سابقہ نظام کی اصلاح 42

سابقہ نظام کی اصلاح

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر نبی عہ ایسے حالات میں مبعوث ہوتا تھا کہ اس کو ایک نیو دنیا بنانا پڑتی تھی وہ اس بگڑی دنیا کو ایک دم مسمار نہ کرتا تھا وہ اس وقت کے انسانوں کے حالات کی پوری پوری رعایت مد نظر رکھتا تھا اور جیسا کہ قرآن کا ازلی اصول ہے رفتہ رفتہ حالات کو بدلتا اور تازہ حالات پیدا کرتا چلا جاتا تھا

تعلیمات الہیہ کو اس حسن سے نافذ کرتا تھا کہ کسی شخص کو نقصان نہ پہنچتا تھا صرف ان لوگوں کو نقصان ہوتا تھا جو دوسرے انسانوں کے نقصان کا منصوبہ چلانے والے ہوتے تھے لہذا حقیقی معنی میں نقصان ان کو بھی نہ ہوتا تھا مثلا اگر لوٹ مار کا مال ڈاکو کو واپس دینا پڑے تو یہ ڈاکو کا نقصان نہیں ہے یہ مال تو اس کا تھا

ہی نہیں پھر انبیا عہ تو ڈاکوں کے ساتھ بھی زبردستی نہ کرتے تھے البتہ وہ ایسا انتظام کرتے تھے کہ بتدریج وہ وقت آ جائے کہ ڈاکو ڈاکہ زنی بند کرنے اور پہلے سے لوٹا ہوا مال واپس کرنے ہی میں اپنی نجات سمجھے وہ اپنے زمانہ اور سابقہ ادوار کی پوری تعلیمات الہیہ کے عالم ہوتے تھے

مگر پوری تعلیم یا پوری کتاب کو نہ ایک دم نافذ کرتے تھے نہ یک لخت انسانوں کے سامنے پیش کرتے تھے وہ تمام حالات کا جائزہ لے کر قرآن کریم کے مذکورہ اصول کے مطابق احسن اقدامات کرتے اور اسی سلسلے کا حکم با تفصیل بتاتے چلے جاتے تھے

چنانچہ شراب حرام تھی حرام ہے اور حرام رہے گی ہر عقلمند کے نزدیک ایسے حرام ہونا چاہئے آنحضرت صہ کی تشریف آوری سے بھی بہت پہلے تمام الہامی کتابوں میں حرام تھی اور حسن اتفاق سے آج تک بھی اس حکم میں رد و بدل نہیں کیا جا سکا گو مذکورہ قسم کے لوگوں نے اسے حلال کر لیا ہے

ایسی پکی اور عقلا حرام چیز کو بھی رسول اللہ صہ نے ایک دم حرام قرار نہیں دیا اعلان نبوت کے بعد جب حالات نے موزوں صورتحال اختیار کر لی تو آپ نے آیت پڑھ کر سنا دی اس میں بھی اسے حرام قرار نہ دیا بلکہ یہ فرمایا گیا کہ جب تم حالت نشہ میں ہو تو نماز کے پاس نہ جا یعنی مسجد میں بھی نہ آ حتی کہ تم جو کچھ کہتے ہو ایسے سمجھنے کے قابل ہو جا بالکل اسی طرح جس طرح حالت جنابت میں جب غسل کر لو تو نماز پڑھ سکتے ہو اور جب شراب کو قطعا بند کیا تو اس وقت بھی اس کے لئے لفظ حرام استعمال نہ فرمایا اس لئے کہ وہ پہلے ہی سے حرام تھی

چنانچہ جناب نے اس کو نا پاک اور عمل شیطان اور بنی نوع انسان کو تباہ کرنے کا شیطانی وسیلہ قرار دیا اسی بنا پر شراب پینے والے کو حالت جنابت کی طرح نا پاک سمجھا گیا ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سرکار دو عالم صہ نے زمانہ نبوت کا آدھے سے زیادہ حصہ حالات کو موزوں بنانے پر صرف کیا اور اس ازلی و ابدی حکم کو نافذ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیا اسی طرح بہت سے احکام ہیں جن کو عملا نافذ کرنے کے لئے تدریج اور مہلت کو ملحوظ رکھا حالانکہ حضورصہ تو حضور صہ ان کے والدین پرورش کرنے والے اور خاندان کے دیگر افراد عملا شراب کو حرام سمجھتے چلے آ رہے تھے

آپ جانتے ہیں کہ نماز ہر نبی عہ نے پڑھی اور شروع سے تمام امتوں پے واجب رہی ہے یہ اعلان نبوت کے وقت بھی واجب تھی لیکن مسلمانوں کو پہلے ہی دن نماز کا حکم نہیں دے دیا گیا تھا عرصہ دراز تک لوگ مسلمان تھے مومن تھے جنتی تھے حالانکہ ابھی نماز نہ پڑھی تھی نہ بتاء گء تھی نماز کے لئے بھی لوگوں کو تیار کرنا ضروری تھا

ابتدا میں تعلیم تو یہ تھی کہ توحید کی گواہی دو اور فلاح یافتہ ہونے کی سند لے لو اس میں نبوت کی گواہی کو داخل نہ کیا کیونکہ لوگ پہلے خاندانی اقتدار کا الزام لگا چکے تھے کیا اس کے یہ معنی تسلیم کیے جا سکتے ہیں کہ کلمہ کے باقی اجزا ضروری نہیں ہیں ہرگز نہیں بات وہی ہے کہ لوگوں کو باقی اجزا کے سمجھنے اور مقصد سے متفق ہو جانے کا موقعہ دیا جانا ضروری ہے

پھر حکم ملے یا نہ ملے کلمہ خود بخود نافذ ہو جائے گا کلمہ تو معجزہ ہے اسے نافذ ہونے سے کون روک سکتا ہے اسی اصول آزادی و خود مختاری کی بنا پر ایک دم سے یہ حکم نہیں دے دیا گیا کہ تم سب اپنے اپنے اموال و املاک سے رسول صہ کے حق میں دستبردار ہو جا اور تمام نقدی غلہ کپڑا اور دیگر ساز و سامان تمام لا کر رسول صہ کے حوالے کر دو اور اس کے بعد جس طرح رسول اللہ صہ تمہیں سامان معاش فراہم کریں اس پر قناعت کرو اگر ایک دم پہلے ہی روز یہ حکم دے دیا ہوتا تو پہلی بات تو یہ ہوتی کہ اس حکم کی تعمیل نہ ہوتی دوسری بات یہ کہ اگر کسی قوت قاہرہ سے اس حکم پر عمل کرالیا جاتا-

ابلیس اور اس کی عقل سے سوچنے والوں کا راستہ بند ہو گیا ہوتا اگر ابلیس کا راستہ یوں جبر و قہر سے روک دینا خدا کو منظور ہوتا تو نہ اسے پیدا کرتا نہ اس قدر مہلت اور اختیار و آزادی دی ہوتی اس کو آزاد رکھنا منظور ہے تا کہ انسان اپنے اعمال کا ثواب یا عذاب پانے کا حق دار ہو جائے مد مقابل کے ہاتھ پاں باندھ کر مقابلہ بے معنی ہے اولاد آدم عہ کے لئے ضروری ہے-

وہ اپنے حریف اپنے باپ اور اللہ کو چیلنج کرنے والے دشمن کو قطعی طور پر آزاد خود مختار رکھ کر اللہ کی منشا اور تعلیم کے مطابق مقابلہ کریں ایسے موقعہ پر موقعہ دیں تا کہ وہ اپنے تمام اوزار جمع کر لے اور اپنی قوت اور اپنے مدد گاروں کی بصیرت سے بھر پور حملہ کرے اور آپ کا پر خلوص دفاع اس کی سکیم کو بے اثر کر دے تیسری بات یہ ہے-

تمام خرابیاں جو تمام قوم یا ملک یا پوری بنی نوع انسان کے اموال و املاک وغیرہ کو ایک دم طلب کرنے سے پیدا ہونا ضروری تھیں ان سے محفوظ رہنے اور سنت اللہ کو برقرار رکھ کر مفید ترین نتیجہ نکالنے کے لئے دوسرا رخ بر سرکار لایا گیا یعنی لوگوں کو ان کی املاک جائیداد و اموال کا مالک تسلیم کر کے خود مختار رکھا گیا

پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے والوں کو بھی لوگوں کی اس طرح اصلاح کرنی چاہئے کہ غربت بے روزگاری اور مہنگاء پیدا نہ ہو اور لوگ بھی معاشی لحاظ سے خوشحال ہو کر حکومت کو ٹیکس ادا کریں زور اور زبردستی سے ریاست مدینہ نہیں بن سکتی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں