پاکستان میں قابل اعتراض مواد والی 9 لاکھ 33 ہزار 775 ویب سائٹس بلاک کردی گئیں 131

پاکستان میں قابل اعتراض مواد والی 9 لاکھ 33 ہزار 775 ویب سائٹس بلاک کردی گئیں

سلام آباد (محمداکرم عابد ) قومی اسمبلی کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پی ٹی اے نے قابل اعتراض مواد والی 9 لاکھ 33 ہزار 775 ویب سائٹس بلاک کردی ہیں، برطانیہ سے ایک سو پچپن پاونڈز کی ریکوری کا معاملہ اٹھ گیا

جب کہ حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ لندن اجلاس کے دوران مسلم لیگ(ن) کے ارکان اسمبلی نے ضرور اپنے لیڈر شہباز شریف سے پوچھا ہوگا کہ انہوں نے اثاثے کہاں سے بنائے۔ سرکاری ٹی وی ن لیگ کے دور میں اڑھائی ارب کے خسارے کا شکار تھا۔

لیگی ترجمان کو خوش ہو نا چاہئے ان کے دور میں خسارے کا شکار سرکاری ٹی وی منافع بخش بن چکا ہے ۔،پی ٹی وی کو ماہانہ ٹی وی فیس کی مد میں 7 ارب 96 کروڑ سے زائد کی آمدن ہوئی۔ اس موقع پر وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان اور مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی ۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان کی ایوان میں تحریک انصاف کی خواتین ارکان سے بھی تلخ کلامی ہوگئی تھی اور کہا کہ یہ سوال کم اور شور زیادہ کرتی ہیں ۔وزیرموصوف نے کہا کہ چیخیں چلائی گی تو سیاسی جواب تو آئے گا لیگی خاتون رکن نے سپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ ان کوتمیز سکھائیں سپیکر نے فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کردی ۔

وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تحریری جواب میں بتایا ہے کہ پی ٹی اے نے قابل اعتراض مواد والی 9 لاکھ 33 ہزار 775 ویب سائٹس بلاک کیں۔ ان ویب سائٹس میں 6 ہزار 182 پر عدلیہ مخالف مواد تھا۔ریاست کے خلاف 13 ہزار 175 ویب سائٹس پر قابل اعتراض مواد تھا۔گستاخانہ مواد والی 53 ہزار 654 ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا۔

سب سے زیادہ فحش مواد والی 8 لاکھ 31 ہزار 674 ویب سائٹس بلاک کی گئیں۔فرقہ وارانہ اور نفرت انگیزی پھیلانے والی 11 ہزار 346 ویب سائٹس بلاک ہوئیں۔ہتک آمیز مواد والی 2 ہزار 915 اور متفرق 4 ہزار 633 ویب سائٹس کو بلاک کیا گیاجبکہ 10 ہزار 196 دیگر ویب سائٹس کو بھی قابل اعتراض مواد پر بلاک کیا گیا۔ قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔ایوان میںمسلم لیگ (ن) کی ترجمان کو مخاطب ہوتے ہوئے وزیرمملکت نے کہا کہ آپ نے اس ایوان میں جو اعدادوشمار پیش کیے گیے وہ غلط ہیں۔

، مریم اورنگزیب نے کہا کہ مجھے یہ ایوان میں مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے ہدایت کی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے دونوں اطراف سے سوال اور جواب دیا جائے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ سپیکر صاحب علی محمد خان کو تمیز سکھائیں۔ جوابات میں غلط بیانی کی گئی ہے علی محمد خان نے جواب دیا کہ آپ کے دور میں ورکنگ جرنلسٹس کو ان کی رقم تک ریلیز نہیں ہوئی،ن لیگی دور میں کئی صحافیوں کی جانیں چلی گئیں، ہم صحافیوں کا تحفظ یقینی بنارہے ہیں،

سپیکر قومی اسمبلی نے مریم اورنگزیب کے سوال کے دوران تلخی بڑھنے پر اگلا سوال لے لیا۔تاہم تلخ جملوں کا تبادلہ جاری رہا۔، مریم اورنگزیب نے کہا کہ علی محمد خان ایوان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام نہ لیں۔انہوں نے جو بھی جوابات دیئے سارے جھوٹ تھے۔ ان سے جو سوال پوچھا جاتا ہے اس کا جواب ایوان میں نہیں دیتے۔

اسپیکر نے تنبیہہ کی کہ وقفہ سوالات میں صرف سوالات پر ہی فوکس رکھیں۔تحریک انصاف کی رکن عاصمہ حدید نے مداخلت کی کہ مریم اورنگزیب سوال کم اور شور زیادہ کرتی ہیں۔اورنگزیب مریم اورنگزیب اور عاصمہ حدید میں بھی تلخ کلامی ہوگئی مسلم لیگ(ن) کی ترجمان نے کہا کہ اسپیکر صاحب انہیں تمیز سکھاییں، اس خاتون کا میرے سوال سے کیا تعلق ہے۔ علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں جواب دیا کہ سرکاری ٹی وی ن لیگ کے دور میں اڑھائی ارب کے خسارے کا شکار تھا۔

مریم اورنگ زیب کو خوش ہو نا چاہئے ان کے دور میں خسارے کا شکار سرکاری ٹی وی منافع بخش بن چکا ہے تاہم خرم دستگیر کے ضمنی سوال کا وزیر مملکت علی محمد خان نے جواب دینے سے گریز کیا ۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ بتایا جائے کہ این سی اے نے جو رقم حاصل کی ہے، وہ سپریم کورٹ میں جمع ہوگئی اور یا نہیں؟ ہم این سی اے کی کارروائی کی صورت میں حکومت پاکستان کا جواب چاہتے ہیں۔وزیرمملکت نے کہا کہ اس بارے میں نیا سوال جمع کرایا جائے۔

جب کہ مریم اورنگزیب نے قومی اسمبلی اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آزادی صحافت میں پاکستان کے درجے میں تنزلی آئی ہے۔اس پر علی محمد خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ٹی وی مریم اورنگزیب کے دور میں خسارے میں تھا، پی ٹی آئی کے دور میں سرکاری ٹی وی کی 350 ملین کی بچت ہوئی اور مسلم لیگ ن کے دور میں 30 صحافی شہید ہوئے جب کہ ہمارے دور میں صرف 3 صحافی شہید ہوئے جو نہیں ہونے چاہیے تھے۔

مریم اورنگزیب نے اجلاس میں اپنی بات جاری رکھتے ہوئے سوال کیا کہ حکومت بتائے گی کہ آر ٹی آئی قانون کے تحت جو کمیشن بننا تھا اس کا کیا بنا؟اس دوارن عاصمہ حدید نے مریم اورنگزیب کے سوالات کے دوران مداخلت کی جس پر انہوں نے کہا کہ میرے سوالات کے دوران کیوں مداخلت کی جا رہی ہے؟اس موقع پر قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پلیز نو کراس ٹاک! مریم اورنگزیب صاحبہ پلیز آپ سوال کریں؟

مگر اس دوران لیگی ترجمان کی اسپیکر سے بھی تکرار ہوگئی اور انہوں نے کہا کہ آپ وزیر کو بتائیں کہ وہ میرے سوال کے دوران کراس ٹاک نہ کریں۔اسپیکر اسد قیصر نے جواب دیا کہ میڈم آپ حوصلے اور استقامت سے بات کریں، میں آپ کو ریکارڈ دکھاوں کہ آپ کتنی تقریر کرتی ہیں۔مریم اورنگزیب نے اسپیکر کو غصے سے جواب دیا کہ آپ حکومتی وزیر کو تمیز سکھائیں، ایسا نہیں ہو سکتا کہ حکومتی وزیر مجھ سے ایوان میں بد تہذیبی کریں،

حکومتی وزیر کوکوئی حق نہیں کہ ایک رکن سے بد تہذیبی کرے، یہ ہر جگہ کنٹینر والی گفتگو نہیں کر سکتے اجلاس میں وزیر انچارج برائے ہوا بازی ڈویژن غلام سرور نے ایوان کو آگاہی دی ہے کہ پی آئی اے کے ملکی اور غیر ملکی اثاثہ جات کی مالیت 78 ارب 30 کروڑ روپے ہے ۔ملکی یا غیر ملکی سٹیشنز پر پی آئی اے کا کوئی بھی گیسٹ ہاوس نہیں ہے۔

مریم اورنگزیب کا غصہ برقرار رہا اور الزام عائد کردیا کہ وزیر موصوف سوالوں کے جواب میں جھوٹ بولتے ہیں وزیرمملکت نے بتایا کہ پی ٹی وی کو اشتہارات کی مد میں 3 ارب 10 کروڑ روپے کی آمدن ہوئی۔پی ٹی وی کو ماہانہ ٹی وی فیس کی مد میں 7 ارب 96 کروڑ سے زائد کی آمدن ہوئی ۔پی ٹی وی کو مختلف ذرائع سے کل 11 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی آمدن ہوئی ہے،

وزیر مملکت پارلیمانی امور علی محمد خا ن نے کہا کہ پی ٹی وی نے گزشتہ ایک سال میں آپریشن، پروڈکشن اور دیگر مدوں میں 11 ارب 21 کروڑ روپے کے اخراجات کیے ہیں۔گزشتہ مالی سال میں ریڈیو پاکستان کو اشتہارات اور دیگر ذرائع سے 5 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد کی آمدن ہوئی۔یہ بھی بتایا گیا کہ ہنرمند نوجوان پروگرام کے تحت فاصلاتی تعلیم اور مفت تعلیم کے مواقع فراھم کئے جارھے ہیں۔ وزیر ایوی ایشن نے کہا کہ کوشش کی جاتی ھے کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر ایئر پورٹس پر مسافروں کا سامان کلیئر کردیا جائے۔

گلگت کی پرواز کو کئی سال پہلے جو حادثہ پیش آیا تھا اس کی عبوری رپورٹ آچکی ہے، سرور خان نے کہا کہ پی آئی اے کی گلگت کی پرواز حویلیاں کے علاقے میں کریش ہوئی تھی جس کی رپورٹ اسی سیشن میں ایوان میں پیش کردی جائے گی ۔

مریم اورنگزیب نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وزرا اپنے لیڈر سے پوچھیں کہ انہوں نے جو کرپٹ کرپٹ کے الزامات لگائے ان میں سے کتنے ثابت کئے۔دنیا میں ڈھنڈورا پیٹا گیا کہ ماضی کے حکمران چور تھے، اسیسٹس ریکوری یونٹ نے کتنی رقم ریکور کی ہے۔ علی محمد خان نے کہا کہ اسیسٹس ریکوری یونٹ معلومات اکٹھی کرتا ہے، پراسیکیوشن کا کام ایف آئی اے اور نیب کرتا ہے۔

گزشتہ مالی سال میں ایک کروڑ ترپن لاکھ اسیسٹس ریکوری یونٹ پر خرچہ آیا۔ اسیسٹس ریکوری یونٹ نے دیے گئے بجٹ کا صرف سولہ فیصد خرچ کیا ہے ۔برطانیہ سے ایک سو پچپن پانڈ وز کی ریکوری ہوئی ہے۔ لندن کانفرنس کے دوران مریم اورنگزیب نے ضرور اپنے لیڈر شہباز شریف سے پوچھا ہوگا کہ انہوں نے اثاثے کہاں سے بنائے۔#/S

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں