خاموش رہنا تدبیر کی نشانی ہے 10

خاموش رہنا تدبیر کی نشانی ہے

جس کا جتنا ظرف ہے اتنا وہ خاموش ہے
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
خاموش رہنا تدبر کی علامت ہوتی ہے عقل مندی کی علامت ہوتی ہے اور انسان کے سمجھ دار ہونے کی علامت ہوتی ہے جبکہ ہر وقت بولتے رہنا یہ انسان کی بیوقوفی کی علامت ہوتی ہے یاد رکھئے گا کہ زبان کی لغزش پاؤں کی لغزش سے بھی زیادہ خطرناک ہوتی ہے

پاؤں پھسل گیا تو بندہ پھر اٹھ سکتا ہے۔ لیکن اگر زبان پھسل گئی تو وہ الفاظ پھر واپس نہیں آسکتے۔ اس لئے جس بندے کی زبان بے قابو ہو۔ اس بندے کی موت کا فیصلہ وہی کرتی ہے قرآن پاک چند آیات کا ترجمہ: اے ایمان والو! کیوں کہتے منہ سے جو نہیں کرتے ہو ۔

بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو، وہ چیز جو نہ کرو وہ میز کہتے ہیں اپنے منہ سے۔ جو نہیں ان کے دل میں، نہیں بولتا ہے کوئی بات مگر یہ کہ اس پر ایک فرشتہ نگران ہے۔ مسلمان تو وہ ہے جس کی بزان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ ہے۔

دو الفاظ ایک ساتھ بولے جاتے ہیں۔ تعلیم تربیت، تعلیم تو انسان مدارس سے۔ سکولوں سے پا لیتا ہے۔ لیکن تربیت اس کو ان جگہوں سے نہیں ملتی اس کے لئے اسے بعض اشخاص کی خدمت میں رہنا پڑتا ہے جو انسانوں کو انسان بنانے کے لئے تشریف لائے تھے۔

جب دنیا سے پردہ فرمانے لگے تو کام ان کے ورثاء جو علماء اور صلحاء تھے ان کو دیا گیا اب قیامت تک ایسے افراد نور نسبت کو دل میں لئے ہوئے تربیت کا کام کرتے رہیں گے۔ یہ لوگ دیکھنے میں ایک فرد نظر آئیں گے۔ مگر حقیقت میں، ایک جماعت سے بھی زیادہ وزنی ہوں گے

جیسے اللہ تعالی فرماتے ہیں۔ ترجمہ: میرا ابراہیم تو ایک امت تھا ،یہ قرآن مجید کی کتنی وزنی دلیل ہے کہ دیکھنے میں تو زفرد واحد ہیں، لیکن اللہ کے یہاں امت سے زیادہ وزن رکھتے ہیں۔ زبان سے نکلے الفاظ اہمیت۔ غور کیجئے۔ کہ جب کوئی کافر کلمہ پڑھتا ہے

اس کو بھاگا دوڑی یا ورزش نہیں کرنی پڑتی، بلکہ صرف اپنی زبان سے کلمے کے دو الفاظ کہنے پڑتے ہیں۔ پہلے اللہ کاع دشمن تھا، اب اللہ کیدوستوں میں شامل ہو جاتا ہے۔ پہلے شیطان کا بندہ تھا، اب رحمن کا بندہ بن جاتا ہے دو لفظوں کاکرشمہ جب کسی مرد یا عورت کا نکاح ہوتا ہے،

اس نکاح کے وقت جب مرد قبول کرتا ہے تو اس وقت اس کو اپنی زبان سے فقط اتنے ہی الفاظ کہنے پڑتے ہیں کہ میں نے اس لڑکی کو اپنے نکاح میں قبول کیا یا اتنا کہہ دے کہ میں نے قبول کیا۔ اتنے الفاظ کہنے پر وہ لڑکی جو اس کے لئے غیرمحرم تھی جس کی طرف دیکھنا اس کے لئے کبیرہ گناہ تھا،

جس سے بات چیت کرنا اس کے لئے حرام تھا، وہ لڑکی صرف اتنے الفاظ کہنے کے بعد اس کے لئے محرم ہی نہیں بنتی بلکہ شریک حیات بن جاتی ہے اب یہ اس کے ساتھ پوری زندگی گزارتا ہے تو سوچئے کہ نکاح کے وقت فقط چند الفاظ کے بولنے پر دو انسانوں میں کتنی جدائیاں تھیں،

اب وہ اتنے قریب ہو گئے کہ کہنے کو تو جسم دو ہیں۔ مگر ان کے جسم ایک جیسے ہیں۔ یہ خوشی اور غمی کے ساتھی بن جاتے ہیں تو اللہ رب العزت کے ہاں زبان سے نکلے ہوئے الفاظاتنی اہمیت رکھتے ہیں کہ جس طرح چندالفاظ نے اس لڑکی اور لڑکے کے درمیان کے فاصلوں کو سمیٹ کر رکھ دیا۔

اسی طرح اگر کوئی مرد کسی وقت اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہہ دیتا ہے تو ان الفاظ کے زبان سے نکلنے پر وہ عورت جو اس کی شریک حیات تھی۔ اس کے بچوں کی ماں تھی۔ اس کے دکھ درد کی ساتھی تھی،

اب اس کے لئے اجنبی بن گئی، وہ پھر اس کے لئے نامحرم بن گئی، تو نکاح اور طلاق کے چند الفاظ انسان کی زندگی میں کتنی تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ اس کو سوچ سمجھ کر اپنے منہ سے زبان الفاظ نکالنے چاہئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں