انصاف کہاں ہے 40

انصاف کہاں ہے

اگر ایوب خان ، ضیا ء الحق اور پرویز مشرف نے مارشل لاء نافذ کر کے 35برس پاک فوج کی سپہ سالاری پر قبضہ نہ کئے رکھا ہوتا میاں محمد نواز شریف نے پرویز مشرف اور اشفاق پرویز کیانی کو مدت ملازمت میں توسیع نہ دی ہوتی ہوتی تو پاک فوج کی تاریخ ایک درجن کے قریب مزید جنرلز پاک فوج کے سپہ سالارمقرر ہوکر سبکدوش ہوتے ۔

کتنے ہی کرنل اور بریگیڈئیر جنرلز بن کر ریٹائرمنٹ پر جاتے ۔ بہت سارے میجرز اور کیپٹنز مدت کرنل اور بریگیڈئیر کے عہدوں پر پہنچ کر مدت ملازمت پوری کرتے مگر وہ سب لوگ اپنے حقوق سے محروم رہ کر ریٹائرمنٹ لے گئے ۔اور آج بھی ایساہی ہے ۔

جنرل قمر جاوید باجوہ سپہ سالار بنائے گئے تو متعدد سینئر جنرلز مستفیٰ ہوکر گھروں کو سدھار گئے۔ اور انکے بعد کئی اور بھی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائرمنٹ پر چلے گئے۔ جبکہ جنرل باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع دینے سے مزید جنرلز بھی ترقی پائے بغیر رخصت ہوجائیں گے۔ اور اپنے حقوق سے محروم رہیں گے ۔

حتیٰ کہ ترقیوں کا یہ سلسلہ نیچے تک فوجی افسران کو متاثر کریگا۔ جنرل باجوہ کو عدالت عظمی چھ ماہ کی توسیع دیدی اور حکومت کو حکم دیا ہے۔ کہ وہ پارلیمنٹ سے رجوع کرکے چھ ماہ کے دوران قانون سازی کرے۔ حکمران اس حکم کو پارلیمنٹ کو دیا گیا۔

حکم باور کرانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ حالانکہ عدلیہ پارلیمنٹ کو حکم دے سکتی ہے ۔ نہ ہی اپوزیشن حالیہ فیصلے کی پابند ہے۔ اگر وہ چاہیے گی تو قانون سازی میں حکومت کا ساتھ دیگی ورنہ نہیں البتہ حکمرانوں کو اسے آمادہ کرنے کیلئے انکی شرائط مان کر کوئی معاہدہ کرنا ہوگا یعنی این آر او دینے کی بجائے ان آر او لینا پڑیگا۔

جوا یسا کانٹا ہے جسے حکمران اگلیں گے تو اپنا مقصد حاصل نہیں کرپائیں گے ۔اور اگر نگلیں گے تو اپنی ظاہری انا، خودداری ، اور بے نیازی کا سودا کرینگے ۔اسی طرح اپوزیشن یا کسی بھی ایک جماعت نے حکومت کا غیرمشروط ساتھ دیا تو سمجھ جائے گا۔ کہ وہ بگ گئی ،

جھک گئی، ڈر گئی، دب گئی اور قومی مفاد کی بجائے سیاسی فائدے کو ترجیح دی۔ اگر کسی ایسی شرط پر ووٹ دیا گیا۔ جیسے حکومت سے نہیں پاک فوج سے منسوب کیا گیا تو یہ ایسا معاملہ بھی ناجائز و ناحق ہوگا اور چکی کے وہی دو پاٹ والی بات ہوگی کہ ایک جماعت جس لاٹھی کے سہارے قائم ہے اپوزیشن نے اسی بیساکھی کا سہارا اپنے لیے ٹھیک جانا ہے

حکومت کو قانون سازی کیلئے دو تہائی اکثریت چائیے اور اپوزیشن کے بغیر ممکن نہیں ۔ حکمرانوں نے اپنی نالائقی و نااہلی کے باعث جس قسم کی صورتحال پیدا ہوئی اسکے پیش نظر جنرل باجوہ صاحب کو عہدہ چھوڑ کر چلے جانا چاہیے ،

ورنہ چھ ماہ اور بھی حالات مختلف نہیں ہونگے ۔ اگر اپوزیشن رضامند نہ ہوئی علاوہ ازیں یہ کہ کور کمانڈرز اور دیگر جنرلز بھی جنرل باجوہ صاحب کی ٹیم کا حصہ ہیں۔ وہ انکے بعد بھی پاک فوج کو بہتر طریقے سے چلائیں گے ۔ وہ اہلیت ، قابلیت ، لیاقت اور صلاحیت رکھتے ہیں ۔

حکومت انہیں زیرہ سے ضرب نہ دے۔ ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف ، اشفاق احمد کیانی اور جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد بھی پاک فوج کمزور نہیں ہوئی ۔ بلکہ اسکی طاقت و قوت بڑھی ہے۔ ہماری فوج بطور ادارہ مستحکم و مظبوط ہے ۔

کسی شخصیت سے اسکا استحکام جڑا ہوا نہیں۔ کوئی کور کمانڈر ، جنرل ، بریگیڈئیر ، کرنل ، میجر، اور کیپٹن بھی نااہل و نالائق نہیں سبھی ترقی پانے اور فوج کو بہتر طور پر چلانے کی استعداد و صلاحیت رکھتا ہے۔

حکمرانوں نے سپہ سالار فوج کی مدت ملازمت میں توسیع کا غلط حکمنامہ جاری کرنے والوں نے اب عدلیہ کے فیصلے کو بھی سمجھنے میں غلطی کی ہے ۔کہ عدالت عظمیٰ نے پارلیمنٹ کو قانون سازی کاحکم دیا ہے۔

جس میں اپوزیشن بھی سائل ہے۔ صد شکر حکمران اسے بھی پارلیمنٹ کا حصہ تصور کررہے ہیں۔ ورنہ اب تک تو اپوزیشن کی بجائے آرمی چیف سے مشاورت کی جارہی تھی ۔ جو واضع طور پر آئین و جمہوریت کی نفی تھی ۔ حکومت و اداروں کا ایک صفحے پر ہونے کا مطلب یہ نہیں لینا چائیے کہ اہم قومی مسائل میں اپوزیشن کو نظر انداز کردیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں