میں کیا ہوں 32

میں کیا ہوں

روشنی کے شہزادے کے نام
جیسے کہ کالم کا موضوع,, میں کیا ہوں,,ایک ایسا موضوع کہ آپ سب کے زہن میں پہلا سوال یہ آئے گا کہ ہم سب انسان ہیں اور کیا ہیں.

بے شک ہم سب انسان ہیں لیکن ہم نے کبھی سوچا ہیکہ ہم اس درجے پے فائز ہیں جس کی وجہ سے ہمیں اشرف المخلوقات کہا گیا. کیا ہم وہ کر رہے ہیں جس کے لئے ہمیں بھیجا گیا ہے. کیا ہم میں ایک انسان ہونے کے ناطے انسانیت پاء جاتی ہے,

لیکن نہیں ہم وہ انسان بن گئے ہیں کہ سامنے والے پے سوال کرتے ہیں کہ بھء تم کیا ہو اپنیاندر جھانک کر ہم کبھی خود سے یہ سوال نہیں کرتے کہ ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں. میری ماں اکثر مجھے کہتی ہیں کہ بیٹا دنیا میں انسان تو موجود ہیں

لیکن کسی انسان نے خود کا یہ نہیں سوچاکہ وہ اپنے اندر کتنا انسان ہے اور شرمندگی پہلے خود سے ہونی چاہئے بعد میں دوسروں کی غلطیوں پینظر رکھیں. لیکن ہم اس معاشرے کے افراد ہیں جہاں دوسروں کو زلیل کرنا ہمیں تسکین دیتا ہے

اور اپنا آپ گندگی اور غلاظت کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں. کہتے ہیں اصلاح خود سے شروع کی جائے خود کو دیکھا اور پرکھا جائے نہ کہ ہم دوسروں سے اصلاح کی شروعات کریں نصیحت وہی پر اثر ہوتی ہے جس پے خود تیرا عمل کیا گیا

نہ حکم دیا جائے کہ لازمی کر. زندگی کے اس سفر میں ہمیشہ سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے لیکن اس سیکھنے میں بھی بڑی قربانیاں موجود ہوتی ہیں ہر کوء سیکھتا ہے لیکن ہر کوء عمل نہیں کرتا. یہ جو سیکھنا ہے نہ یہ بھی ایک زمداری ہے ہم پے کہ سیکھ تو گئے اپنے نفس کو کتنا سیکھاتے ہیں.

ہماری خود کی اصلاح کتنی ہوء ہے کیا ہم نے جو سیکھا اس پے عمل کیا… یہ چند سوال ایک حرکت پیدا کر دیتے ہیں. ہم جس درجے پے فائز ہیں آگے سوال بھی درجہ دیکھ کے کیا جائے گا . محمد کا امتی ہونا ہمارے لئے اعزاز ہے لیکن کل سوال میں میں محمد امتی ناکام رہا تو, ہماری زندگیوں میں ہزاروں لوگ گزر گئے جا رہے ہیں

لیکن ہم پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے کہ ہم کہاں ٹھہرے ہیں. موت نہ وقت دیکھتی ہے نہ یہ دیکھتی ہے کہ آپ نیابھی توبہ نہیں کی, موت آجاتی ہے اور خالی ہاتھ ہمیں جانا ہوتا ہے کہ یہاں تک توبہ کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا, ,مٹی کے ایک گڑھے میں رکھ دیے جاتے ہیں

خالی ہاتھ. نہ دنیا نہ دولت نہ شہرت نہ خوبصورتی نہ واہ واہ کچھ کام نہیں آتا. جس مقصد کے لئے بھیجے گئے تھے وہ تو ہم بھول ہی گئے. ,,روشنی کے شہزادے نے ایک دفعہ مجھے سمجھاتے ہوئے کہا کہ گناہ کی سیڑھیوں سے تم جب خود اترو گی نہ وہی تیری اصلاح ہوگی نہ کہ تم سیڑھیوں پے ٹھہری رہو

اور کوء تمہیں اتارے بلکہ ایک بات جان لو کم لوگ مخلص ہوتے ہیں جو پہلے اپنی اصلاح کرتے ہیں بعد میں دوسروں کی. اور یاد رکھنا خود کی اصلاح جب کروگی نہ تو تم خود اورتیری روح کو تسکین حاصل ہوگی اور تیری ہر بات پراثر ہوگی کیونکہ سچاء اثر رکھتی ہے,,,

اور بے شک روشنی کے شہزادے نے کیا خوب کہا تھا.ہم دوسروں کی غلطیوں کو پکڑنے میں اتنے مصروف ہیں کہ اپنا آپ یاد ہی نہیں رہا. صبح ہورہی ہے شام ہو رہی ہے کبھی سوچا ہی نہیں کہ زندگی کے دن کتنے مختصر ہورہے ہیں

اور ایک دن ہم سب نے جواب دہ ہونا ہے. اور ہماری کچھ تیاری نہیں ہے,, کل دیکھا جائے گا,, پے سب چھوڑ دیا ہے لیکن ہوسکتا ہے کل تو ہو اور ہم نہ ہوں اس کل سے آج بہتر ہینہ جس میں ہم موجود ہیں توبہ کا دروازہ کھلا ہے

جب توبہ کرو اللہ تبارک و تعالی معاف فرمائیں گے لیکن نہیں ہم اتنی پستی کی طرف ہیں کہ نام شہرت دولت عزت گاڑی بنگلہ چاہیے اور بس…. جو ہمارا مقصد نہیں ہے ہم کتنے دور ہیں اپنے آپ سے یہ بھی ایک گناہ ہیسارے دن کی مصروفیات کے بعد رات کو ہم اگر سوچیں کہ ہم نے کیا نیکی کا کام کیا ہے

تو خود بخود شرمندگی ہوگی اور شرمندہ پونے سے پہلے ہمیں سرخرو کرنا ہوگا خود کو تاکہ ایسا نہ ہو موت کا اچانک حملہ ہو اور ہم مارے جائیں.. بلکہ عزم کریں خود سے سوال کریں کہ میں کیا ہوں اس دنیا میں میرے آنے کا مقصد کیا ہے اور ہم کر کیا رہے ہیں,,, یہ ایک سوال آپ کی زندگی کو بدل دے گا انشااللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں