سائنسدانوں نے زیکا اور ڈینگی وائرس کا پھیلا ؤکامیابی سے روکنے کا طریقہ دریافت کرلیا 57

سائنسدانوں نے زیکا اور ڈینگی وائرس کا پھیلا ؤکامیابی سے روکنے کا طریقہ دریافت کرلیا

واشنگٹن (وائس آف ایشیا) سائنسدانوں نے ایسا طریقہ دریافت کر لیا ہے جس کے ذریعے زیکا اور ڈینگی وائرس کا پھیلا ؤکامیابی سے روکا جا سکے گا۔

حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وباچیا نامی بیکٹیریا، جو وائرس کے مچھروں سے انسانوں میں منتقلی کو روکتا ہے کے ذریعے ان دونوں وبائی بیماریوں کا کامیابی سے خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔

یونیورسٹیز آف میلبرن اینڈ شکاگو اور ملائشیا کے انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ میں موجود سائنسدانوں نے کوالالمپور میں کامیابی سے ڈینگی کا پھیلا روک دیا گیا ہے۔شائع کیے گئے نتائج کے مطابق وباچیا بیکٹیریا کی ایک قسم کو مچھروں میں داخل کر کے انہیں آزاد کر دیا گیا

جس کے نتیجے میں ڈینگی کے واقعات میں 40 فیصد کمی آ گئی۔کوالالمپور کے چھ مختلف علاقوں میں اس بیکٹیریا کے حامل نر اور مادہ مچھروں کو چھوڑا گیا اور دیکھا گیا کہ عام مچھروں سے ملاپ کے بعد پیدا ہونے والوں میں بھی وباچیا بیکٹیریا موجود تھا

جس کے باعث مرض کے پھیلا میں کمی واقع ہوئی۔اس سے قبل یونیورسٹی آف میلبورن کے پروفیسر آری ہافمین نے اسی بیکٹیریا کی ایک مختلف قسم کے ذریعے تجربہ کیا تھا لیکن یہ بات سامنے آئی تھی کہ گرم اور مرطوب علاقوں میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔

موجودہ کامیاب تجربے کے بعد پروفیسر ہافمین کا کہنا ہے کہ جن ممالک میں ڈینگی کا مرض پھیلا ہوا ہے انہیں اس مرض سے نجات پانے میں بہت مدد ملے گی۔ایک اور سائنسدان سٹیون سنگنکز کا کہنا ہے کہ یہ ان ممالک کے لیے بہت بڑی خبر ہے جہاں مچھروں کے باعث پیدا ہونے والی بیماریاں بہت عام ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں