خود کار ڈرافٹ 33

دل کی ’نارمل دھڑکن‘ کی تعریف اب نارمل نہیں رہی

کیلیفورنیا: حالتِ سکون یا ریسٹنگ میں دل کی دھڑکن کی تعریف 70 یا 72 دھڑکن فی منٹ کہی جاتی ہے لیکن اکثر افراد میں یہ شرح نارمل ہیں اور انفرادی طور پر اس تعداد میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔

اس ضمن میں قریباً 70 ہزار افراد کو اسمارٹ واچ پہنا کر ایک عرصے تک ان کے دل کی دھڑکن کا جائزہ لیا گیا تو ایک سے دوسرے فرد میں 70 دھڑکن فی منٹ تک کا فرق بھی دیکھا گیا۔

اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ دل کی نارمل دھڑکن 70 سے 72 دھڑکن فی منٹ کو ہی ایک معیار مانا جاتا رہا اور اسے نصاب میں بھی پڑھایا جاتا رہا ہے لیکن کسی بھی شخص کے حالتِ آرام میں بھی دل کی فی منٹ دھڑکن میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ اس طرح کسی فرد کے دل کی دھڑکن کا موازنہ دیگر عام آبادی سے کرکے اس شخص کی کیفیات کے متعلق خاصی معلومات جمع کی جاسکتی ہیں۔

کیلی فورنیا میں واقعہ اسکرپس انسٹی ٹیوٹ کے ماہر جورجیو کوئر کہتے ہیں کہ ’دل کی جو دھڑکن آپ کے لیے نارمل ہے وہ کسی اور کے لیے مرض ہوسکتی ہے، اس طرح طویل عرصے تک دل کی دھڑکن کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر کسی بھی شخص کی صحت اور کیفیت کے بارے میں بہت کچھ سمجھا جاسکتا ہے۔‘

کچھ ڈاکٹروں کا اصرار ہے کہ اگر حالتِ آرام میں کسی شخص کے دل کی دھڑکن بتدریج بڑھ رہی ہے تو وہ کسی انفیکشن کی علامت ہوسکتی ہے۔ لیکن حالیہ تحقیق سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ حالتِ آرام میں دل کی دھڑکن کا اتار چڑھاؤ کسی بھی فعلیاتی تبدیلی کی وجہ ہوسکتا ہے اور جلد یا بدیر اس راز کو بھی سمجھ لیا جائے گا۔

اس سے قبل ہمیں بتایا جاتا رہا کہ اگر بھاگ دوڑ نہیں ہورہی تو عام طور پر دل ایک منٹ میں اوسطاً 70 مرتبہ دھڑکتا ہے لیکن کئی صحتمند افراد میں یہ شرح بہت بلند دیکھی گئی۔ اسی طرح حاملہ خواتین میں بھی دل کی دھڑکن اوسط سے زیادہ ہوتی ہے۔ امراضِ قلب کے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ دل کی دھڑکن 65 فی منٹ سے کم اور 90 فی منٹ سے زیادہ ہو تو یہ امراضِ قلب کی نشانی ہے۔

ڈاکٹروں کی ٹیم نے اسمارٹ واچ کے ذریعے 90 ہزار افراد کا جائزہ لیا ہے۔ بعض افراد میں دل کی دھڑکن 40 تک تھی تو کچھ لوگوں میں 109 دھڑکن فی منٹ کی شرح دیکھی گئی لیکن عمر، جنس، بی ایم آئی اور نیند وغیرہ مجموعی طور پر صرف 10 فیصد اثر ڈال سکتی ہے۔

تاہم اکثر افراد میں نوٹ کیا گیا کہ ان کے دل کی دھڑکن میں ایک سال کے دوران 10 دھڑکن کم یا زیادہ کا فرق ہی سامنے آیا ہے۔ سائنس دانوں نے اس مطالعے کو مزید آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے تاکہ طویل اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں