بازوئے قاتل کا زور آزمانے والا رام پرشاد بسمل 8

بازوئے قاتل کا زور آزمانے والا رام پرشاد بسمل

بھارت میں شہریت کے متنازع قانون اور مودی کی بدمعاشی کے خلاف تمام ریاستوں میں احتجاج جاری ہے اور اجتماعات کے دوران سنجیدہ اور باشعور شہری ان نعروں اور ترانوں سے مودی سرکار اور اس کے حامیوں کو للکار رہے ہیں جو کروڑوں انسانوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

یہ شعر بسمل شاہ جہاں پوری کی ایک پابند نظم کا مطلع ہے۔

شاہ جہان پور (یو پی) میں آنکھ کھولنے والے رام پرشاد بسمل شاہ جہاں پوری ساری زندگی انگریزوں کے خلاف میدانِ عمل میں سرگرم رہے اور اسی پاداش میں موت کی سزا پائی۔

1893 میں ہوش سنبھالنے کے بعد اپنے وطن کو برطانیہ کی غلامی سے آزاد دیکھنے کی آرزو کرنے والے بسمل نے آزادی کے متوالوں سے رابطہ کیا اور انگریزوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لینے لگے. 1918 میں ایک سازش کیس میں بسمل شاہ جہاں پوری کا بھی نام شامل تھا جس کے بعد انھیں روپوشی اختیار کرنا پڑی۔

کہتے ہیں وہ ماہر نشانہ باز تھے۔ 1925 میں انگریزوں کے خلاف ایک کارروائی میں حصّہ لیتے ہوئے گرفتار ہوئے۔ مقدمہ چلا اور انگریز سرکار نے انھیں 1927 میں پھانسی دے دی۔

شعر و ادب کا عمدہ ذوق رکھتے تھے اور خود بھی شاعری کرتے تھے۔ مقدمے کی کارروائی کے دوران ان کی کئی نظمیں مشہور ہوئیں۔ تاہم ان کا زیادہ کلام محفوظ نہ رہ سکا۔ پیشِ نظر نظم کا پہلا شعر بہت مشہور ہوا، اسے بعض لوگ مولانا ظفر علی خان سے منسوب کرتے ہیں، لیکن یہ غلط ہے۔ یہ بسمل شاہ جہاں‌ پوری کا وہ شعر ہے جسے تحریر سے لے کر تقریر تک ہر خاص و عام نے برتا ہے۔

کبھی یہ نظم انگریز سرکار کے خلاف آزادی کا نعرہ تھی اور آج دنیا بھر میں امن کے لیے خطرہ بن جانے والے مودی کو اس کے ذریعے للکارا جارہا ہے۔

بسمل شاہ جہاں پوری کا یہ کلام آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

وقت آنے دے بتا دیں گے، تجھے اے آسماں
ہم ابھی سے کیا بتائیں، کیا ہمارے دل میں ہے

اے شہید ملک و ملت، تیرے جذبوں کے نثار
تیری قربانی کا چرچا، غیر کی محفل میں ہے

ساحلِ مقصود پر لے چل، خدارا ناخدا
آج ہندوستان کی کشتی، بڑی مشکل میں ہے

دور ہو اب ہند سے تاریکیِ بغض و حسد
بس یہی حسرت، یہی ارماں ہمارے دل میں ہے

وہ نہ اگلے ولولے ہیں اب، نہ ارمانوں کی بھیڑ
ایک مٹ جانے کی حسرت، اب دلِ بسمل میں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں