خیبر پختونخواہ میں کی تاریخ میں خاتون افسر کے زیر انتظام خواتین کی پہلی کھلی کچہری 101

خیبر پختونخواہ میں کی تاریخ میں خاتون افسر کے زیر انتظام خواتین کی پہلی کھلی کچہری

مردان(اعتدال نیوز)اسسٹنٹ کمشنر مس گل بانو نے مردان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کے لئے کھلی کچہری کا انعقاد کیاگیا۔


کھلی کچہری میں صوبائی کمیشن برائے وقار نسواں کی چیئر پرسن رفعت سردار، ڈسٹرکٹ سوشل ویلفیئر افسر سید علی بخش،تحصیل افسر ریگولیشن حنیف خان مہمند،سب ڈویژنل ایجوکیشن افسر مسرت جبین۔ایس ڈی او فائضا ثنا سمیت دیگر محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

خواتین نے محکمہ تعلیم،ٹی ایم اے مردان،محکمہ صحت اور دیگر محکموں کے بارے میں شکایات کے انبار لگا دیے۔

خواتین نے ٹی ایم اے کے زیر انتظام دستکاری سنٹرز کے سپر وائزر کی اعزازیہ 2500روپے ماہور کو انتہائی کم قرار دیتے ہوئے کہاکہ مہنگائی کے تناسب سے انکے اعزازیہ میں اضافہ کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ دستکاری سنٹرز میں غریب خواتین کو جدید تقاضوں کے مطابق ہنر سکھائے جاتے ہیں لیکن لوجسٹک سپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بہت سی مسائل کا سامنا ہے۔

کھلی کچہری میں شریک خواتین نے شہری علاقوں میں باؤلے کتوں کی بھرمار، ہسپتالوں میں کتے کاٹنے کی ویکسیئن نہ ہونے،سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی،پرائیویٹ سکولوں میں خواتین ٹیچرز کو مقررہ اجرت سے کم اجرت دینے، ترقیاتی فنڈز سے خریدے گئے

سلائی مشین مستحق خواتین کو دینے اور انکے ساتھ مالی امداد کے حوالے سے اپنی تجاویز اسسٹنٹ کمشنر اور ضلعی انتظامیہ کے افسران کے سامنے پیش کئے۔

اسسٹنٹ کمشنر گل بانو نے کہاکہ مردان کی خواتین کے لئے آج خوشی کا دن ہے کہ انکے سامنے انتظامیہ کے تمام افسران بیٹھے ہیں اور انکے مسائل سن رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ خواتین کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے۔انہوں نے کہاکہ دستکاری سنٹرز میں کام کرنے والی خواتین کے اعزازیہ کو بڑھانے کے لئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں

اور بہت جلد انہیں اس حوالے سے خوشخبری ملے گی۔انہوں نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ رہائشی علاقوں سے دکانداروں کے گوداموں کو ختم کرنے کے لئے آپریشن شروع کریں جس پر ٹی ایم اے حکام نے کہاکہ بہت جلد اس حوالے سے آپریشن شروع کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں