہ میں مظلوم مسلمانوں کی حفاظت اور ان کی لقاء وسلامتی کے لئے آزاد مسلمان ان کی مدد ونصرت کریں، چنانچہ کشمیری وفلسطینی مسلمانوں سمیت دیگر ملکوں میں مسلمان ظلم وجبر اور زیادتیوں کاشکار ہیں اس لئے ان کی مدد ونصرت آزاد مسلمانوں پر فرض ہے اور یہ فریضہ مسلم ریاستوں کا ہے لہذا وزیر اعظم پاکستان ریاست مدینہ کا نعرہ لگا کر راہ جہاد سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر کوئی جہاد وقتال سے ناراض ہوتا ہے اور آپ ڈرتے ہیں توآپ میں اور آپ کے پیشروؤں میں کیا فرق رہ گیا ہے؟ ہمیں تو حیرت ہوئی ہے کہ فوج وحکومت ایک صفحے پر کیسے ہیں؟ پاک افواج کے ترجمان بار بار کہتے ہیں کہ فوج کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے، کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ اینٹ کاجواب پتھر سے دیا جائے گا۔ مگر وزیر اعظم ڈر رہے ہیں کہ بھارت کے خلاف جہاد کا نعرہ لگانے اور لائن آف کنٹرول عبور کرنے کی باتیں کرنے سے بھارت پاکستان پر حملہ کر دے گا۔ پس یہی دلیری، بہادری، بیباکی، بے خوفی، جراتمندی اور نڈرپن ہے؟

جوہری جنگ کی دھمکی اور دنیا پر مرتب ہونے والے مضر اثرات کی باتیں صرف زبانی جمع خرچ ہی تھا۔ کمال ہے آپ تو بھارت کے ممکنہ حملے سے خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ ایٹم بم سے قوم وملک کی حفاظت بھی کبھی ممکن ہو سکے گی یا قوم ایٹم بم کا تحفظ کرنے پر اربوں روپے صرف کرتی رہے گی؟ وزیر اعظم نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ جنگ کرنے سے خوفزدہ ہیں۔ پاکستان جارحانہ حملہ نہ کرنے کا اعلان تو کر سکتا ہے تاہم وزیراعظم ہے پاکستان کا یہ کہنا کہ بھارت حملہ کر دے گا الگ بات ہے،جارحیت اور حملے سے ڈرنا حکمرانوں کی بزدلی کا کھلا ثبوت ہے۔ آپ اگر بھارتی حملے اور جارحیت کو بنیاد بنا کر قوم کو بزدلی کا پیغام دیں گے تو اقوام متحدہ کو کس کی جوہری جنگ سے آگاہ کر رہے تھے۔ قوم کوکس کے ساتھ ایٹمی جنگ لڑنے کے لئے تیار کر رہے تھے؟ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ بھارت کے ساتھ ایک ہزار برس تک بھی لڑیں گے۔ گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ آپ نے توبزدلی کی حد کر دی ہے۔ اگر بھارت کے ممکنہ حملے سے ڈرتے اور خوف کھاتے ہوتو بڑھکیں کیوں مارتے اور دنیا میں پاکستان کی رسوائی کا سامان کیوں کرتے ہو؟ جہاد فی سبیل اللہ تو پاک افواج کا نعرہ ہے۔ بہرحال ثبوت مل گیا کہ وزیر اعظم پاک فوج کے بھارت کو ممکنہ جارحیت وحملے کے جواب پر بھی مطمئن نہیں اس لئے وہ بھارتی حملے سے ڈر کر ایل او سی عبور کرنے اور جہاد نہ کرنے کا مصمم عزم ظاہر کر چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جواب دیجئے