وزیراعظم طعنہ نہ دیں، کسی کو باہر جانے کی اجازت انہوں نے خود دی: چیف جسٹس 90

وزیراعظم طعنہ نہ دیں، کسی کو باہر جانے کی اجازت انہوں نے خود دی: چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ  وزیراعظم طاقت ور کا طعنہ ہمیں نہ دیں، جس کیس کا طعنہ وزیراعظم نے ہمیں دیا اس کیس میں باہر جانے کی اجازت وزیراعظم نے خود دی۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے نوازشریف کی بیرون ملک روانگی کے بعد تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ ملک میں طاقتور اور کمزور لوگوں کے لیے الگ الگ قانون ہے، چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ انصاف دے کر اس ملک کو آزاد کرائیں۔

وزیراعظم طاقت ور کا طعنہ ہمیں نہ دیں: چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وزیراعظم طاقت ور کا طعنہ ہمیں نہ دیں،جس کیس کا طعنہ وزیراعظم نے ہمیں دیا اس کیس میں باہر جانے کی اجازت وزیراعظم نے خود دی،  اس معاملے کا اصول محترم وزیراعظم نے خود طے کیا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے صرف قانون طاقتور ہے کوئی انسان نہیں، اب عدلیہ آزاد ہے، ہم نے دو وزرائے اعظم کو سزا دی اور ایک کو نااہل کیا، ایک سابق آرمی چیف کا جلد فیصلہ آنے والا ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم صاحب کا اعلان خوش آئند ہے مگر ہم نے امیر غریب سب کو انصاف فراہم کرنا ہے، ججز اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتے، ججوں پر اعتراض کرنے والے تھوڑی احتیاط کریں۔

 وزیراعظم کو اس طرح کے بیانات دینے سے خیال کرنا چاہیے: جسٹس کھوسہ

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم چیف ایگزیکٹو ہیں اور  ہمارے منتخب نمائندے ہیں، وزیراعظم کو اس طرح کے بیانات دینے سے خیال کرنا چاہیے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ عدلیہ اپنا کام پوری دیانت داری اور فرض سمجھ کررہی ہے، ججز اور عدلیہ کی حوصلہ افزائی کریں، ہم بغیر وسائل کے کام کر رہے ہیں، جب وسائل فراہم کیے گئے تو مزید بہتر کام ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں