حکومت تین سے چھ مہینے کی مہمان ہے :مولانا فضل الرحمان 86

حکومت تین سے چھ مہینے کی مہمان ہے :مولانا فضل الرحمان

ڈیرہ اسماعیل خان(عبدالستار شاہ)جمعیت علمائے اسلام ف کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہہ اوروں کو چور کہنے والے  آج خود احتساب سے ڈر رھے ھیں۔

بزدل کھلاڑی رائے فرار اختیار کر رہا ہے ۔الیکشن کمیشن میں کے اس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت جاری ہے ۔حکومت نے 60 درخواست دے دی کہ ہمارا کیس نہ سنا جائے ۔ اسلام آباد کی سول عدالتوں میں پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملہ کیس کے فیصلے سنائے جا رہے ہیں۔

صدر اور وزیراعظم نے چلاکی کرکے درخواست دی کہ  استثنیٰ دی جائے اور بری کردیا جائے۔5 دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر اپنے عہدے سے ریٹائرڈ ہو رہے ہیں اور وہ اس کیس کی جزئیات کو سمجھتے ہیں ان کی موجودگی میں اس کیس کا فیصلہ ضروری ہے ۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ 25 جولائی 2018 جنرل الیکشن میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر ناجائز حکومت بنائی گئی۔ ہم نے آزادی مارچ اس ناجائز حکومت کے خلاف تحریک چلائیں کہ اس نا جائز حکومت کو ختم کرکے ایک جائز حکومت تشکیل دی جائے۔ یہ فضل الرحمن  یا کسی ایک جماعت کا نہیں شو تھا۔ 

مولانا فضل الرحمان کا پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ بلوچستان حکومت، چیئرمین سینیٹ، گورنر خیبرپختونخوا کے عہدے کی پیشکش ہوئی لیکن ہم نے ہر پیشکش مسترد کردی’۔۔مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی میڈٰیا کے نمائندوں کو یہ بھی بتایا کہ اس حکومت کا مزید 3 سے 6 مہینہ کا عرصہ ہے اور حکومت کا جانا طے شدہ ہے وزیر اعظم کا استعفیٰ یا اس سے ملتی جلتی چیز یہی ہو سکتی تھی کہ حکومت کو جلد از جلد چلتا کیا جائے اور اب اس حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں اور اس کا جلد خاتمہ ممکن ہو گا ۔

حکومت کے خلاف ھماری تحریک برقرار رھے گی۔نئے الیکشن اور حکومت کےخاتمے کی جلد نوید عوام  کو ملے گی۔ کراچی سے لیکر گلگت بلتستان تک پوری شاہراہ ایک ہفتہ بند رہہیں اور یہ پیغام دیاکہ عوامی قوت سے ملکی نظام جام کیا جاسکتا ھے۔ آزادی مارچ سے دنیا میں مذہبی لوگوں کے بارے غلط تاثر ختم ہواہے۔   اسلام آباد مارچ اب ملک کےدیگر حصوں تک پھیل چکا ھے۔

ازسرنو عام انتخابات ھوں گے۔اور عوامی نمائندہ حکومت تشکیل دی جائے گی۔حکومت بوکھلاھٹ کا شکار ھے۔وزیراعظم کی تقریر میں جو الفاظ استعمال ھوئے۔وہ ان کے شایان شان نھیں۔ اسلامی اجتماع جس میں ذکروفکر درود ،نماز تہجد ،اور تلاوت قرآن نے کریم کی جاتی رہی اس کو سرکس کہنے والوں کی سوچ پر لعنت بھیجتا ہوں ۔ ان کو اپنے مجرے یاد آرہے ہیں جن سے جنسی آلودگی نے پورے ملک میں تفعن پھیلایا ہم ملکی ترقی چاھتے ھیں۔

موجودہ حکومت میں ترقی سکڑ گئی ھے۔گندم 30 فیصد،چاول 40 فیصد  اور کپاس 50 فیصد کمی ھو ئی ھے۔قوت خرید بالکل ختم ھو گئی ھے۔ایسی حکومت کو مزید وقت نھیں دیاجائے گا۔حکومت کےاخری دن ھیں۔  ہم جمہوری لوگ ہیں ملک کو آنا کی طرف نہیں لے جا رہے ۔ اداروں کو سیاست سے باہر کرنا چاہتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ استعفی یا استعفی کے برابر والی بات امانت ہے اور اس سے مراد تین ماہ میں نئے الیکشن ہیں ۔ اب گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا دینے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں