عراق میں حکومت مخالف مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد 339 ہوگئی 34

عراق میں حکومت مخالف مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد 339 ہوگئی

بغداد: عراق کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 339 ہوگئی اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق عراق کے مختلف شہروں میں کرپشن اور مہنگائی کے خلاف شہری سراپا احتجاج ہیں، گزشتہ روز جنوبی شہر بصریٰ اور نصیریہ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کا کہنا ہے کہ عراقی شہر ام قصر میں پولیس کی فائرنگ سے 9 مظاہرین جان کی بازی ہار گئے، اس طرح اکتوبر سے جاری مظاہروں میں اموات کی تعداد 339 ہوگئی، اقوام متحدہ نے سنگین صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے فریقین کو معاملہ حل کرنے پر زور دیا ہے۔

ملکی وزیرداخلہ خلیل المحنہ کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے دوران تین مظاہرین بغداد میں مارے گئے، جلاؤ گھراؤ اور احتجاج کی آڑ میں مظاہرین نے سیکیورٹی اہلکاروں پر بھی حملہ کیا جس کے باعث 33 اہلکار ہلاک ہوئے۔

یاد رہے کہ عراق کے مختلف علاقوں میں یکم اکتوبر سے حکومت مخالف مظاہروں کا آغاز ہوا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتے جارہے ہیں، مظاہرین نے حکومت پر کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے فوری عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔

خیال رہے کہ 9 نومبر کو عراقی صدر برہم صالح نے اپنے سرکاری خطاب میں ملک بھر میں نئے انتخابات کرانے کا عندیہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وزیر اعظم عادل عبدالمہدی عہدہ مشروط طور پر چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں