خشیت الہی کسے کہتے ہیں 34

خشیت الہی کسے کہتے ہیں

جس سے اللہ رب العزت کی عظمت دل میں بیٹھے
”خشوع” دل کی وہ کیفیت ہے جس سے اللہ تعالی کی عظمت دل میں بیٹھے۔ اللہ رب العزت کی ہیت دل میں بیٹھے۔

اللہ رب العزت کی ایسی محبت دل میں آجائے کہ انسان رب کریم کی ناراضگی کے تصور سے کانپ اٹھے، انسان اس کی محبت میں اداس ہو جائے، پس ایسا انسان جس کے دل میں خشیت الہی پیدا ہو جائے۔

وہ گناہوں کی طرف قدم نہیں اٹھاتا۔ اعضائے انسانی پر خشیت کا اثر، مفردات القرآن میں لکھا ہے۔ ترجمہ: خشیت، تضرع، گڑگڑانے اور رونے کا نام ہے۔ اور اس کا اثر انسان کیاعضاء پر پڑتا ہے یہ خشیت انسان کے دل میں ہوتی ہے جبکہ اس کا اثر انسان کے جوارح پر نظر آتا ہے

جیسے آگ جلے تو دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اور درخت لگے تو اس پر پھل نکلتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح جس دل کے اندر خشیت ہو۔ اس کے اعضاء پر اس خشیت کے آثار نظر آتے ہیں
کیوں دل جلوں کے لب پہ ہمیشہ فغاں نہ ہو
ممکن نہیں کہ آگ جلے اور دھواں نہ ہو

یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دل میں آگ لگی ہو اور اس کا دھواں ہی کسی کو محسوس نہ ہو
آہیں بھی نکلتی ہیں گر دل میں لگی ہو
ہو آگ تو موقوف دھواں نہیں ہوتا
جہنم کی آگ کی شدت، ارشاد نبوی ۖ ہے: ترجمہ: وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا جو اللہ کی خشیت سے رو پڑا۔

جہنم کی آگ کودنیا کی آگ کی طرح مت سمجھنا جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ سخت اور گرم ہے جہنم کی آگ میں اتنی شدت ہے کہ اس آگ کا ایک ذرا اگر طلوع آفتاب کی جگہ پر رکھ دیا جائے اور کوئی بندہ غروب آفتاب کی جگہ پر موجود ہو تو اس آگ کے ذرا کی شدت اور گرمی سے وہ بندہ وہاں پر بھی جل جائے گا۔

دوزخیوں کے پسینے کے قطرے اس قدر گرم ہوں گے کہ اگر ان کو احد کے پہاڑ کے اوپر ڈال دیا جائے تو وہ پہاڑ بھی پگھل جائے۔ اسی لیے حدیث پاک میں آیا ہے۔ ترجمہ، یہ تمہاری دنیا کی آگ جہنم کی آگ کے ستر حصوں میں سے ایک ہے۔ دنیا کی آگ اور جہنم کی آگ کے بارے میں چند باتیں زیر نظر رہیں۔

ہو سکتا ہے کہ ان کو پڑھ کر تمہاری زندگی میں تبدیلی آجائے۔ دنیا کی آگ عام اسباب کی آگ کے بارے میں چند باتیں زیر نظر رہیں۔ دنیا کی آگ عاماسباب کے تحت نیک اور بد سب کو جلاتی ہے۔ اللہ رب العزت ے ایک پیغمبر حضرت جرجیس علیہ السلام کو اس آگ نے جلا دیا تھا۔

دنیا کی آگ نے حضرت موسی علیہ السلام کی زبان کو جلا دیا تھا۔ اسی طرح نیک عورت کھانا پکا رہی ہو اور بے احتیاطی سے اگر اس کا ہاتھ آگ میں پڑ جائے تو اس کا ہاتھ بھی جل جائے گا۔ کیونکہ دنیا کی آگ نیک اور گناہ گار میں تمیز نہیں کرتی۔

مگر دوزخ کی آگ فقط مجرموں، گناہ گاروں اور زنا کاروں کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ صرف اللہ کے نافرمانوں کو جلائے گی۔ نیک اور متقی لوگوں کو جہنم کی آگ کچھ نہیں کہہ سکے گی۔ دنیا کی آگ پانی سے بجھ جاتی ہے مگر جہنم کی آگ گناہ گار بندے کی آنکھ سے نکلے ہوئے آنسوؤں سے بجھا کرتی ہے۔

دنیا کی آگ کو ہوا بھڑکاتی بھی ہے۔ اور اگر کبھی تیز ہوا ہو تو بجھا بھی دیا کرتی ہے۔ اسی طرح مومن جب پل صراط سے گزریں گے تو جہنم کہے گی۔ اے مومن! تو جلدی گزر، تیرے ایمان کے نور نے تو میری آگ کو بھی بجھا دیا ہے۔

(حدیث پاک) نبی اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا: جو آدمی فجر اور مغرب کی نماز کے بعد سات مرتبہ (اللہم اجرنی من النار) پڑھنے کا معمول بنا لے۔ تو اللہ رب العزت اس کو جہنم کی آگ سے پناہ عطا فرما دیتے ہیں۔ حقیقی مومن کون؟ ارشاد باری تعالی ہے۔

ترجمہ (سورة الحدید: ١٦) کیا ایمان والوں کے لیے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی یاد سے ڈر جائیں۔ اور جو اللہ نے نازل کیا۔ سبحان اللہ، پروردگار عالم کیسے عجیب انداز سے ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا۔

یعنی یہ کام تو پہلے سے ہو جانا چاہیے تھا۔ اب تو اتنی مدت اس کے بغیر گزر گئی ہے حضرت امام رازیرحمة اللہ علیہ اس آیت کے تحت تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں، ترجمہ: مومن حقیقت میں اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا،

جب تک کہ اس کے دل میں (اندر) خشوع پیدا نہیں ہوتا تفسیر روح البیان میں لکھا ہے۔ ترجمہ: جب میں رات کو اندھیرے میں اٹھتا ہوں کہ اپنی اونٹنی کس دوں تو وہ اونٹنی کسی غمناک مررد کی طرح آہیں بھرتی ہے۔ (حدیث پاک) جیسے کوئی غمناک مرد آہیں بھر رہا ہوتا ہے۔

خاموش رہ کے دل کا نکلتا نہیں غبار
اے عندلیب! بول دہائی خدا کی ہے
تڑپنا تلملانا ہجر میں رو رو کے مر جانا
ہے شیوہ عاشقی میں یہ مریضان محبت کا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں