چاند کے دیوانے 1600 چکور پنجرے سے آزادی کے منتظر 53

چاند کے دیوانے 1600 چکور پنجرے سے آزادی کے منتظر

کہتے ہیں چکور چاند کی محبت میں گرفتار ہے اور اس تک پہنچنے کی آرزو میں اکثر وہ اڑان بھرتا ہے جس کا انجام اس کی موت پر ہوتا ہے۔

چکور کا چاند سے یہ عشق افسانوی اور من گھڑت بات ہے یا یہ سچ ہے، اسے شاید ہی کسی لیبارٹری ٹیسٹ اور آلات کی مدد سے کبھی ثابت بھی کیا جاسکے، مگر یہ ضرور ہے کہ ہم انسان نہ صرف اس پرندے کو پالنے کا شوق رکھتے ہیں. بلکہ اس کا شکار بھی کرتے ہیں۔ چکور کی خریدوفروخت بھی ایک منافع بخش کاروبار ہے جس کے لیے اکثر غیر قانونی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ چند روز پہلے صوبۂ بلوچستان میں 1600 چکوروں کو حکام نے تحویل میں لیا ہے جو ایران سے لائے جارہے تھے۔

چکور پاکستان کا قومی پرندہ بھی ہے جس کا یہ نام سنسکرت زبان سے لیا گیا ہے۔ یہ زیادہ تر پہاڑی اور ریگستانی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ماہرینِ حیوانات کے مطابق عموماً چکور کا مسکن اونچی پہاڑیاں ہوتی ہیں جہاں موجود جھاڑیاں اور گھاس وغیرہ میں یہ اپنا وقت گزارتا ہے-

چکور ہلکے بھورے اور سرمئی رنگ کا ہوتا ہے- دُم اور گردن پر کالے اور سفید رنگ کی دھاریاں جب کہ چونچ اور پیروں کی رنگت سرخ ہوتی ہے۔ چکور گھونسلہ بنا کر رہتے ہیں اور اس کی مادہ انڈے دیتی ہے۔ یہ تعداد کے لحاظ سے 7 سے 14 تک ہو سکتے ہیں جن سے بچے نکلنے کا عمل تقریباً 25 دن میں مکمل ہو جاتا ہے- اس کی خوراک میں مختلف بیج اور چھوٹے حشرات شامل ہیں۔

اس خوب صورت پرندے کی قیمت اس کی نسل، خوب صورتی اور عمر جان کر طے کی جاتی ہے۔ مادہ چکور کی قیمت کا انحصار اس کے انڈے دینے کی صلاحیت پر ہوتا ہے۔

حال ہی میں تحویل میں لیے گئے ان چکوروں کو حکام سرحدی علاقے میں چھوڑیں گے جہاں یہ ایک بار پھر چاند سے عشق لڑانے میں آزاد ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں