روضہ رسول اللہ ۖ کے اندر کا حال (دوسری قسط) 23

روضہ رسول اللہ ۖ کے اندر کا حال (دوسری قسط)

دل تھام کر پڑھئے یہ بارگاہ رسول ۖ ہے
اندھیرا چھایا ہوا تھا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا، صرف یہ غلاف ایک خیمے کی مانند اوپر اٹھتا نظر کے سامنے آجاتا ہے یہ غلاف سرخ اور سبز رنگ کا تھا، اب اوپر دیکھئے، آپ کے عین اوپر گنبد خضری ہے،

یعنی سرخ اور سبز رنگ کے عین اوپر سبز گنبد کا اندرونی حصہ دکھائی دے رہا ہے، جیسے تاریخی عمارتوں کے گنبد کے عین درمیان میں سے ایک رسی یا تار لٹکتی ہے، تاکہ اس کے ساتھ کوئی فانوس وغیرہ باندھا جا سکے۔

ایسے گنبد خضری کے درمیان میں سے ایک رسی یا تار جو لٹک رہی ہے اس رسی سے روضہ رسول ۖ کا غلاف بندھا ہوا ہے، معلق ہے، اسی لئے خیمے کی صورت نظر آتی ہے، اورجہاں غلاف رسی سے بندھا ہوا ہے تو گویا نقطہ ہے، اور وہاں سے غلاف پھیلتا ہوا بڑا ہوتا ہوا، اس کے اندر جو تین قبریں ہیں، انہیں گویا سر سے پاؤں تک ڈھانک رہا ہے،

جیسے بانس کی تتلیوں سے بنے پرندوں پنجروں کو غلاف سے ڈھانکا جاتا ہے، تاکہ وہ آرام کر سکیں تو کچھ ایسی شباہت یہاں بھی بنتی ہے، اس چوکھٹ کے اندر داخل ہوتے ہی سرخ اور سبز رنگ غلاف کوعین اپنی آنکھوں کے سامنے پاکر ایسے قریب اور سامنے کہ آنکھیں تو کیا پلکیں بھی اس سے چھونے لگتی ہیں تو کیا گزرتی ہے،

سلجوق پر گزری تھی، وہ بیان نہیں کر سکتا، تو میں جو محض ایک رپورٹر ہوں، جو سنا ہے جو دیکھا ہے وہ تحریر کررہا ہوں، کیسے بیان کر سکتا ہوں، اب فرش پر نظریں جھکائیے، فرش سنگ مرمر کا ہے،

سفید ہے، لیکن قدیم، بہت پرانا لگتا ہے، یعنی شفاف نہیں۔ قدامت کے رنگ میں ہے، اب دیواروں نگاہ کیجئے۔ ان پر سادی سی سفیدی کی ہوئی ہے، اور یہ تو دائیں بائیں کی دیواریں ہیں اور سامنے وہ سنہری جالی ہے وہ سنہری جالی جو باب السلام میں داخل ہو کر جب آپ روضہ رسول ۖ تک آتے ہیں تو بائیں جانب نظر نواز ہوتی ہے اور اس سنہری جالی کی زریں دعا ملی میں تین بوند نما سوراخ ہیں

پہلی بوند رسول اللہ ۖ کے مدفن کی نشاندہی کرتی ہے۔ دوسری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تیسری حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبروں کا پتا دیتی ہے۔ اب غلاف کے ساتھ ذرا آگے بڑھتے ہیں تو یہی سنہری جالی جسے آپ نے باہر سے دیکھا تھا،

اب اسے روضہ رسول ۖ کے اندر سے دیکھتے ہیں، ظاہر اندر روشنی نہیں ہے، سنہری جالی میں سے مسجد نبوی ۖ کی جو روشنی آرہی ہے آپ اس پر انحصار کرتے ہیں، منظر تو بالکل خاموش ہے، لیکن مدہم ہے۔ اور آپ کو وہ تین سوراخ یا بوندیں نظر آنے لگتی ہیں۔

سنہری جالی میں جہاں جہاں ان بوندوں کے سوراخ ہیں ان کے عین نیچے سنگ مر مر کے قدیم فرش پر ویسے ہی دائرے بنے ہوئے ہیں۔ فرش پر بھی تین دائرے ہیں۔ پہلا دائرہ رسول اللہ ۖ کے مدفن کے سائے یں فرش پر، دوسرا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور تیسرا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قبروں کے پہلو میں، روضہ رسول ۖ کے سیاہ نام پہلے رسول اللہ ۖ کے سرہانے رکھتے ہیں۔ اور سلام پڑھتے ہیں۔ اور آپ ان کی پیروی کرتے ہیں۔

پھر وہ آگے ہو کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی قبر کے سرہانے کھڑے ہوتے ہیں۔ اور سلام پڑھتے ہیں اور آخر میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ کے قریب جا کر یہی عمل دہراتے ہیں۔ اورآخر میں وہ ہاتھ اٹھا کر دعا پڑھتے ہیں۔

اس دوران جو زائرین مہمان اندر ہوتے ہیں ان پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔ ان میں سے کوئی غلاف کوہاتھ نہ لگائے۔ بوسہ نہ دے، عقیدت کی نابینائی میں جو اس کھو کر کوئی اور حرکت نہ کر بیٹھے۔ لیکن لوگ اس کے باوجود لوگ باز نہیں آتے ان کے ہاتھ پنجرے میں بند پرندوں کی مانند بے

اختیار پھڑپھڑاتے ہیں اور اس سبز شجر پر جو روضہ رسول ۖ کا غلاف ہے، بیٹھ جانا چاہتے ہیں۔ اسے پنے پروں سے چھونا چاہتے ہیں۔ اگر چوری چھپے خلاف ورزی کر کے غلاف کو چھوا جائے اور غلاف کو مس کرتے ہوئے انگلیوں کواحساس ہوا اور ایسا لگاکہ اس کے پیچھے کوئی تقدس تعمیر ہے،

جو سرکار دو عالم، امام انبیاء اور اللہ کے حبیب رسول اللہ ۖ کی قبر مبارک لگتی ہے، اگرچہ سبھی زائرین آگاہ ہیں کہ اس غلاف کے اندر صرف تعویز ہیں نشانیاں ہیں، جبکہ اصل قبر میںمبارک ان کے عین پیچھے ایک تہہ خانے میں ہیں وہ تہہ خانہ جس کے اندر رسول اللہ ۖ اپنے ساتھیوں کے ساتھ آرام فرما ہیں۔ (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں