ایران نے امریکا پر جوابی وار کر دیا، فوجی اڈوں پر دو بڑے حملوں میں 80 ہلاک 109

ایران نے امریکا پر جوابی وار کر دیا، فوجی اڈوں پر دو بڑے حملوں میں 80 ہلاک

بغداد: جنرل سلیمانی کے قتل پر ایران نے امریکا پر جوابی وار کر دیا، عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر دو بڑے حملے کر دیے گئے، واشنگٹن نے حملوں کی تصدیق کر دی، ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ میزائل حملوں میں 80 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایران نے گزشتہ رات عراق میں فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے دو حملے کیے ہیں، ایرانی پاسداران انقلاب نے جاری بیان میں کہا ہے کہ انھوں نے درجنوں میزائلوں سے امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، اڈوں پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے گئے، امریکا کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا آغاز ہو چکا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ مغربی عراق میں عین الاسد میں واقع فوجی اڈے پر 9 راکٹ گرے، پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں 2 فوجی اڈے ایرانی حملوں کا نشانہ بنے، امریکی، اتحادی افواج پر درجن سے زائد بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے، ایرانی میزائلوں کا ہدف الاسد اور اربیل میں واقع فوجی اڈے تھے، حملوں میں نقصانات کا ابتدائی تخمینہ لگا رہے ہیں، امریکیوں اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔

پینٹاگون حکام کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ امریکی بیس پر حملے کی رپورٹس کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی اپنی ٹیم سے بھی مشاورت جاری ہے، امریکی وزیر خارجہ اور وزیر دفاع بھی وائٹ ہاؤس پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی ٹی وی نے خبر دی ہے کہ ایران نے عراق میں امریکی اہداف پر ایک کے بعد دوسرا حملہ کیا، بغداد کے شمال میں واقع التاجی امریکی فوجی اڈے پر 5 راکٹ گرے۔ خیال رہے کہ عین الاسد ایئر بیس عراق میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈا ہے۔

پاسداران انقلاب نے بیان میں تنبیہہ کی ہے کہ امریکا خطے سے اپنی افواج نکالے، ورنہ اسرائیل اور امریکی اتحادیوں کو بھی نشانہ بنائیں گے، امریکی اتحادی ممالک سے حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے، آیندہ کسی امریکی حملے کی صورت میں مزید سخت جواب دیں گے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل حملے کے بعد بغداد پر جیٹ طیاروں کی پروازیں شروع ہو گئی ہیں، امریکی حکام نے امریکی ایئر لائنز پر خلیجی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کو حملوں کے بعد آج قوم سے خطاب کرنا تھا، اوول آفس میں تیاریاں بھی کی گئیں تاہم، یہ خطاب ملتوی کر دیا گیا ہے، وائٹ ہاؤس حکام نے صدر ٹرمپ کو ایرانی حملوں سے متعلق بریفنگ دی، اور قومی سلامتی کی اپنی ٹیم سے مشاورت کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں