سیاچن متنازعہ علاقہ ہے، بھارت سیاحت کے لیے کیسے کھول سکتا ہے: پاکستان 59

سیاچن متنازعہ علاقہ ہے، بھارت سیاحت کے لیے کیسے کھول سکتا ہے: پاکستان

اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ سیاچن متنازعہ علاقہ ہے، بھارت سیاحت کے لیے کیسے کھول سکتا ہے، بھارت نے سیاچن پر قبضے کوشش کی تھی، مسئلہ ابھی تک برقرار ہے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفترخارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کا دنیا سے رابطہ منقطع ہے، کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند ہے، عالمی برادری، اقوام متحدہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کا نوٹس لیں، بھارتی کرفیو عالمی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ بھارت کشمیر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیرمیں آج بھی کرفیو نافذ ہے، کشمیرکا میڈیا بھی بند ہے جس کے باعث بہت سے مسائل ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ سیاچن کا مسئلہ اب تک ہے بھارت نے قبضے کی کوشش کی تھی، سیاچن کے حوالے سے میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں، سیاچن متنازع علاقہ ہے ہندوستان کیسے سیاحت کے لیے کھول سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کرتار پور آنے والے یاتریوں کے لیے بھارت رکاوٹیں ڈال رہا ہے، پاکستان کی جانب سے کوئی رکاوٹ نہیں، روزانہ 5000 یاتریوں کی گنجائش ہے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کرنل (ر) حبیب 2 سال سے لاپتہ ہیں، ان کے حوالے سے سامنے آنے والا لیٹر جعلی لگتا ہے، ان کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جعلی ہے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کو گھروں میں محصور اور نظام زندگی معطل ہوئے 100 روز سے زائد ہوگئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں