پتھر دلوں کی موت 140

پتھر دلوں کی موت

موت، قبر اور میدان حشر
اب یہ واقعہ پتا نہیں کہاں تک سچا ہے۔ اللہ جانے، ایک پروفیسر صاحب لکھتے ہیں، کہ ایک بس جارہی تھی ایک آدمی نے دیکھا تو اسے ایک سانپ بس کے اندر پڑا ہوا نظر آیا اس نے بس کے کنڈیکٹر سے کہا سانپ سانپ، کنڈیکٹر نے نہایت مہارت سے سانپ کو پکڑ کے کھڑکی سے نیچے پھینکا تو کہتے ہیں،

ساتھ ہی ایک موٹر سائیکل پر نوجوان جا رہا تھا، وہ سانپ اس موٹر سائیکل والے کے جسم سے جا کر لگا، سانپ نے اس آدمی کو کاٹا تو وہ موٹر سائیکل والا گر کر مر گیا، جب پولیس نے آکر اس بندے کو دیکھا تو اس موٹر سائیکل کے پیچھے ایک چیز بندھی ہوئی تھی،

وہ ایک بریف کیس تھا، اس کو جب کھول کر دیکھا تو زلزلے میں جو عورتیں دب کر مر گئیں تھیں۔ ان کے ہاتھ کاٹ کر لایا تھا، ہاتھوں میں چوڑیاں اور انگوٹھیاں پہنی ہوئی تھیں۔ وہ اس کو لے کر جا رہا تھا،

اب بتاؤ کہ یہ کیسا پتھر دل انسان ہو گا، کہ مری ہوئی ملبے میں دبی ہوئی عورتوں کے ہاتھوں کو وہ کاٹ کر لایا تھا، تاکہ ان میں سے اس پتھر دل انسان نے چوڑیاں اور انگوٹھیاں اتارنی تھیں۔ اور ان سے بریف کیس بھر کر لے جا رہا تھا،

اسے کیا معلوم تھا کہ راستے میں ملک الموت اس کا انتظار کر رہا تھا، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ جنگ یرموک کے اندر زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے سخت گرمی تھی، عصر کا وقت ہو گیا، جسم سے خون بہنے کی وجہ سے بہت نقاہت محسوس ہو رہی تھی،

ہونٹ خشک ہو چکے تھے، ان کا ایک دوست تھا، جو ان کا کزن بھی تھا، انہوں نے اس کو اس حالت میں دیکھا تو سوچا کہ میں ان کو پانی پلا دوں، چنانچہ انہوں نے مشک سے پانی پلانا چاہا تو حضرت عبد اللہ نے اپنے ہونٹوں کو بند کر لیا تو دوست نے کہا: عبد اللہ! اس وقت تمہیں پیاس لگی ہوئی ہے،

سخت گرمی بھی ہے، تمہارا بہت زیادہ خون بہنے کی وجہ سے جسم اتنا ڈھیلا ہو چکا ہے، تھوڑا پانی پی لو،جب انہوں نے کہا: پانی پی لو توحضرت عبد اللہ فرمانے لگے: نہیں، میں اس وقت روزے سے ہوں، میری دلی خواہش ہے کہ مجھے شہادت روزے سے نصیب ہو جائے۔

تو میں اپنے محبوب کے شربت دیدار سے روزہ افطار کرنا چاہتا ہوں۔ یہ تب ہوتا ہے جب دل میں اللہ کی محبت نصیب ہو جاتی ہے، یہ بھی اللہ کا بندہ ہے، وہ بھی اللہ کا بندہ ہے، جو زلزلہ سے مری ہوئی اور مٹی میں دبی ہوئی عورتوں کے ہاتھ کاٹ کر بریف کیس میں لے جا رہا تھا،

یہ بھی ذرا سوچا کروں کہ ایک روز موت بھی آنی ہے۔ اور قبر میں بھی جانا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة اللہ علیہ ایک مرتبہ جنازہ پڑھنے گئے۔ اب ذرا غور کیجئے گا جو نکتہ آپ کے ذہن میں بٹھانا ہے تاکہ آپ کے ذہن میں آجائے جنازہ پڑھنے کے بعد حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة اللہ علیہ قبرستان میں ایک قبر کے پاس کھڑے ہو کر رونا شروع کر دیا۔

لوگوں نے پوچھا حضرت آپ توجنازہ کے سرپرست تھے، آپ پیچھے کیوں کھڑے ہو گئے۔ فرمانے لگے: مجھے اس قبر سے ایسی آواز محسوس ہوئی جیسے یہ میرے ساتھ ہم کلامی کر رہی ہو، فرمایا: اس قبر نے مجھ سے یہ ہم کلامی کی کہ اے عمر بن عبد العزیز !

تو مجھ سے کیوں نہیں پوچھتا کہ جو بندہ میرے اندر ہے تو میں اس سے کیا سلوک کرتی ہوں، میں نے کہا بتا دو، قبر کہنے لگی، میں اس کے ساتھ یہ سلوک کرتی ہوں کہ اس کے گوشت کو کھا جاتی ہوں، اس کی انگلیوں کے پوروں کو اس کے ہاتھوں سے جدا کر دیتی ہوں۔

اس کے ہاتھوں کو اس کے بازؤوں سے جدا کر دیتی ہوں۔ اور اس کی ہڈیوں کو جدا کر کے ان کو بھی کھا جاتی ہوں، حضرت عمر بن عبد العزیز فرمانے لگے، جب قبر نے مجھے یہ پیغام دیا تو مجھے رونا آگیا۔ دوستو! دنیا اور آخرت کی ہرتکلیف وپریشانی کے رفع ہونے اور نعمت وراحت کے حاصل ہونے کے لئے ہم خالق ومالک حقیقی کی دعا کے محتاج ہیں،

رزق جسمانی ہو، یا روحانی دونوں جہانوں کے خزانوں پر اللہ تعالی ہی قدرت ہے، جب مالک ہی وہ ہے اور دنیا بھی اسی کی ہے، وہ جب دنیا چاہتا ہے، بلکہ حکم فرما رہے ہیں کہ تجھ سے مانگو تو ہمیں چاہئے کہ ہم پروردگار سے مانگیں اور دل کھول کے مانگیں۔ دنیا بھی مانگیں اور آخرت بھی مانگیں۔ اللہ پاک ہمیں مانگنے کی توفیق نصیب فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں