پرویز مشرف کی سزائے موت پر افواج پاکستان کا ردعمل آگیا 182

پرویز مشرف کی سزائے موت پر افواج پاکستان کا ردعمل آگیا

خصوصی عدالت کے فیصلے پر فوج میں سخت غم و غصہ، 40 سال ملک کی خدمت کرنے والے مشرف کسی صورت غدار نہیں ہوسکتے: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر پرویز مشرف کو سزائے موت دیئے جانے والے فیصلے پر پاک فوج کا انتہائی شدید ردِ عمل بھی سامنے آگیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہسابق صدرنےملک کےدفاع کے لیےجنگیں لڑی ہیں،وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواج پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب پایا جاتاہے ،پرویز مشرف ملک کے صدر ،آرمی چیف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رہ چکے ہیں،اُنہوں نے چالیس سال ملک کی خدمت کی ہے،پاکستان کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں،وہ کسی صورت بھی غدارنہیں ہوسکتے۔میجر جنرل آصف غفورکاکہناتھاکہ پرویز مشرف کےکیس سےمتعلق خصوصی کورٹ نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے ،کیس کو عجلت میں نمٹا یا گیا ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جنرل(ر)پرویز مشرف کو اپنے دفاع کا حق نہیں دیا گیا ،عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی ۔اُنہوں نے کہا کہ فوج توقع کرتی ہے کہ جنرل(ر)پرویز مشرف کو آئین کے تحت انصاف دیا جائے گا ۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سناتے ہوئے کہا تھا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اوراُن پر آئین کے آرٹیکل 6کو توڑنے کا جرم ثابت ہوتا ہے۔تین رکنی بینچ میں سے دو ججز نے سزائے موت کے فیصلے کی حمایت کی جب کہ بنچ میں شامل سندھ ہائیکورٹ کے جج نذر محمد اکبر نے فیصلے سے اختلاف کیا تھا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں