سرینگر کی 24فیصد آبادی ذیابیطس کے عارضے میں مبتلا 99

سرینگر کی 24فیصد آبادی ذیابیطس کے عارضے میں مبتلا

سرینگر(ساؤتھ ایشین وائر)زیابیطس کے معالجوں کے مطابق یہ مرض روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق لوگوں کا رہن سہن اور کام کرنے کا طریقہ کافی بدل گیا ہے۔ لوگ بے حد آرام طلب ہو گئے ہیں اور کام کاج اور محنت کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔

مقبوضہ جموں کشمیر کی دارالحکومت سرینگر ضلع کی بائیس فیصد آبادی ذیابیطس کے عارضے میں مبتلا ہے جبکہ بیس برس سے زیادہ عمر کے ہر دس افراد میں سے ایک ذیابیطس کا شکار ہے۔ساؤتھ ایشین وائر کے مطابق کشمیر کے شعبہ افرازیات (اینڈوکرانالوجی)میں روزانہ چیک اپ کرانے والے مریضوں میں سے 50 فیصد مریض جنوبی کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔

سرینگر کے صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں کی گئی ایک تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ بائیس فیصد آبادی ذیابیطس یا شوگر بیماری کا شکار ہے۔ حیران کن طور پر وادی میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہفتے میں تین مرتبہ سافٹ ڈِرنکس کا استعمال کرنے والے افراد میں سے 24 فیصد افراد کو یہ بیماری لاحق ہوتی ہے جبکہ سافٹ مشروبات کا استعمال نہ کرنے والے محض 14 فیصد افراد کو ہی اس مرض میں مبتلا پایا گیا ہے۔اسکے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد میں سے 31 فیصد افراد کو یہ بیماری لاحق ہوتی ہے۔

ذرائع کے مطابق صورہ کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن (سکمز)کے اسکالر ڈاکٹر شیخ سلیم کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بھی بتایا گیا ہے کہ سرینگر ضلع میں 22 فیصد باشندے ذیابیطس کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور انہیں ادویات کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ادھر گورنمنٹ میڈیکل کالج کی جانب سے کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سرینگر میں بیس برس سے زائد عمر والے ہر دس میں سے ایک شخص ذیابیطس کے عارضے میں مبتلا ہے۔

شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز صورہ، سرینگر کے شعبہ افرازیات یعنی اینڈوکرانالوجی کے او پی ڈی میں روزانہ 200 مریضوں کاچیک اپ کیا جاتا ہے جن میں سے 50 فیصد مریضوں کو ذیابیطس کے عارضے میں مبتلا پایا جاتا ہے۔

ایک بین الاقوامی اردو نیوز ویب سائٹ القمرآن لائن کے مطابق متعلقہ شعبہ کے پاس اعداد و شمار کے مطابق صورہ کے متعلقہ شعبہ میں روزانہ آنے والے 100 میں سے پچاس کا تعلق ضلع کولگام، پلوامہ، شوپیاں اور اننت ناگ اضلاع سے ہوتا ہے۔جبکہ بقیہ مریضوں کا تعلق وسطی اور شمالی کشمیر سے ہوتا ہے۔

2017 میں پانچ سے پندرہ سال تک کے 9 ہزار بچوں پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 34 فیصد لڑکے اور 38 فیصد لڑکیاں موٹاپے کا شکار ہیں جنہیں مستقبل میں ذیابیطس کا شکار ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔زیابیطس کے معالجوں کے مطابق یہ مرض روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق لوگوں کا رہن سہن اور کام کرنے کا طریقہ کافی بدل گیا ہے۔ لوگ بے حد آرام طلب ہو گئے ہیں اور کام کاج اور محنت کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔

معالجوں اور ماہرین کے مطابق سرینگر اور باقی اضلاع میں لوگ ذہنی مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں جو ذیابیطس بیماری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جس کے بعد جسمانی ورزش کا کم کرنا، پیدل نہ چلنا اور مشقت نہ کرنا اس مرض کی سب سے بڑی وجوہات ہیں۔ماہرین کے مطابق بچوں میں بڑھتے موٹاپے کو روکنے کی اشد ضرورت ہے کیوں کہ غلط غذائیں اور باہر کا کھانا اس مرض کو بڑھاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں