قومی اسمبلی میں ملک بھر کی شوگرمافیا کے خلاف دھواں دھارتقاریر 74

قومی اسمبلی میں ملک بھر کی شوگرمافیا کے خلاف دھواں دھارتقاریر

اسلام آباد (محمداکرم عابد ) حکومت کی طرف سے جمعرات کو قومی اسمبلی میں ملک کی تمام شوگر ملز کو انتباہ کیا گیا ہے کہ ملیں چلانے میں تاخیر کی گئی تو 30 نومبر کے بعد جرمانے عائد کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا

ملزکو سیل کرسکتے ہیں کین کمشنرزکو ضروری ہدایات جاری کردی گئی ہیں چاہے کسی بھی مل ہو حکومت اپوزیشن کی کی تمیزکے بغیراس کے خلاف کاروائی ہوگی۔ ایوان میں شوگرمافیاز کے خلاف دھواں دھار تقاریرکی گئیں۔حکومت طرف سے یہ بھی آگاہی دی گئی کہ صوبائی حکومتیں گنے کی قیمت خرید مقرر کرنے میں آزاد ہیں۔ 18 ویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں فیصلے کے مطابق 15 نومبر (آج) سے کرشنگ شروع ہونی چاہئے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن صوبوں اور وفاق کے درمیان اتفاق ہوا ہے جس کی سب کو پاسداری کرنی ہوگی

نگرانی کی جائے گی صوبے بروقت رپورٹس مرکز کو بھجوائیں۔قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی کے دوران مہنگے ٹماٹر کی گونج بھی سنائی دی۔ توجہ دلاؤنوٹس کے محرکین اور دیگر ارکان قومی اسمبلی دہائی نے دہائی دی کہ ایک وقت تھا کہ گدھے بھی ٹماٹر نہیں کھا تے تھے آج ٹماٹر کی پیداوارکا کسان مارکیٹ سے ٹماٹر نہیں خرید سکتا۔ آلو کی فصل جلائی جاتی تھی۔ کسان کاشتکار بے یار و مددگار ہے۔ ایوان میں فضل محمد خان نے گنے کی فصل تیار ہونے کے باوجود حکومت کی طرف سے گنے کی قیمت مقرر نہ کرنے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا۔ فضل محمد خان نے کہا کہ ٹماٹر کی قیمت بڑھتی جا رہی ہے، کوئی نہیں خرید سکتا، ایک وقت تھا ٹماٹر گدھے بھی نہیں کھاتے تھے۔

خیبرپختونخوا کے کاشتکاروں نے آلو کی فصل جلائی تھی۔ اب گنے کے کاشتکاروں کا استحصال ہو رہا ہے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے اس معاملے پر آئندہ ہفتے خصوصی کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری قومی غذائی تحفظ امیر سلطان نے کہا کہ 15 نومبر سے کرشنگ شروع ہونی ہے 30 نومبر کے بعد مزید جرمانے عائد ہونگے وفاق 18 ویں ترمیم کے بعد گنے کی قیمت مقرر نہیں کر سکتا، ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن یہاں اسلام آباد میں ہونے والے اتفاق رائے کی پاسداری کریں، آج سے کرشنگ شروع کرے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد ہم مداخلت نہیں کر سکتے،صوبے ذمہ دار ہیں۔ کمشنرز کین کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

جرمانوں پر مجبور نہ کریں کیونکہ ہمیں 15 نومبر سے کرشنگ شروع ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے انھوں نے کہا کہ شوگرکین کمشنرز سے باقاعدگی سے کارکردگی رپورٹس لیں گے جس سے وزیراعظم کو آگاہ کیا جائے گا وفاق اس حوالے سے اپنی ذمہ داری اداکرے گا اور گنے کے کاشتکاروں کا استحصال نہیں ہونے دے گا اجلاس میں ارکان نے شوگرمافیاز کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ بعض علاقوں میں انتظامیہ، ملزمالکان مڈل مین گھٹ جوڑکرلیتے ہیں اورکسانوں کا سب مل کر استحصال کرتے ہیں ارکان نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ چینی کے کارخانوں کی طرف سے قیمتوں میں اضافے کی تحقیقات کا وعدہ پورا کیا جائے کارخانے سارے ٹیکس صارفین سے وصول کر رہے ہیں۔ #/S

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں