دو ٹکے کی۔۔۔تحریر:سویرا شامی 66

دو ٹکے کی۔۔۔تحریر:سویرا شامی

کہنے کو تو ہم مہذب معاشرے کے باسی ہیں،رہن سہن میں بھی کسی تہذیب یافتہ قوم سے کم نہیں ہے،جب ہم گفتگو کرتے ہیں تو فرشتہ صفت محسوس ہوتے ہیں،جیسے ہم میں کوئی خامی نہیں ہے اورباقی ساری دنیا میں کوئی خوبی نہیں۔ڈھول بجانا آئے یا نہ آئے ہم بس پیٹنا چاہتے ہیں اورسوشل میڈیا اس شوق کو پروان چڑھانے کے لئے ایک موزوں ترین جگہ ہے۔ جہاں کبھی بھی، کچھ بھی اور کسی کو بھی کہنے کی آزادی حاصل ہے، لکھتے ہوئے خاص سوچنے سمجھنے کی شرط بھی لاگو نہیں ہوتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کرنا چاہتا ہے، گویا خدائی فوجدار ہونے کا اعزاز اسی کو حاصل ہے، پھر چاہے کسی بھی بات کا اصل مقصد فوت ہی کیوں نہ ہوجائے؟۔ویسے اس کی بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن ایک تازہ نمونہ ابھی آنکھ سے گزرا، بہت سوچا کہ اس معاملے پر زبان بند ہی رکھی جائے، لوگ جو چاہتے ہیں انہیں بولنے دیا جائے، ہماری کون سنے گا لیکن پھر خیال آیا کہ نہیں چپ رہنا بھی زیادتی ہی ہوگی۔

چند روز قبل ایک نجی چینل پر چلنے والے ڈرامے میں ایک شوہر اپنی اِس بیوی کو جو اسے پیسے کی خاطرچھوڑ کر امیر آدمی کے ساتھ گھر سے جارہی ہوتی ہے کو ’دوٹکے‘ کی لڑکی کہہ دیتا ہے۔ ٹی وی پر جب دیکھا تو خیال نہیں آیا کہ اس کا کوئی اورمطلب بھی ہوسکتا ہے،یہی خیال آیا کہ ایک محبت کرنے والا شوہر اپنی اس بیوی کو جو پیسے کی خاطر بے وفائی کر کے جارہی ہے،اس کو بے مول قرار دے رہا ہے۔یہ اس کے جذبات تھےلیکن جب فیس بک کھولی تو پتہ چلااس آدمی سےکتنابڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے جو اس نے عورت کی شان میں اتنی بڑی گستاخی کر دی۔کیا مرد اور کیا خواتین، سب ہی چھری کانٹے سے لیس ہوکر سوشل میڈیا پر نقارہ جنگ بجا کر صف بند ہوگئے۔

خواتین کو دو ٹکے کی لڑکی کہنے پر شیدد اعتراض تھا تو مرد حضرت کا خیال تھا کہ واہ کیا کمال کردیا،ایسا ڈائیلاگ تو کبھی سنا نہ دیکھا۔ بہت ساری فیس بک پوسٹس اور اس پر لوگوں کا تجزیہ بھی دیکھا،کئی باتوں اورموازنےپرتوعقل دنگ ہی رہ گئی۔بہت سی خواتین کاخیال تھاکہ اگرمردعورت کی ضرورت پوری نہیں کرسکتاتواس عورت کےپاس پورااختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کو چھوڑ دے اوربہتر زندگی کی طرف قدم بڑھالے، یہ اس کی زندگی ہے اور زندگی نہ ملے گی دوبارہ۔

بالکل اس بات سے قطعاً اختلاف نہیں کیا جاسکتا،ہر انسان کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا اختیار ہے اور اس بات کا حق بھی اُسے حاصل ہے کہ وہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں رہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت، لیکن کم از کم اس بات پر تو غور کر لے کہ اس کیلئے وہ کس راستے کا انتخاب کرتا یا کرتی ہے؟دھوکہ دہی، فریب، بےوفائی کےمعنی تونہیں بدل سکتے اور یہ حرکت چاہے مرد کرے یا عورت؟وہ بلا تفریق ’دوٹکے‘کایعنی بےمول ہی ہوگا، اس سارے قصے میں بھلا مرد قصور وار اور عورت بری الذمہ کیسے ہوسکتی ہے؟

ہم پر تو ابھی کچھ عرصہ قبل ہی یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ مرد و عورت کی برابری کا مطلب ہے اپنی روٹی خود پکاؤ، اپنا سالن خود گرم کرو، اپنے ماں باپ کی خدمت خود کرو، وغیرہ، وغیرہ، تو پھر اگر ان سب معاملات میں ہم برابری کے متقاضی ہیں تو پھر باقی روزمرہ معاملات میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے، ملامت بھی ایک جیسی ہونی چاہئے، پھر یہ بحث کیوں کہ عورت کے بارے میں یہ الفاظ نازیبا ہیں،معیوب ہیں؟ اگر عورت کے ساتھ دھوکہ کرنے والا مرد دو ٹکے کا ہے تو عورت بھی ہے۔

بنیادی بات الفاظ کے چناؤ میں پھنس کر رہ جانے کی بجائے اس کے مفہوم کو سمجھنے کی ہے، مان لیا کہ اگر ڈرامہ نگار بہتر الفاظ کا انتخاب کرلیتے تو شائد ہماری عوام کی اتنی ’دل آزاری‘ نہ ہوتی لیکن یہ بات بھی تو سمجھنی چاہئے کہ جو بھی ایسا کام کرے گا وہ بے مول ہی ہوگا، اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوگی پھر وہ چاہے مرد ہو یا عورت، تو یہاں حقوق نسواں کی تحریک چلانے کا بھلا کیا مقصد ہے؟ اس سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ ہم جان بوجھ کر حقیقت سے نظریں چرانا چاہتے ہیں، برائی کو برائی سمجھنے، کہنے اور ماننے سے قاصر ہیں، اصل بات سے توجہ ہٹا کر ایک نئی بحث میں الجھ گئے۔ یہ بھلا انصاف کے کون سے تقاضے ہیں جو سوشل میڈیا پر بیٹھ کر پورے کئے جارہے ہیں اور اعتراض اگر نازیبا الفاظ پر ہے تو جس قسم کی زبان فیس بک اور ٹوئٹر پر استعمال کی جاتی ہے، الزام لگایا جاتا ہے اور بنا ثبوت سزا بھی سنادی جاتی ہے تو ایسے میں کوئی مرد اور کوئی عورت کیوں نہیں ہوتا، وہاں کسی کی کوئی عزت کیوں نہیں ہوتی؟۔

غور طلب بات یہ ہے کہ غلطی کوئی بھی کرے وہ مجرم ہے اور قابل سزا ہے، اس میں مرد اور عورت کی کوئی تفریق نہیں ہے، جو بات ایک مرد کو گناہ گار ٹھہراتی ہے وہی بات عورت کیلئے باعث نجات نہیں ہوسکتی۔ ہم برابری کے خواہش مند ہیں لیکن اپنی شرائط پر، کم از کم برائی کو برائی کہنے کا حوصلہ تو پیدا کریں، اس کو کوئی اور رنگ دینے سے پرہیز کریں۔درحقیقت بات یہ ہے کہ مرد و عورت واقعی ایک دوسرے کا لباس ہیں، ایک دوسرے کے راز دار ہیں، دونوں ہی کی عافیت اوربھلائی ایک دوسرے کے ساتھ میں ہے، مقابل نہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر سویرا شامی جامعہ پنجاب کے ادارہ علوم ابلاغیات میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ (بشکریہ روزنامہ پاکستان لاہور)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں