دریائے سندھ ایک بار پھر بپھر گیامتعدد دیہات دریا برد ہوگئے 51

دریائے سندھ ایک بار پھر بپھر گیامتعدد دیہات دریا برد ہوگئے

ڈیرہ اسماعیل خان ( غنچہ نیوز)خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں دریائے سندھ ایک بار پھر بپھر گیا ہے ،متعدد دیہات دریا برد ہوگئے ۔

دریا میں پانی کا بھاﺅ تیز ہونے کے باعث کناروں پر زمین کے کٹاﺅ کا عمل بھی تیز ی سے جاری ہے ۔ ڈیرہ کے نواحی کچہ کے علاقوں جھوک موہانہ، جھوک شارت،جھوک کلیال، جھوک ڈار ،جھوک ابھیجڑ میں کے قریب دریائے سندھ کے کٹاﺅ کے باعث علاقے میں لڑکیوں کے گورنمنٹ پرائمری سکول،

تین سو مکانات ،بجلی کے کھمبے ، متعد د جانور دریائے سندھ کی نذر ہوگئے ہے۔علاقے میں موجود واحد گورنمنٹ پرائمری اسکول کے دریار برد ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ زمین کے کٹاﺅ کے باعث علاقے میں ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔

لوگوں نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کردی ہے ،ہزاروں کی آبادی کا علاقہ جھک موہانہ دریا سندھ کی تیز موجوں کی زد میں ہے لیکن ضلعی انتظامیہ اور عوامی نمائندے صورتحال سے نظریں چرا رہے ہیں۔

علاقہ متاثرہ زمیندار عاشق بوسین اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا کہ صوبائی حکومت نے تیس کروڑ اور وفاقی حکومت نے ستر کروڑ روپے کی خطیر رقم منظور مارجل بند کی تعمیر کے لئے منطور کی ۔

وفاقی حکومت فنڈز دینے کے لئے تیار رہی لیکن صوبائی پیچھے ہٹ گئی ، دپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام موقع کا دورہ مکمل کرچکے ہیں ۔اس سلسلے میں پی سی ون بھی تیار کرلیاگیا لیکن اس کے باوجود کوئی عمل درآمد نہیں کیاگیا ،

حکومت اور مقامی منتخب نمائندوں کی عدم دلچسپی مقامی افراد دربدر ہوکر رہ گئے ہیں اور کوئی وسیلہ اور روزگار نہ ہونے کے باعث فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں ۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں